Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

لِّیَغۡفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۡۢبِکَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَ یُتِمَّ نِعۡمَتَہٗ عَلَیۡکَ وَ یَہۡدِیَکَ صِرَاطًا مُّسۡتَقِیۡمًا ۙ﴿۲﴾

۲۔ تاکہ اللہ آپ کی (تحریک کی) اگلی اور پچھلی خامیوں کو دور فرمائے اور آپ پر اپنی نعمت پوری کرے اور آپ کو سیدھے راستے کی رہنمائی فرمائے۔

2۔ یعنی اس صلح سے آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لشکر کی اگلی پچھلی کوتاہیوں کی تلافی کر دی گئی اور اس صلح سے فتح و نصرت کے وہ دوازے کھل گئے، جو پچھلے 19 سالوں میں نہ کھل سکے تھے۔ واضح رہے کہ اگرچہ یہاں خطاب رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ہے، لیکن کوتاہی خود رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے صادر نہیں ہوئی، بلکہ اس مشن میں شریک لوگوں کی طرف سے وقتاً فوقتاً ہوتی رہی۔


وَّ یَنۡصُرَکَ اللّٰہُ نَصۡرًا عَزِیۡزًا﴿۳﴾

۳۔ اور اللہ آپ کو ایسی نصرت عنایت فرمائے جو بڑی غالب آنے والی ہے۔


ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ السَّکِیۡنَۃَ فِیۡ قُلُوۡبِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ لِیَزۡدَادُوۡۤا اِیۡمَانًا مَّعَ اِیۡمَانِہِمۡ ؕ وَ لِلّٰہِ جُنُوۡدُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ۙ﴿۴﴾

۴۔ وہی اللہ ہے جس نے مومنین کے دلوں پر سکون نازل کیا تاکہ ان کے ایمان کے ساتھ مزید ایمان کا اضافہ کرے اور آسمانوں اور زمین کے لشکر سب اللہ ہی کے ہیں اور اللہ خوب جاننے والا، حکمت والا ہے۔

4۔ مسلمانوں کا قافلہ نہتا ہو کر اس دشمن کے پاس جا رہا ہے جو مسلمانوں کے خون کے پیاسے ہیں اور جنہوں نے ایک سال پہلے مسلمانوں کے خلاف احزاب کی جنگ لڑی تھی۔ اس وقت اللہ نے ان کے دلوں پر سکون نازل کیا۔ ایمان کے درجات ہوتے ہیں اور مختلف حالات میں انسان کے ایمان میں تقویت یا کمزوری آیا کرتی ہے۔


لِّیُدۡخِلَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا وَ یُکَفِّرَ عَنۡہُمۡ سَیِّاٰتِہِمۡ ؕ وَ کَانَ ذٰلِکَ عِنۡدَ اللّٰہِ فَوۡزًا عَظِیۡمًا ۙ﴿۵﴾

۵۔ تاکہ اللہ مومنین اور مومنات کو ایسی جنتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور تاکہ ان کے گناہوں کو ان سے دور کر دے اور اللہ کے نزدیک یہ بڑی کامیابی ہے۔


وَّ یُعَذِّبَ الۡمُنٰفِقِیۡنَ وَ الۡمُنٰفِقٰتِ وَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ وَ الۡمُشۡرِکٰتِ الظَّآنِّیۡنَ بِاللّٰہِ ظَنَّ السَّوۡءِ ؕ عَلَیۡہِمۡ دَآئِرَۃُ السَّوۡءِ ۚ وَ غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ وَ لَعَنَہُمۡ وَ اَعَدَّ لَہُمۡ جَہَنَّمَ ؕ وَ سَآءَتۡ مَصِیۡرًا﴿۶﴾

۶۔ اور (اس لیے بھی کہ) منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں اور مشرکہ عورتوں کو جو اللہ کے بارے میں بدگمانی کرتے ہیں عذاب میں مبتلا کرے، یہ لوگ گردش بد کا شکار ہو گئے اور ان پر اللہ نے غضب کیا اور ان پر لعنت کی اور ان کے لیے جہنم آمادہ کر رکھی ہے جو بہت برا انجام ہے۔

6۔ منافقین کو یہ گمان تھا کہ اب مسلمان اس خطرناک سفر سے واپس نہیں آ سکیں گے۔


وَ لِلّٰہِ جُنُوۡدُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا﴿۷﴾

۷۔ اور آسمانوں اور زمین کے لشکر اللہ کے ہیں اور اللہ بڑا غالب آنے والا، حکمت والا ہے۔


اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ شَاہِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا ۙ﴿۸﴾

۸۔ ہم نے آپ کو گواہی دینے والا، بشارت دینے والا اور تنبیہ کرنے والا بنا کر بھیجا ہے،

8۔ رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قرآن میں متعدد مقامات پر شاہد کہا ہے۔ یہ گواہی بندوں کے اعمال سے متعلق ہے۔ دنیا میں وہ ان اعمال کے مطابق بشارت اور نظارت کی ذمہ داری اٹھائیں گے۔ آخرت میں ان اعمال کی گواہی دیں گے۔


لِّتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ تُعَزِّرُوۡہُ وَ تُوَقِّرُوۡہُ ؕ وَ تُسَبِّحُوۡہُ بُکۡرَۃً وَّ اَصِیۡلًا﴿۹﴾

۹۔ تاکہ تم (مسلمان) اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اس کی مدد کرو، اس کی تعظیم کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح کرو۔


اِنَّ الَّذِیۡنَ یُبَایِعُوۡنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوۡنَ اللّٰہَ ؕ یَدُ اللّٰہِ فَوۡقَ اَیۡدِیۡہِمۡ ۚ فَمَنۡ نَّکَثَ فَاِنَّمَا یَنۡکُثُ عَلٰی نَفۡسِہٖ ۚ وَ مَنۡ اَوۡفٰی بِمَا عٰہَدَ عَلَیۡہُ اللّٰہَ فَسَیُؤۡتِیۡہِ اَجۡرًا عَظِیۡمًا﴿٪۱۰﴾

۱۰۔ بتحقیق جو لوگ آپ کی بیعت کر رہے ہیں وہ یقینا اللہ کی بیعت کر رہے ہیں، اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے اوپر ہے، پس جو عہد شکنی کرتا ہے وہ اپنے ساتھ عہد شکنی کرتا ہے اور جو اس عہد کو پورا کرے جو اس نے اللہ کے ساتھ کر رکھا ہے تو اللہ عنقریب اسے اجر عظیم دے گا۔

10۔ یہ بیعت اس بات پر لی گئی تھی کہ میدان جنگ سے راہ فرار اختیار نہیں کریں گے۔ اس بیعت کو الٰہی قرار دے کر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ قرار دیا۔


سَیَقُوۡلُ لَکَ الۡمُخَلَّفُوۡنَ مِنَ الۡاَعۡرَابِ شَغَلَتۡنَاۤ اَمۡوَالُنَا وَ اَہۡلُوۡنَا فَاسۡتَغۡفِرۡ لَنَا ۚ یَقُوۡلُوۡنَ بِاَلۡسِنَتِہِمۡ مَّا لَیۡسَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ ؕ قُلۡ فَمَنۡ یَّمۡلِکُ لَکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ شَیۡئًا اِنۡ اَرَادَ بِکُمۡ ضَرًّا اَوۡ اَرَادَ بِکُمۡ نَفۡعًا ؕ بَلۡ کَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرًا﴿۱۱﴾

۱۱۔ صحرا نشین جو پیچھے رہ گئے ہیں وہ جلد ہی آپ سے کہیں گے: ہمیں ہمارے اموال اور اہل و عیال نے مشغول رکھا لہٰذا ہمارے لیے مغفرت طلب کیجیے، یہ اپنی زبانوں سے وہ بات کرتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے، کہدیجئے: اگر اللہ تمہیں ضرر پہنچانے کا ارادہ کر لے یا فائدہ پہنچانا چاہے تو کون ہے جو اس کے سامنے تمہارے لیے کچھ اختیار رکھتا ہو؟ بلکہ اللہ تو تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے۔

11۔ مدینے کے اطراف میں رہنے والے ان بدوؤں کا ذکر ہے جن کو رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عمرہ کے لیے ساتھ چلنے کا حکم دیا تھا، لیکن انہوں نے ساتھ نہ چلنے کو ترجیح دی تھی۔