Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ لَقَدۡ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنۡیَا بِمَصَابِیۡحَ وَ جَعَلۡنٰہَا رُجُوۡمًا لِّلشَّیٰطِیۡنِ وَ اَعۡتَدۡنَا لَہُمۡ عَذَابَ السَّعِیۡرِ﴿۵﴾

۵۔ اور بے شک ہم نے قریب ترین آسمان کو (ستاروں کے) چراغوں سے آراستہ کیا اور انہیں شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ بنایا اور ہم نے ان کے لیے دہکتی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے،

5۔ یہ بات بھی ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ یہی نجوم رجوم شیاطین ہیں۔ممکن ہے اس صورت میں رجوم شیاطین انہی نجوم کے انفجار سے وجود میں آتے ہوں۔ و اللہ اعلم بالصواب ۔

اس آیت سے یہ بات قرین قیاس معلوم ہوتی ہے کہ جو ستارے ہمارے مشاہدے میں آتے ہیں وہ سب آسمان اول سے متعلق ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قریب ترین آسمان کو ستاروں سے آراستہ کیا ہے۔ اس کے بعد کے آسمانوں کے بارے میں انسان کو کوئی معلومات نہیں ہیں۔


وَ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِرَبِّہِمۡ عَذَابُ جَہَنَّمَ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ﴿۶﴾

۶۔ اور جنہوں نے اپنے رب کا انکار کیا ہے ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وہ بدترین ٹھکانا ہے۔


اِذَاۤ اُلۡقُوۡا فِیۡہَا سَمِعُوۡا لَہَا شَہِیۡقًا وَّ ہِیَ تَفُوۡرُ ۙ﴿۷﴾

۷۔ جب وہ اس میں ڈالے جائیں گے تو اس کے بھڑکنے کی ہولناک آواز سنیں گے اور وہ جوش مار رہی ہو گی۔


تَکَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الۡغَیۡظِ ؕ کُلَّمَاۤ اُلۡقِیَ فِیۡہَا فَوۡجٌ سَاَلَہُمۡ خَزَنَتُہَاۤ اَلَمۡ یَاۡتِکُمۡ نَذِیۡرٌ﴿۸﴾

۸۔ قریب ہے کہ شدت غیظ سے پھٹ پڑے جب بھی اس میں کوئی گروہ (کافروں کا) ڈالا جائے گا اس سے جہنم کے کارندے پوچھیں گے: کیا تمہارے پاس کوئی تنبیہ کرنے والا نہیں آیا؟


قَالُوۡا بَلٰی قَدۡ جَآءَنَا نَذِیۡرٌ ۬ۙ فَکَذَّبۡنَا وَ قُلۡنَا مَا نَزَّلَ اللّٰہُ مِنۡ شَیۡءٍ ۚۖ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا فِیۡ ضَلٰلٍ کَبِیۡرٍ﴿۹﴾

۹۔ وہ جواب دیں گے: ہاں تنبیہ کرنے والا ہمارے پاس آیا تھا مگر ہم نے (اسے) جھٹلا دیا اور ہم نے کہا: اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا ہے، تم لوگ بس ایک بڑی گمراہی میں مبتلا ہو۔


وَ قَالُوۡا لَوۡ کُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا کُنَّا فِیۡۤ اَصۡحٰبِ السَّعِیۡرِ﴿۱۰﴾

۱۰۔ اور وہ کہیں گے: اگر ہم سنتے یا عقل سے کام لیتے تو ہم جہنمیوں میں نہ ہوتے۔

10۔ یعنی اگر ہم عقل سے کام لیتے اور دعوت انبیاء پر تعصب اور تنگ نظری کی عینک اتار کر غور کرتے تو آج ہمارا یہ حشر نہ ہوتا۔ اس لیے اسلام نے عقل سے کام لینے کی تاکید فرمائی ہے۔ حدیث میں آیا ہے: تفکر ساعۃ خیر من عبادۃ سنۃ ۔ (مستدرک الوسائل 11: 183) ایک گھڑی کے لیے فکر سے کام لینا ایک سال کی عبادت سے بہتر ہے اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے: من کان عاقلا کان لہ دین و من کان لہ دین دخل الجنۃ (الکافی 1: 11) جو عاقل ہو گا وہ دیندار ہو گا۔ جو دیندار ہو گا وہی جنت میں جائے گا۔


فَاعۡتَرَفُوۡا بِذَنۡۢبِہِمۡ ۚ فَسُحۡقًا لِّاَصۡحٰبِ السَّعِیۡرِ﴿۱۱﴾

۱۱۔ اس طرح وہ اپنے گناہ کا اعتراف کر لیں گے، پس اہل جہنم کے لیے رحمت خدا سے دوری ہے۔


اِنَّ الَّذِیۡنَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَیۡبِ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ اَجۡرٌ کَبِیۡرٌ﴿۱۲﴾

۱۲۔ جو لوگ غائبانہ اپنے رب کا خوف کرتے ہیں یقینا ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہے۔

12۔ کفار و منافقین رسول اکرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خلاف باتیں کرتے اور اسے راز میں رکھنے کا کہتے تھے، جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔


وَ اَسِرُّوۡا قَوۡلَکُمۡ اَوِ اجۡہَرُوۡا بِہٖ ؕ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴿۱۳﴾

۱۳۔ اور تم لوگ اپنی باتوں کو چھپاؤ یا ظاہر کرو یقینا وہ تو سینوں میں موجود رازوں سے خوب واقف ہے۔

13۔ اس سلسلے میں فرمایا: کیا جس نے پیدا کیا ہے وہ اپنی مخلوق کے راز ہائے نہاں سے واقف نہ ہو گا۔ واضح رہے کہ خلق ہونے کے بعد انسان اللہ تعالیٰ سے بے نیاز نہیں ہوتا۔ اس انسان کے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تخلیقی عمل جاری ہے، تو پھر اللہ کی نگاہ سے کون سی چیز پوشیدہ ہو سکتی ہے؟


اَلَا یَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ ؕ وَ ہُوَ اللَّطِیۡفُ الۡخَبِیۡرُ﴿٪۱۴﴾

۱۴۔ کیا جس نے پیدا کیا اس کو علم نہیں؟ حالانکہ وہ باریک بین، بڑا باخبر بھی ہے۔