Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

حَتّٰۤی اِذَا رَاَوۡا مَا یُوۡعَدُوۡنَ فَسَیَعۡلَمُوۡنَ مَنۡ اَضۡعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا﴿۲۴﴾

۲۴۔ (وہ ایمان نہیں لائیں گے) یہاں تک کہ وہ اسے دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس کا مددگار زیادہ کمزور ہے اور کس کی جماعت قلت میں ہے۔


قُلۡ اِنۡ اَدۡرِیۡۤ اَقَرِیۡبٌ مَّا تُوۡعَدُوۡنَ اَمۡ یَجۡعَلُ لَہٗ رَبِّیۡۤ اَمَدًا﴿۲۵﴾

۲۵۔ کہدیجئے: میں نہیں جانتا کہ جس کا وعدہ تم سے کیا جاتا ہے وہ قریب ہے یا میرا رب اس کے لیے لمبی مدت مقرر فرماتا ہے۔


عٰلِمُ الۡغَیۡبِ فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا ﴿ۙ۲۶﴾

۲۶۔ وہ غیب کا جاننے والا ہے اور اپنے غیب کسی پر ظاہر نہیں کرتا۔

26۔ علم غیب ذاتی طور پر صرف اور صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ اس آیت میں فرمایا: البتہ رسولوں میں سے جسے ہم برگزیدہ کرتے ہیں، اس پر غیب کا اظہار کرتے ہیں۔ رسولوں میں انسان اور ملائکہ دونوں شامل ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا برگزیدہ رسول کے پاس بھی علم غیب آ سکتا ہے، مگر یہ اس رسول کا ذاتی علم نہ ہو گا بلکہ اللہ کی طرف سے تعلیم شدہ علم ہو گا۔ تیسرے درجے پر اولیائے کرام ہوں گے جو رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے براہ راست تعلیم لیتے ہیں۔

بصائر الدرجات ص 293 میں آیا ہے: لا یُعَلِّمُ اللہ محمداً علماً اِلا و امرہ ان یعلّم علیا ۔ اللہ تعالیٰ نے محمد صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو کوئی تعلیم نہیں دی مگر یہ کہ حکم دیا کہ یہ علی کو سکھائیں۔ شرجیل نے رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے بھی اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔


اِلَّا مَنِ ارۡتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ فَاِنَّہٗ یَسۡلُکُ مِنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ وَ مِنۡ خَلۡفِہٖ رَصَدًا ﴿ۙ۲۷﴾

۲۷۔ سوائے اس رسول کے جسے اس نے برگزیدہ کیا ہو، وہ اس کے آگے اور پیچھے نگہبان مقرر کر دیتا ہے۔

27۔ یَسۡلُکُ مِنۡۢ : اس جملے میں فرمایا کہ جب رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر راز ہائے غیب نازل کرنا ہو تو نگہبانوں کے تحفظ میں یہ راز دیا جاتا ہے اور صرف قلب رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے تحفظ میں دیا جاتا ہے۔ آگے رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یہ علم صرف اہل ہستیوں کے سپرد فرماتے ہیں۔


لِّیَعۡلَمَ اَنۡ قَدۡ اَبۡلَغُوۡا رِسٰلٰتِ رَبِّہِمۡ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیۡہِمۡ وَ اَحۡصٰی کُلَّ شَیۡءٍ عَدَدًا﴿٪۲۸﴾

۲۸۔ تاکہ اسے علم ہو جائے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچائے ہیں اور جو کچھ ان کے پاس ہے اس پر اللہ نے احاطہ کر رکھا ہے اور اس نے ہر چیز کو شمار کر رکھا ہے۔


بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

بنام خدائے رحمن رحیم


یٰۤاَیُّہَا الۡمُزَّمِّلُ ۙ﴿۱﴾

۱۔ اے کپڑوں میں لپٹنے والے!

1۔ حضور صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حالت تزمل اور رسالت کے فرائض کے درمیان کوئی ربط اور واسطہ معلوم ہوتا ہے۔ اگر ہم تزمل بار سنگین کے معنی لیں تو بظاہر ربط معلوم ہو جاتا ہے: اے بار سنگین اٹھانے والے۔ چنانچہ جوہری، ابن اثیر اور بیضاوی نے زمّل کا ایک معنی بوجھ اٹھانے سے کیا ہے۔


قُمِ الَّیۡلَ اِلَّا قَلِیۡلًا ۙ﴿۲﴾

۲۔ رات کو اٹھا کیجیے مگر کم،


نِّصۡفَہٗۤ اَوِ انۡقُصۡ مِنۡہُ قَلِیۡلًا ۙ﴿۳﴾

۳۔ آدھی رات یا اس سے کچھ کم کر لیجیے،


اَوۡ زِدۡ عَلَیۡہِ وَ رَتِّلِ الۡقُرۡاٰنَ تَرۡتِیۡلًا ؕ﴿۴﴾

۴۔ یا اس پر کچھ بڑھا دیجئے اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کیجیے ۔

4۔ موجودہ نامساعد حالات اور آئندہ آنے والے سنگین حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے رات کو اٹھ کر عبادت اور قرآن کی تلاوت کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مادی وسائل اور اسلحوں سے نہیں، بلکہ باطنی اور روحانی قوت سے لیس کرنا چاہتا ہے۔