دعوت فکر


وَ قَالُوۡا لَوۡ کُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا کُنَّا فِیۡۤ اَصۡحٰبِ السَّعِیۡرِ﴿۱۰﴾

۱۰۔ اور وہ کہیں گے: اگر ہم سنتے یا عقل سے کام لیتے تو ہم جہنمیوں میں نہ ہوتے۔

10۔ یعنی اگر ہم عقل سے کام لیتے اور دعوت انبیاء پر تعصب اور تنگ نظری کی عینک اتار کر غور کرتے تو آج ہمارا یہ حشر نہ ہوتا۔ اس لیے اسلام نے عقل سے کام لینے کی تاکید فرمائی ہے۔ حدیث میں آیا ہے: تفکر ساعۃ خیر من عبادۃ سنۃ ۔ (مستدرک الوسائل 11: 183) ایک گھڑی کے لیے فکر سے کام لینا ایک سال کی عبادت سے بہتر ہے اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے: من کان عاقلا کان لہ دین و من کان لہ دین دخل الجنۃ (الکافی 1: 11) جو عاقل ہو گا وہ دیندار ہو گا۔ جو دیندار ہو گا وہی جنت میں جائے گا۔