Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

اِرۡجِعۡ اِلَیۡہِمۡ فَلَنَاۡتِیَنَّہُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَہُمۡ بِہَا وَ لَنُخۡرِجَنَّہُمۡ مِّنۡہَاۤ اَذِلَّۃً وَّ ہُمۡ صٰغِرُوۡنَ﴿۳۷﴾

۳۷۔ (اے ایلچی) تو انہیں کی طرف واپس پلٹ جا، ہم ان کے پاس ایسے لشکر لے کر ضرور آئیں گے جن کا وہ مقابلہ نہیں کر سکیں گے اور ہم انہیں وہاں سے ذلت کے ساتھ ضرور نکال دیں گے اور وہ خوار بھی ہوں گے۔


قَالَ یٰۤاَیُّہَا الۡمَلَؤُا اَیُّکُمۡ یَاۡتِیۡنِیۡ بِعَرۡشِہَا قَبۡلَ اَنۡ یَّاۡتُوۡنِیۡ مُسۡلِمِیۡنَ﴿۳۸﴾

۳۸۔ سلیمان نے کہا: اے اہل دربار! تم میں سے کون ہے جو ملکہ کا تخت میرے پاس لے آئے قبل اس کے کہ وہ فرمانبردار ہو کر میرے پاس آئیں؟

38۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کا یہ سوال بتاتا ہے کہ ان کے درباریوں میں ایسے لوگ موجود تھے جو اس قسم کے کارنامے انجام دے سکتے تھے۔


قَالَ عِفۡرِیۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ اَنَا اٰتِیۡکَ بِہٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِکَ ۚ وَ اِنِّیۡ عَلَیۡہِ لَقَوِیٌّ اَمِیۡنٌ﴿۳۹﴾

۳۹۔ جنوں میں سے ایک عیار نے کہا: میں اسے آپ کے پاس حاضر کر دیتا ہوں قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں اور میں یہ کام انجام دینے کی طاقت رکھتا ہوں، امین بھی ہوں۔

39۔ بیت المقدس سے ملک سبا کا فاصلہ ڈیڑھ ہزار میل سے کم نہ تھا۔ کسی بشری طاقت کے لیے ممکن نہ تھا کہ چند گھنٹوں میں یہ کام انجام دے، لہٰذا جن سے مراد کوئی بشر نہیں، جیسا کہ بعض عقلیت پسند لکھتے ہیں۔


قَالَ الَّذِیۡ عِنۡدَہٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡکِتٰبِ اَنَا اٰتِیۡکَ بِہٖ قَبۡلَ اَنۡ یَّرۡتَدَّ اِلَیۡکَ طَرۡفُکَ ؕ فَلَمَّا رَاٰہُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَہٗ قَالَ ہٰذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّیۡ ۟ۖ لِیَبۡلُوَنِیۡۤ ءَاَشۡکُرُ اَمۡ اَکۡفُرُ ؕ وَ مَنۡ شَکَرَ فَاِنَّمَا یَشۡکُرُ لِنَفۡسِہٖ ۚ وَ مَنۡ کَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیۡ غَنِیٌّ کَرِیۡمٌ﴿۴۰﴾

۴۰۔ جس کے پاس کتاب میں سے کچھ علم تھا وہ کہنے لگا: میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کر دیتا ہوں، جب سلیمان نے تخت کو اپنے پاس نصب شدہ دیکھا تو کہا: یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفر ان اور جو کوئی شکر کرتا ہے وہ خود اپنے فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب یقینا بے نیاز اور صاحب کرم ہے۔

40۔ یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ پلک جھپکنے کی دیر میں کیسے ممکن ہوا کہ کوئی ڈیڑھ ہزار میل کے فاصلے سے یہ تخت حاضر کرے؟ ایسا تو آج کے جوہری دور میں بھی ممکن نہیں ہے۔ یہ سوال اللہ کی کُنۡ فَیَکُوۡنِی طاقت کے حوالے سے ہی نہیں بلکہ سائنسی نقطہ نظر سے بھی درست نہیں ہے، کیونکہ بقول آئن سٹائن: ”انسان کو مکان و زمان میں محدود سمجھنا ایک مفروضہ ہے“۔ نیز نظریہ اضافت کے لحاظ سے زمان ہر جگہ یکساں نہیں ہے۔ روشنی کی رفتار سے سفر کرنے والے کے دس منٹ ساکن لوگوں کے سینکڑوں سالوں کے برابر ہوتے ہیں، جیسا کہ مسئلہ معراج کی بحث میں ہم نے بیان کیا ہے، لیکن ہم اس مسئلے کی توجیہ نظریہ اضافت وغیرہ سے نہیں کرتے۔ قرآن کی صراحت موجود ہے کہ یہ قدرت جس شخص کے پاس تھی اس کی بنیاد علم تھا اور اس علم کا مأخذ الۡکِتٰبُ تھا۔ اگرچہ ہم کو اس علم اور الۡکِتٰبُ کی نوعیت کا علم نہیں ہے، تاہم اس آیت میں علم کی طاقت کی طرف اشارہ ہے۔ چنانچہ اس شخص نے اپنے دعویٰ کو جامۂ عمل پہناتے ہوئے چشم زدن میں اس عظیم تخت کو حاضر کر دیا۔ اس علمی کارنامے کو حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ کا فضل قرار دیا، تخت کے حصول کو نہیں۔ انسان کو اب تک دور سے آواز اور تصاویر چشم زدن میں حاضر کرنے کا طریقہ آ گیا ہے۔ اجسام کو حاضر کرنے کا طریقہ ابھی نہیں آیا۔ آیت سے معلوم ہوا کہ اس علم کا وجود ہے جس سے اجسام کو دور سے چشم زدن میں حاضر کرنا ممکن ہے۔


قَالَ نَـکِّرُوۡا لَہَا عَرۡشَہَا نَنۡظُرۡ اَتَہۡتَدِیۡۤ اَمۡ تَکُوۡنُ مِنَ الَّذِیۡنَ لَا یَہۡتَدُوۡنَ﴿۴۱﴾

۴۱۔ سلیمان نے کہا: ملکہ کے تخت کو اس کے لیے انجانا بنا دو، ہم دیکھیں کیا وہ شناخت کر لیتی ہے یا شناخت نہ کرنے والوں میں سے ہوتی ہے۔

41۔ یہ جانچنا کہ سمجھ جاتی ہے کہ یہ اسی کا تخت ہے یا نہیں، ممکن ہے مقصد یہ ہو کہ وہ اس معجزے کو نبوت کی دلیل سمجھتی ہے یا نہیں؟


فَلَمَّا جَآءَتۡ قِیۡلَ اَہٰکَذَا عَرۡشُکِ ؕ قَالَتۡ کَاَنَّہٗ ہُوَ ۚ وَ اُوۡتِیۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِہَا وَ کُنَّا مُسۡلِمِیۡنَ﴿۴۲﴾

۴۲۔ جب ملکہ حاضر ہوئی تو (اس سے) کہا گیا: کیا آپ کا تخت ایسا ہی ہے ؟ ملکہ نے کہا: گویا یہ تو وہی ہے، ہمیں اس سے پہلے معلوم ہو چکا ہے اور ہم فرمانبردار ہو چکے ہیں۔

42۔ یعنی ہمیں حضرت سلیمان علیہ السلام کی حقانیت اور رسالت کا پہلے ہی سے علم ہو چکا تھا اور ہم اس معجزے کو دیکھنے سے پہلے اسلام قبول کر چکے تھے۔


وَ صَدَّہَا مَا کَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ اِنَّہَا کَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ کٰفِرِیۡنَ﴿۴۳﴾

۴۳۔ اور سلیمان نے اسے غیر اللہ کی پرستش سے روک دیا کیونکہ پہلے وہ کافروں میں سے تھی۔

43۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی شان و شوکت حکومت و اقتدار کے باوجود آپ علیہ السلام کے تواضع اور اخلاص کی پہلے ہی ملکہ معترف ہو چکی تھی۔ اب غیر اللہ کی پرستش ترک کرنے کے لیے حضرت سلیمان علیہ السلام کا ایک حکم کافی رہا اور کفر کا مذہب ترک کر کے توحید کے زمرے میں داخل ہو گئی۔


قِیۡلَ لَہَا ادۡخُلِی الصَّرۡحَ ۚ فَلَمَّا رَاَتۡہُ حَسِبَتۡہُ لُجَّۃً وَّ کَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَیۡہَا ؕ قَالَ اِنَّہٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنۡ قَوَارِیۡرَ ۬ؕ قَالَتۡ رَبِّ اِنِّیۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِیۡ وَ اَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَیۡمٰنَ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ﴿٪۴۴﴾

۴۴۔ ملکہ سے کہا گیا: محل میں داخل ہو جائیے، جب اس نے محل کو دیکھا تو خیال کیا کہ وہاں گہرا پانی ہے اور اس نے اپنی پنڈلیاں کھول دیں، سلیمان نے کہا: یہ شیشے سے مرصع محل ہے، ملکہ نے کہا: میرے رب! میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا اور اب میں سلیمان کے ساتھ رب العالمین اللہ پر ایمان لاتی ہوں۔

44۔ قصر سلیمانی کا صحن شفاف شیشوں سے بنا ہوا تھا اور نیچے پانی کا تالاب تھا یا دیکھنے میں پانی کی طرح نظر آ رہا تھا، اس لیے ملکہ نے اپنی پنڈلیاں کھول دیں۔ جب معلوم ہوا کہ یہ شیشہ ہے تو حضرت سلیمان علیہ السلام کی قوت و سلطنت کو دیکھ کر صرف حضرت سلیمان علیہ السلام کے ہی نہیں، بلکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی معیت میں اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کیا۔


وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰی ثَمُوۡدَ اَخَاہُمۡ صٰلِحًا اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ فَاِذَا ہُمۡ فَرِیۡقٰنِ یَخۡتَصِمُوۡنَ﴿۴۵﴾

۴۵۔ اور ہم نے (قوم) ثمود کی طرف ان کی برادری کے صالح کو (یہ پیغام دے کر) بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو تو وہ دو فریق بن کر جھگڑنے لگے۔

45۔ حضرت صالح علیہ السلام کی دعوت کے نتیجے میں دو فریق بن گئے۔ ایک ایمان لانے والوں کا، دوسرا انکار کرنے والوں کا۔ جیسا کہ دعوت حق کے نتیجے میں حق و باطل کا ہمیشہ آمنا سامنا ہوتا رہا ہے، چنانچہ مکہ میں یہی کچھ ہو رہا تھا۔


قَالَ یٰقَوۡمِ لِمَ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ بِالسَّیِّئَۃِ قَبۡلَ الۡحَسَنَۃِ ۚ لَوۡ لَا تَسۡتَغۡفِرُوۡنَ اللّٰہَ لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ﴿۴۶﴾

۴۶۔ صالح نے کہا: اے میری قوم! نیکی سے پہلے برائی کے لیے کیوں عجلت کرتے ہو؟ تم اللہ سے معافی کیوں طلب نہیں کرتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے؟

46۔ اللہ سے رحمت طلب کرنے کی بجائے عذاب طلب کرتے ہو؟ نادانو! اللہ سے تمہیں مغفرت طلب کرنی چاہیے تھی۔