Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ کَذَّبُوۡا وَ اتَّبَعُوۡۤا اَہۡوَآءَہُمۡ وَ کُلُّ اَمۡرٍ مُّسۡتَقِرٌّ﴿۳﴾

۳۔ انہوں نے تکذیب کی اور اپنی خواہشات کی پیروی کی اور ہر امر استقرار پانے والا ہے۔

3۔ یعنی معاملے کا ایک انجام ہوتا ہے، جس پر پہنچ کر اس کی اصلی حالت سامنے آ جاتی ہے۔ اگر یہ دین حق پر مبنی نہیں ہے تو کل اپنے انجام کو پہنچ کر فاش ہو جائے گا، ورنہ تم اپنے انجام کو پہنچ کر رسوا ہو جاؤ گے۔


وَ لَقَدۡ جَآءَہُمۡ مِّنَ الۡاَنۡۢبَآءِ مَا فِیۡہِ مُزۡدَجَرٌ ۙ﴿۴﴾

۴۔ اور بتحقیق ان کے پاس وہ خبریں آ چکی ہیں جو (کفر سے) باز رہنے کے لیے کافی ہیں،


حِکۡمَۃٌۢ بَالِغَۃٌ فَمَا تُغۡنِ النُّذُرُ ۙ﴿۵﴾

۵۔ (جن میں) حکیمانہ اور مؤثر (باتیں) ہیں لیکن تنبیہیں فائدہ مند نہیں رہیں۔


فَتَوَلَّ عَنۡہُمۡ ۘ یَوۡمَ یَدۡعُ الدَّاعِ اِلٰی شَیۡءٍ نُّـکُرٍ ۙ﴿۶﴾

۶۔ پس آپ بھی ان سے رخ پھیر لیں، جس دن بلانے والا ایک ناپسندیدہ چیز کی طرف بلائے گا۔

6۔ ایسی چیز جو ان کے وہم و گمان میں نہ تھی۔ ان کو قیامت کے بارے میں بتایا گیا تھا اور وہ اس کے منکر تھے، اس کی نوعیت اور اس کی ہولناکی کا وہ تصور تک نہیں کر سکتے تھے۔


خُشَّعًا اَبۡصَارُہُمۡ یَخۡرُجُوۡنَ مِنَ الۡاَجۡدَاثِ کَاَنَّہُمۡ جَرَادٌ مُّنۡتَشِرٌ ۙ﴿۷﴾

۷۔ تو وہ آنکھیں نیچی کر کے قبروں سے نکل پڑیں گے گویا وہ بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیں۔

7۔ بڑی ندامت کے ساتھ آنکھیں خشوع کی حالت میں ہوں گی کہ یہ وہی نئی زندگی ہے جس کے ہم منکر رہے ہیں اور اس کے لیے کوئی تیاری نہیں کی۔


مُّہۡطِعِیۡنَ اِلَی الدَّاعِ ؕ یَقُوۡلُ الۡکٰفِرُوۡنَ ہٰذَا یَوۡمٌ عَسِرٌ﴿۸﴾

۸۔ پکارنے والے کی طرف دوڑتے ہوئے جا رہے ہوں گے، اس وقت کفار کہیں گے: یہ بڑا کٹھن دن ہے۔


کَذَّبَتۡ قَبۡلَہُمۡ قَوۡمُ نُوۡحٍ فَکَذَّبُوۡا عَبۡدَنَا وَ قَالُوۡا مَجۡنُوۡنٌ وَّ ازۡدُجِرَ﴿۹﴾

۹۔ ان سے پہلے نوح کی قوم نے بھی تکذیب کی تھی، پس انہوں نے ہمارے بندے کی تکذیب کی اور کہنے لگے: دیوانہ ہے اور (جنات کی) جھڑکی کا شکار ہے۔


فَدَعَا رَبَّہٗۤ اَنِّیۡ مَغۡلُوۡبٌ فَانۡتَصِرۡ﴿۱۰﴾

۱۰۔ پس نوح نے اپنے رب کو پکارا: میں مغلوب ہو گیا ہوں پس تو انتقام لے۔


فَفَتَحۡنَاۤ اَبۡوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنۡہَمِرٍ ﴿۫ۖ۱۱﴾

۱۱۔ پھر ہم نے زوردار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیے۔


وَّ فَجَّرۡنَا الۡاَرۡضَ عُیُوۡنًا فَالۡتَقَی الۡمَآءُ عَلٰۤی اَمۡرٍ قَدۡ قُدِرَ ﴿ۚ۱۲﴾

۱۲۔ اور زمین کو شگافتہ کر کے ہم نے چشمے جاری کر دیے تو (دونوں) پانی اس امر پر مل گئے جو مقدر ہو چکا تھا۔