Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

قَالَ کَلَّا ۚ فَاذۡہَبَا بِاٰیٰتِنَاۤ اِنَّا مَعَکُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ﴿۱۵﴾

۱۵۔ فرمایا: ہرگز نہیں! آپ دونوں ہماری نشانیاں لے کر جائیں کہ ہم آپ کے ساتھ سنتے رہیں گے۔


فَاۡتِیَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۱۶﴾

۱۶۔ آپ دونوں فرعون کے پاس جائیں اور (اس سے) کہیں: ہم رب العالمین کے رسول ہیں،

16۔ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ: اِنَّا جمع اور رَسُوۡلُ مفرد! اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ چونکہ دونوں کی رسالت بھی ایک اور بھائی ہونے کی وجہ سے یک جان دو قالب تھے۔


اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ﴿ؕ۱۷﴾

۱۷۔ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے ۔

17۔ فرعون نے بنی اسرائیل کو صدیوں تک غلام بنائے رکھا تھا۔ اس لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا بنیادی مقصد بنی اسرائیل کو فرعون کی اسارت سے نجات دلانا تھا۔


قَالَ اَلَمۡ نُرَبِّکَ فِیۡنَا وَلِیۡدًا وَّ لَبِثۡتَ فِیۡنَا مِنۡ عُمُرِکَ سِنِیۡنَ ﴿ۙ۱۸﴾

۱۸۔ فرعون نے کہا: کیا ہم نے تجھے بچپن میں اپنے ہاں نہیں پالا؟ اور تو نے اپنی عمر کے کئی سال ہمارے ہاں بسر کیے۔


وَ فَعَلۡتَ فَعۡلَتَکَ الَّتِیۡ فَعَلۡتَ وَ اَنۡتَ مِنَ الۡکٰفِرِیۡنَ﴿۱۹﴾

۱۹۔ اور تو کر گیا اپنی وہ کرتوت جو کر گیا اور تو ناشکروں میں سے ہے۔


قَالَ فَعَلۡتُہَاۤ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّیۡنَ ﴿ؕ۲۰﴾

۲۰۔ موسیٰ نے کہا: ہاں اس وقت وہ حرکت مجھ سے سرزد ہو گئی تھی اور میں خطاکاروں میں سے تھا۔


فَفَرَرۡتُ مِنۡکُمۡ لَمَّا خِفۡتُکُمۡ فَوَہَبَ لِیۡ رَبِّیۡ حُکۡمًا وَّ جَعَلَنِیۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِیۡنَ﴿۲۱﴾

۲۱۔اسی لیے جب میں نے تم لوگوں سے خوف محسوس کیا تو میں نے تم سے گریز کیا پھر میرے رب نے مجھے حکمت عنایت فرمائی اور مجھے رسولوں میں سے قرار دیا۔


وَ تِلۡکَ نِعۡمَۃٌ تَمُنُّہَا عَلَیَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ﴿ؕ۲۲﴾

۲۲۔ اور تم مجھ پر اس بات کا احسان جتاتے ہو کہ تم نے بنی اسرائیل کو غلام بنائے رکھا ہے؟ (یہ تو غلامی تھی احسان نہیں تھا)۔

18 تا22۔ فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی رسالت پر دو اعتراض اٹھائے: اول یہ کہ ہم نے تجھے پالا پوسا ہے۔ دوم یہ کہ تو نے ہم کو اس کا صلہ یہ دیا کہ ہمارا بندہ تو نے قتل کیا۔

حضرت موسیٰ نے علیہ السلام جواب میں پہلی بات کے بارے میں کہا کہ وہ قتل عمد نہ تھا بلکہ ایک سہو تھا جو مجھ سے صادر ہوا۔ لیکن دوسری بات کا جواب دیتے ہوئے الزام خود فرعون پر عائد کیا کہ تیرے گھر میں پرورش پانے کی نوبت خود تیرے ظلم و ستم کی وجہ سے آئی کہ میری والدہ نے تیرے ہی خوف سے مجھے دریا میں ڈال دیا تھا، ورنہ میں اپنے ہی گھر میں پرورش پاتا۔


قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَ مَا رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ؕ۲۳﴾

۲۳۔ فرعون نے کہا: اور رب العالمین کیا ہے؟


قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا ؕ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِیۡنَ﴿۲۴﴾

۲۴۔ موسیٰ نے کہا : آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے سب کا رب، اگر تم یقین کرنے والے ہو۔