Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ لَا تَسۡتَوِی الۡحَسَنَۃُ وَ لَا السَّیِّئَۃُ ؕ اِدۡفَعۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ فَاِذَا الَّذِیۡ بَیۡنَکَ وَ بَیۡنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیۡمٌ﴿۳۴﴾

۳۴۔ اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہو سکتے، آپ (بدی کو) بہترین نیکی سے دفع کریں تو آپ دیکھ لیں گے کہ آپ کے ساتھ جس کی عداوت تھی وہ گویا نہایت قریبی دوست بن گیا ہے۔

34۔ سابقہ آیت میں دعوت الی الحق کو بہترین گفتار قرار دینے کے بعد اس دعوت کو مؤثر بنانے کے لیے بہترین ذریعے کی نشاندہی فرمائی اور وہ یہ ہے کہ برائی کو نیکی سے دفع کرنا، جہالت کو علم اور بردباری سے، بداخلاقی کو حسن اخلاق سے، گستاخی کو عفو و درگزر سے، غرض بدسلوکی کو احسان سے دفع کرنا چاہیے۔ ہر انسان اپنی فطرت سے یہ سمجھ سکتا ہے کہ نیکی اور بدی یکساں نہیں۔ ان کے اثرات بھی یکساں نہیں ہوتے۔ نیکی کا اولین اثر یہ ہو گا کہ تمہارا جانی دشمن تمہارا جگری دوست بن جائے گا۔


وَ مَا یُلَقّٰہَاۤ اِلَّا الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡا ۚ وَ مَا یُلَقّٰہَاۤ اِلَّا ذُوۡحَظٍّ عَظِیۡمٍ﴿۳۵﴾

۳۵۔ اور یہ (خصلت) صرف صبر کرنے والوں کو ملتی ہے اور یہ صفت صرف انہیں ملتی ہے جو بڑے نصیب والے ہیں۔

35۔ برائی کے مقابلے میں احسان کرنا ہر شخص کے بس کا روگ نہیں۔ یہ کام وہ شخص کر سکتا ہے جسے اپنے نفس پر پورا کنٹرول ہو اور جو صبر و حوصلے کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو۔ کمال انسانی میں بڑے نصیب والے ہی ایسا کر سکتے ہیں۔


وَ اِمَّا یَنۡزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیۡطٰنِ نَزۡغٌ فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ﴿۳۶﴾

۳۶۔ اور اگر آپ شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ محسوس کریں تو اللہ کی پناہ مانگیں وہ یقینا خوب سننے والا، جاننے والا ہے۔

36۔ کوئی کمینگی کا مظاہرہ کرے تو مدمقابل کو اکسانے کا شیطان کو ایک سنہرا موقع ملتا ہے۔ چنانچہ شیطان کہتا ہے کہ اس کمینے کو سبق سکھانا چاہیے اور اینٹ کا جواب پتھر سے دینا چاہیے وغیرہ۔ یہاں اگر ایسا جذباتی ہیجان آ جائے تو اللہ کی پناہ ڈھونڈنی چاہیے کہ وہی انسان کو شیطان کی اشتعال انگیزی سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔


وَ مِنۡ اٰیٰتِہِ الَّیۡلُ وَ النَّہَارُ وَ الشَّمۡسُ وَ الۡقَمَرُ ؕ لَا تَسۡجُدُوۡا لِلشَّمۡسِ وَ لَا لِلۡقَمَرِ وَ اسۡجُدُوۡا لِلّٰہِ الَّذِیۡ خَلَقَہُنَّ اِنۡ کُنۡتُمۡ اِیَّاہُ تَعۡبُدُوۡنَ﴿۳۷﴾

۳۷۔ اور رات اور دن اور سورج اور چاند اس کی نشانیوں میں سے ہیں، تم نہ تو سورج کو سجدہ کرو اور نہ ہی چاند کو بلکہ اللہ کو سجدہ کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا ہے، اگر تم صرف اللہ کی بندگی کرتے ہو۔


فَاِنِ اسۡتَکۡبَرُوۡا فَالَّذِیۡنَ عِنۡدَ رَبِّکَ یُسَبِّحُوۡنَ لَہٗ بِالَّیۡلِ وَ النَّہَارِ وَ ہُمۡ لَا یَسۡـَٔمُوۡنَ ﴿ٛ۳۸﴾ۯ

۳۸۔ پس اگر یہ لوگ تکبر کرتے ہیں تو جو (فرشتے) آپ کے رب کے پاس ہیں وہ رات اور دن اسی کی تسبیح کرتے ہیں اور تھکتے نہیں ہیں۔


وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖۤ اَنَّکَ تَرَی الۡاَرۡضَ خَاشِعَۃً فَاِذَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡہَا الۡمَآءَ اہۡتَزَّتۡ وَ رَبَتۡ ؕ اِنَّ الَّذِیۡۤ اَحۡیَاہَا لَمُحۡیِ الۡمَوۡتٰی ؕ اِنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ﴿۳۹﴾

۳۹۔ اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ آپ زمین کو جمود کی حالت میں دیکھتے ہیں اور جب ہم اس پر پانی برسائیں تو وہ یکایک جنبش میں آتی ہے اور پھلنے پھولنے لگتی ہے، تو جس نے زمین کو زندہ کیا وہی یقینا مردوں کو زندہ کرنے والا ہے، وہ یقینا ہر چیز پر قادر ہے۔

39۔ یہ روز کا مشاہدہ ہے کہ مردہ زمین میں پانی پڑنے سے جان آ جاتی ہے اور سرسبز و شاداب ہو جاتی ہے۔ غافل انسان اسے روز کا معمول سمجھتا ہے، جبکہ یہ اس قادر مطلق کا کرشمہ ہے۔


اِنَّ الَّذِیۡنَ یُلۡحِدُوۡنَ فِیۡۤ اٰیٰتِنَا لَا یَخۡفَوۡنَ عَلَیۡنَا ؕ اَفَمَنۡ یُّلۡقٰی فِی النَّارِ خَیۡرٌ اَمۡ مَّنۡ یَّاۡتِیۡۤ اٰمِنًا یَّوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ اِعۡمَلُوۡا مَا شِئۡتُمۡ ۙ اِنَّہٗ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ﴿۴۰﴾

۴۰۔ جو لوگ ہماری آیات میں ہیرا پھیری کرتے ہیں وہ ہم سے پوشیدہ نہیں ہیں کیا وہ شخص جو جہنم میں ڈالا جائے بہتر ہے یا وہ جو قیامت کے دن امن کے ساتھ حاضر ہو گا؟ تم جو چاہو کرتے رہو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے یقینا خوب دیکھنے والا ہے۔

40۔ اِعۡمَلُوۡا مَا شِئۡتُمۡ : تم جو چاہو کرو۔ یہ اس صورت کا بیان ہے جس میں اللہ تعالیٰ بندے کو اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے اور جس کو اللہ اپنے حال پر چھوڑ دے اس سے زیادہ بدنصیب کوئی نہیں ہے۔


اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِالذِّکۡرِ لَمَّا جَآءَہُمۡ ۚ وَ اِنَّہٗ لَکِتٰبٌ عَزِیۡزٌ ﴿ۙ۴۱﴾

۴۱۔ جو لوگ اس ذکر کا انکار کرتے ہیں جب وہ ان کے پاس آجائے، حالانکہ یہ معزز کتاب ہے۔


لَّا یَاۡتِیۡہِ الۡبَاطِلُ مِنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ وَ لَا مِنۡ خَلۡفِہٖ ؕ تَنۡزِیۡلٌ مِّنۡ حَکِیۡمٍ حَمِیۡدٍ﴿۴۲﴾

۴۲۔ باطل نہ اس کے سامنے سے آ سکتا ہے اور نہ پیچھے سے، یہ حکمت والے اور لائق ستائش کی نازل کردہ ہے۔

42۔ قرآن مجید کسی ایک، دو موضوع پر مشتمل کتاب نہیں ہے، بلکہ یہ حقائق کا بحر بیکراں ہے۔ اس میں اخلاق، عقائد، احکام، قانون، تہذیب و تمدن اور معاشرت و معیشت اور سیاست سے متعلق حقائق کا بیان ہے۔ کسی باطل قوت کے لیے ممکن نہیں کہ وہ ان حقائق میں سے کسی ایک حقیقت کو غلط ثابت کرے، خواہ قرآن پر اس کا یہ حملہ براہ راست ہو یا کسی سازش اور مکر و حیلہ کے ذریعے سے۔ یہ قرآن انسانیت کے لیے ایک دستور حیات اور اسلام کی حقانیت کے لیے ایک معجزہ ہے۔ ممکن نہیں اس معجزے کو کوئی باطل قوت بے اثر بنا دے اور اس کی معجزاتی حیثیت کو ختم کر دے۔ تاریخ انبیاء میں کسی معجزے کو کوئی طاقت گزند نہیں پہنچا سکی، خواہ فرعون و نمرود جیسے بڑے طاغوت ہی کیوں نہ ہوں۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ تمام انبیاء کے سردار خاتم المرسلین صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا عظیم معجزہ قرآن یقینا ہر قسم کی تحریف سے محفوظ رہا ہے اور رہے گا۔ جب دیگر انبیاء کے وقتی معجزے محفوظ اور غالب رہے ہیں تو ختمی مرتبت صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا یہ ابدی معجزہ کسی تحریف کنندہ کی زد میں کیسے آ سکتا ہے۔


مَا یُقَالُ لَکَ اِلَّا مَا قَدۡ قِیۡلَ لِلرُّسُلِ مِنۡ قَبۡلِکَ ؕ اِنَّ رَبَّکَ لَذُوۡ مَغۡفِرَۃٍ وَّ ذُوۡ عِقَابٍ اَلِیۡمٍ﴿۴۳﴾

۴۳۔ آپ سے وہی کچھ کہا جا رہا ہے جو آپ سے پہلے رسولوں سے کہا گیا ہے، آپ کا رب یقینا مغفرت والا اور دردناک عذاب دینے والا ہے۔