Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

ہٰۤؤُلَآءِ قَوۡمُنَا اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اٰلِہَۃً ؕ لَوۡ لَا یَاۡتُوۡنَ عَلَیۡہِمۡ بِسُلۡطٰنٍۭ بَیِّنٍ ؕ فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا ﴿ؕ۱۵﴾

۱۵۔ ہماری اس قوم نے تو اللہ کے سوا اور وں کو معبود بنایا ہے، یہ ان کے معبود ہونے پر کوئی واضح دلیل کیوں نہیں لائے؟ پس اللہ پر جھوٹ بہتان باندھنے والوں سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے؟


وَ اِذِ اعۡتَزَلۡتُمُوۡہُمۡ وَمَا یَعۡبُدُوۡنَ اِلَّا اللّٰہَ فَاۡ وٗۤا اِلَی الۡکَہۡفِ یَنۡشُرۡ لَکُمۡ رَبُّکُمۡ مِّنۡ رَّحۡمَتِہٖ وَیُہَیِّیٴۡ لَکُمۡ مِّنۡ اَمۡرِکُمۡ مِّرۡفَقًا﴿۱۶﴾

۱۶۔ اور جب تم نے مشرکین اور اللہ کے سوا ان کے معبودوں سے کنارہ کشی اختیار کی ہے تو غار میں چل کر پناہ لو، تمہارا رب تمہارے لیے اپنی رحمت پھیلا دے گا اور تمہارے معاملات میں تمہارے لیے آسانی فراہم کرے گا۔


وَ تَرَی الشَّمۡسَ اِذَا طَلَعَتۡ تَّزٰوَرُ عَنۡ کَہۡفِہِمۡ ذَاتَ الۡیَمِیۡنِ وَ اِذَا غَرَبَتۡ تَّقۡرِضُہُمۡ ذَاتَ الشِّمَالِ وَ ہُمۡ فِیۡ فَجۡوَۃٍ مِّنۡہُ ؕ ذٰلِکَ مِنۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ ؕ مَنۡ یَّہۡدِ اللّٰہُ فَہُوَ الۡمُہۡتَدِ ۚ وَ مَنۡ یُّضۡلِلۡ فَلَنۡ تَجِدَ لَہٗ وَلِیًّا مُّرۡشِدًا﴿٪۱۷﴾

۱۷۔ اور آپ دیکھتے ہیں کہ جب سورج طلوع ہوتا ہے تو ان کے غار سے داہنی طرف سمٹ جاتا ہے اور جب غروب ہوتا ہے تو ان سے بائیں طرف کترا جاتا ہے اور وہ غار کی کشادہ جگہ میں ہیں،ـ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے، جسے اللہ ہدایت کرے وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے اللہ گمراہ کر دے اس کے لیے آپ سرپرست و رہنما نہ پائیں گے۔

17۔ اس غار کا محل وقوع بیان ہو رہا ہے کہ سورج سے کس جانب واقع تھا۔ فرمایا : وہ اس غار کے تنگ دھانے پر نہیں کشادہ جگہ پر موجود تھے اور دھوپ کی ان تک رسائی نہیں ہوتی تھی یا اس لیے کہ غار کا رخ شمال کی جانب تھا اور کسی موسم میں بھی غار کے اندر دھوپ نہیں پہنچتی تھی یا اس لیے کہ اصحاب کہف غار کے دہانے سے اندر کی طرف کشادہ جگہ پر تھے اور سورج کی کرنیں ان تک نہیں پہنچ پاتی تھیں، اگرچہ غار کا رخ جنوب کی طرف تھا۔ آیت میں ان دونوں باتوں کے لیے گنجائش موجود ہے۔ اگر غار میں داخل ہونے کے اعتبار سے دائیں اور بائیں کہا جا رہا ہے تو غار کا رخ شمال کی طرف ہو گا اور اگر خارج ہونے کے اعتبار سے ہے تو غار کا رخ جنوب کی طرف ہو گا۔


وَ تَحۡسَبُہُمۡ اَیۡقَاظًا وَّ ہُمۡ رُقُوۡدٌ ٭ۖ وَّ نُقَلِّبُہُمۡ ذَاتَ الۡیَمِیۡنِ وَ ذَاتَ الشِّمَالِ ٭ۖ وَ کَلۡبُہُمۡ بَاسِطٌ ذِرَاعَیۡہِ بِالۡوَصِیۡدِ ؕ لَوِ اطَّلَعۡتَ عَلَیۡہِمۡ لَوَلَّیۡتَ مِنۡہُمۡ فِرَارًا وَّ لَمُلِئۡتَ مِنۡہُمۡ رُعۡبًا﴿۱۸﴾

۱۸۔ اور آپ خیال کریں گے کہ یہ بیدار ہیں حالانکہ وہ سو رہے ہیں اور ہم انہیں دائیں اور بائیں کروٹ بدلاتے رہتے ہیں اور ان کا کتا غار کے دھانے پر دونوں ٹانگیں پھیلائے ہوئے ہے اگر آپ انہیں جھانک کر دیکھیں تو ان سے ضرور الٹے پاؤں بھاگ نکلیں اور ان کی دہشت آپ کو گھیر لے۔

18۔ ان کو کروٹ بدلتے دیکھ کر یہ خیال گزرنا قرین قیاس ہے کہ یہ بیدار ہیں، حالانکہ وہ محو خواب ہیں اور ہو سکتا ہے کہ ان کی آنکھیں کھلی ہوں، دیکھنے والے یہ خیال کریں کہ یہ لوگ بیدار بھی ہیں اور بیداروں کی سی حرکتیں بھی نہیں کر رہے ہیں۔ اس صورت حال کو دیکھ کر ایک خوفناک تصور ذہن میں آئے گا اور انسان وہاں سے بھاگنے میں ہی اپنی سلامتی تصور کرے گا۔ واضح رہے کہ بہت سے مقامات پر قرآن کا یہ طرز خطاب رہا ہے کہ ایک مطلب کو عام لوگوں کے لیے بیان کیا جاتا ہے لیکن خطاب اپنے رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کیا جاتا ہے۔


وَ کَذٰلِکَ بَعَثۡنٰہُمۡ لِیَتَسَآءَلُوۡا بَیۡنَہُمۡ ؕ قَالَ قَآئِلٌ مِّنۡہُمۡ کَمۡ لَبِثۡتُمۡ ؕ قَالُوۡا لَبِثۡنَا یَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ یَوۡمٍ ؕ قَالُوۡا رَبُّکُمۡ اَعۡلَمُ بِمَا لَبِثۡتُمۡ ؕ فَابۡعَثُوۡۤا اَحَدَکُمۡ بِوَرِقِکُمۡ ہٰذِہٖۤ اِلَی الۡمَدِیۡنَۃِ فَلۡیَنۡظُرۡ اَیُّہَاۤ اَزۡکٰی طَعَامًا فَلۡیَاۡتِکُمۡ بِرِزۡقٍ مِّنۡہُ وَ لۡـیَؔ‍‍‍تَلَطَّفۡ وَ لَا یُشۡعِرَنَّ بِکُمۡ اَحَدًا﴿۱۹﴾

۱۹۔ اسی انداز سے ہم نے انہیں بیدار کیا تاکہ یہ آپس میں پوچھ گچھ کر لیں، چنانچہ ان میں سے ایک نے پوچھا: تم لوگ یہاں کتنی دیر رہے ہو؟ انہوں نے کہا: ایک دن یا اس سے بھی کم، انہوں نے کہا : تمہارا رب بہتر جانتا ہے کہ تم کتنی مدت رہے ہو پس تم اپنے میں سے ایک کو اپنے اس سکے کے ساتھ شہر بھیجو اور وہ دیکھے کہ کون سا کھانا سب سے ستھرا ہے پھر وہاں سے کچھ کھانا لے آئے اور اسے چاہیے کہ وہ ہوشیاری سے جائے اور کسی کو تمہاری خبر نہ ہونے دے۔

19۔ وہ کفر کی طاقت سے مایوس ہو کر بھاگ گئے تھے اور دل میں یہ حسرت لیے گھر بار چھوڑ دیا کہ وہ دن کب آئے گا کہ باطل مٹ چکا ہو گا اور بت پرستی ختم ہو گئی ہو گی اور توحید پرستی عام ہو گئی ہو۔ اللہ نے ان کو اتنی مدت سلا دیا کہ وہ دن دیکھ پائیں کہ باطل مٹ چکا ہے اور حق کا بول بالا ہے۔

اَیُّہَاۤ اَزۡکٰی طَعَامًا : صرف روحانی غذا کی پاکیزگی نہیں، بلکہ جسمانی غذا کی طہارت و پاکیزگی بھی اسی قدر اہمیت کی حامل ہے۔ درحقیقت باطنی طہارت و ظاہری طہارت میں گہرا ربط ہے۔ اسی طرح دعا کی قبولیت کے لیے بھی غذا کی پاکیزگی اور حلال ہونے کو بڑا دخل ہے۔


اِنَّہُمۡ اِنۡ یَّظۡہَرُوۡا عَلَیۡکُمۡ یَرۡجُمُوۡکُمۡ اَوۡ یُعِیۡدُوۡکُمۡ فِیۡ مِلَّتِہِمۡ وَ لَنۡ تُفۡلِحُوۡۤا اِذًا اَبَدًا﴿۲۰﴾

۲۰۔ کیونکہ اگر وہ تم پر غالب آ گئے تو وہ تمہیں سنگسار کر دیں گے یا اپنے مذہب میں پلٹائیں گے اور اگر ایسا ہوا تو تم ہرگز فلاح نہیں پاؤ گے۔


وَ کَذٰلِکَ اَعۡثَرۡنَا عَلَیۡہِمۡ لِیَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَۃَ لَا رَیۡبَ فِیۡہَا ۚ٭ اِذۡ یَتَنَازَعُوۡنَ بَیۡنَہُمۡ اَمۡرَہُمۡ فَقَالُوا ابۡنُوۡا عَلَیۡہِمۡ بُنۡیَانًا ؕ رَبُّہُمۡ اَعۡلَمُ بِہِمۡ ؕ قَالَ الَّذِیۡنَ غَلَبُوۡا عَلٰۤی اَمۡرِہِمۡ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیۡہِمۡ مَّسۡجِدًا﴿۲۱﴾

۲۱۔ اور اس طرح ہم نے (لوگوں کو) ان سے باخبر کر دیا تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت (کے آنے) میں کوئی شبہ نہیں، یہ اس وقت کی بات ہے جب لوگ ان کے بارے میں جھگڑ رہے تھے تو کچھ نے کہا: ان (کے غار) پر عمارت بنا دو، ان کا رب ہی ان کا حال بہتر جانتا ہے، جنہوں نے ان کے بارے میں غلبہ حاصل کیا وہ کہنے لگے: ہم ان کے غار پر ضرور ایک مسجد بناتے ہیں۔

21۔ سریانی روایت میں آیا ہے کہ اس وقت مسیحیوں میں قیامت اور اخروی زندگی کے بارے میں بحث چھڑی ہوئی تھی اور منکرین قیامت کے مقابلے میں مؤمنین کے دلائل کمزور تھے۔ عین اس وقت اصحاب کہف کی بیداری کا واقعہ پیش آیا تو قیامت پر ایمان رکھنے والوں کو ایک سند مل گئی اور حیات بعد الموت ان کے لیے ناقابل فہم مسئلہ نہ رہا۔

ممکن ہے یہ نزاع قیامت کے بارے میں ہو۔ جو لوگ اس واقعہ کو قیامت کی دلیل نہیں سمجھتے تھے ان کا یہ کہنا تھا کہ اس غار پر دیوار چن دینا چاہیے اور جو لوگ اس واقعہ کو دلیل آخرت سمجھتے تھے، ان کا یہ کہنا تھا کہ اس پر مسجد تعمیر کرنی چاہیے۔


سَیَقُوۡلُوۡنَ ثَلٰثَۃٌ رَّابِعُہُمۡ کَلۡبُہُمۡ ۚ وَ یَقُوۡلُوۡنَ خَمۡسَۃٌ سَادِسُہُمۡ کَلۡبُہُمۡ رَجۡمًۢا بِالۡغَیۡبِ ۚ وَ یَقُوۡلُوۡنَ سَبۡعَۃٌ وَّ ثَامِنُہُمۡ کَلۡبُہُمۡ ؕ قُلۡ رَّبِّیۡۤ اَعۡلَمُ بِعِدَّتِہِمۡ مَّا یَعۡلَمُہُمۡ اِلَّا قَلِیۡلٌ ۬۟ فَلَا تُمَارِ فِیۡہِمۡ اِلَّا مِرَآءً ظَاہِرًا ۪ وَّ لَا تَسۡتَفۡتِ فِیۡہِمۡ مِّنۡہُمۡ اَحَدًا﴿٪۲۲﴾

۲۲۔ کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ تین ہیں، چوتھا ان کا کتا ہے اور کچھ کہیں گے کہ وہ پانچ ہیں چھٹا ان کا کتا ہے، یہ سب دیکھے بغیر اندازے لگا رہے ہیں اور کچھ کہیں گے: وہ سات ہیں اور آٹھواں ان کا کتا ہے، کہدیجئے: میرا رب ان کی تعداد کو بہتر جانتا ہے ان کے بارے میں کم ہی لوگ جانتے ہیں لہٰذا آپ ان کے بارے میں سطحی گفتگو کے علاوہ کوئی بحث نہ کریں اور نہ ہی ان کے بارے میں ان میں سے کسی سے کچھ دریافت کریں۔

22۔ نزول قرآن کے وقت عیسائیوں میں اصحاب کہف کے بارے میں مختلف باتیں پھیلی ہوئی تھیں ان میں سے کسی ایک پر کوئی سند نہیں ہوتی تھی، صرف ظن و تخمین پر مبنی باتیں تھیں۔ اصحاب کہف کی تعداد کے بارے میں جن اقوال کا ذکر فرمایا، ان میں سے صرف آخری قول کی تردید نہ کرنے سے یہ گمان ہوتا ہے کہ یہی تعداد صحیح ہے۔ تعداد اتنی اہم بات نہیں ہے، اس لیے حضور صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو حکم ہوا کہ نہ تو تعداد پر بحث کریں، نہ اس کے بارے میں کسی سے سوال کریں۔ اس سلسلے میں اہمیت کا حامل وہ سبق ہے جو اس واقعہ سے ملتا ہے۔


وَ لَا تَقُوۡلَنَّ لِشَایۡءٍ اِنِّیۡ فَاعِلٌ ذٰلِکَ غَدًا ﴿ۙ۲۳﴾

۲۳۔اور آپ کسی کام کے بارے میں ہرگز یہ نہ کہیں کہ میں اسے کل کروںگا،

23۔ اصل فعل و عمل کی نسبت بندے کی طرف بھی ہو سکتی ہے، اس میں کوئی کلام نہیں ہے۔ چنانچہ قرآن نے متعدد مقامات پر اعمال کو انسانوں کی طرف نسبت دی ہے۔ یہاں بات استقلال کی ہو رہی ہے کہ کسی عمل کو بطور استقلال اپنی طرف نسبت نہ دو۔ اس کائنات میں اذن و مشیت الٰہی کے بغیر کوئی پتا نہیں ہل سکتا۔ البتہ یہ بات ذہن نشین رہے کہ اذن و مشیت الٰہی امور تکوینی سے متعلق ہیں، امور تشریعی سے نہیں۔


اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللّٰہُ ۫ وَ اذۡکُرۡ رَّبَّکَ اِذَا نَسِیۡتَ وَ قُلۡ عَسٰۤی اَنۡ یَّہۡدِیَنِ رَبِّیۡ لِاَقۡرَبَ مِنۡ ہٰذَا رَشَدًا﴿۲۴﴾

۲۴۔ مگر یہ کہ اللہ چاہے اور اگر آپ بھول جائیں تو اپنے رب کو یاد کریں اور کہدیجئے: امید ہے میرا رب اس سے قریب تر حقیقت کی طرف میری رہنمائی فرمائے گا۔

24۔ دوسرے جملے میں فرمایا کہ اگر آپ بھول جائیں تو اپنے رب کو یاد کریں۔ یہاں خطاب اگرچہ اپنے حبیب سے ہے، لیکن ان لوگوں کو سمجھانا مقصود ہے جن کے لیے یہ قرآن دستور حیات ہے، {سر دلبران در حدیث دیگران}۔