Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

اَفَمَنۡ زُیِّنَ لَہٗ سُوۡٓءُ عَمَلِہٖ فَرَاٰہُ حَسَنًا ؕ فَاِنَّ اللّٰہَ یُضِلُّ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ۫ۖ فَلَا تَذۡہَبۡ نَفۡسُکَ عَلَیۡہِمۡ حَسَرٰتٍ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِمَا یَصۡنَعُوۡنَ﴿۸﴾

۸۔ بھلا وہ شخص جس کے لیے اس کا برا عمل خوشنما بنا دیا گیا ہو اور وہ اسے اچھا سمجھنے لگا ہو (ہدایت یافتہ شخص کی طرح ہو سکتا ہے؟) بے شک اللہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں ڈال دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے لہٰذا ان لوگوں پر افسوس میں آپ کی جان نہ چلی جائے، یہ جو کچھ کر رہے ہیں یقینا اللہ کو اس کا خوب علم ہے۔

8۔ احساس گناہ کا فقدان سب سے بڑا گناہ ہے، چہ جائیکہ برائی کو اچھائی سمجھا جائے۔ اسی بنیاد پر اللہ تعالیٰ اہل افراد کو ہدایت سے نوازتا ہے اور نا اہل کو ہدایت نہیں دیتا اور اللہ کی طرف سے ہدایت نہ ملنے کی صورت میں ضلالت کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے فرماتا ہے کہ ان کی گمراہی پر اپنی جان گھلانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان میں ہدایت کی اہلیت نہیں ہے۔


وَ اللّٰہُ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ الرِّیٰحَ فَتُثِیۡرُ سَحَابًا فَسُقۡنٰہُ اِلٰی بَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَحۡیَیۡنَا بِہِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا ؕ کَذٰلِکَ النُّشُوۡرُ﴿۹﴾

۹۔اور اللہ ہی ہواؤں کو بھیجتا ہے تو وہ بادل کو اٹھاتی ہیں پھر ہم اسے ایک اجاڑ شہر کی طرف لے جاتے ہیں پھر ہم اس سے زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیتے ہیں، اسی طرح (قیامت کو) اٹھنا ہو گا۔

9۔ مری ہوئی زمین کو زندہ ہوتے ہوئے روز دیکھتے ہیں، اس کے باوجود یہ لوگ مرے ہوئے انسانوں کا دوبارہ زندہ ہونا بعید از امکان سمجھتے ہیں۔


مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ الۡعِزَّۃَ فَلِلّٰہِ الۡعِزَّۃُ جَمِیۡعًا ؕ اِلَیۡہِ یَصۡعَدُ الۡکَلِمُ الطَّیِّبُ وَ الۡعَمَلُ الصَّالِحُ یَرۡفَعُہٗ ؕ وَ الَّذِیۡنَ یَمۡکُرُوۡنَ السَّیِّاٰتِ لَہُمۡ عَذَابٌ شَدِیۡدٌ ؕ وَ مَکۡرُ اُولٰٓئِکَ ہُوَ یَبُوۡرُ﴿۱۰﴾

۱۰۔ جو شخص عزت کا خواہاں ہے تو (وہ جان لے کہ) عزت ساری اللہ کے لیے ہے ، پاکیزہ کلمات اسی کی طرف اوپر چلے جاتے ہیں اور نیک عمل اسے بلند کر دیتا ہے اور جو لوگ بری مکاریاں کرتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے اور ایسے لوگوں کا مکر نابود ہو جائے گا۔

10۔عزت بنیادی طور پر صرف اللہ کے لیے ہے، اس کے بعد جسے اللہ عزت دے، وہی باعزت ہو گا اور اللہ کے ہاں سے عزت پانے کا راستہ پاکیزہ کردار و گفتار ہے۔ یعنی ایمان اور عقیدے کے ساتھ عمل صالح اور نیک کردار سے ہی انسان عزت کا رتبہ حاصل کر سکتا ہے۔ اس ایمان و عقیدے کی کوئی قیمت نہیں ہے، جس کا کردار پر کوئی اثر نہ ہو۔

الۡکَلِمُ الطَّیِّبُ سے مراد عقائد و نظریات سے متعلق پاکیزہ تعبیر اور وَ الۡعَمَلُ الصَّالِحُ یَرۡفَعُہٗ سے اعمال کی قبولیت مراد ہو سکتی ہیں۔


وَ اللّٰہُ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ ثُمَّ جَعَلَکُمۡ اَزۡوَاجًا ؕ وَ مَا تَحۡمِلُ مِنۡ اُنۡثٰی وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلۡمِہٖ ؕ وَ مَا یُعَمَّرُ مِنۡ مُّعَمَّرٍ وَّ لَا یُنۡقَصُ مِنۡ عُمُرِہٖۤ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ ؕ اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرٌ﴿۱۱﴾

۱۱۔ اور اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر نطفے سے پھر تمہیں جوڑا بنا دیا اور کوئی عورت نہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ بچہ جنتی ہے مگر اللہ کے علم کے ساتھ اور نہ کسی زیادہ عمر والے کو عمر دی جاتی ہے اور نہ ہی اس کی عمر میں کمی کی جاتی ہے مگر یہ کہ کتاب میں (ثبت) ہے، یقینا یہ سب کچھ اللہ کے لیے آسان ہے۔

11۔ اللہ کے ہاں لوح محفوظ میں پہلے سے یہ ساری باتیں لکھی ہوئی ہیں کہ کس کی کیا عمر ہو گی؟ اسے تقدیر کہتے ہیں۔ واضح رہے کہ تقدیر کا مطلب نظام اور قانون ہے۔ اللہ کے ہاں ہر کام ایک نظام کے تحت انجام پاتا ہے۔ اگر تقدیر نہ ہوتی تو بدنظمی و اندھیر نگری ہوتی۔ تقدیر کا مطلب جبر نہیں ہے، بلکہ تقدیر کا مطلب اختیار و انتخاب ہے۔ اگر کسی شخص کے لیے ایک تقدیر ہوتی تو جبر ہوتا۔ جبکہ ایسا نہیں ہے، بلکہ ہر ایک شخص کو بہت سے مقدرات میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے، چنانچہ حضرت علی علیہ السلام ایک ایسی دیوار سے ہٹ گئے جو گرنے والی تھی تو لوگوں نے کہا: کیا آپ علیہ السلام تقدیر خدا سے بھاگ رہے ہیں؟ فرمایا: افر من قدر اللہ بقدر اللہ ۔ (شرح نہج البلاغۃ 8: 298)میں اللہ کی تقدیر سے اللہ ہی کی تقدیر کی طرف بھاگ رہا ہوں۔ البتہ اللہ کے علم میں ہے کہ انسان اپنے ارادہ و اختیار سے کون سا راستہ اختیار کرنے والا ہے اور کن حالات سے دو چار رہے گا اور کون سے اسباب و علل کے انتخاب کے تحت کیا عمر پانے والا ہے۔


وَ مَا یَسۡتَوِی الۡبَحۡرٰنِ ٭ۖ ہٰذَا عَذۡبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ شَرَابُہٗ وَ ہٰذَا مِلۡحٌ اُجَاجٌ ؕ وَ مِنۡ کُلٍّ تَاۡکُلُوۡنَ لَحۡمًا طَرِیًّا وَّ تَسۡتَخۡرِجُوۡنَ حِلۡیَۃً تَلۡبَسُوۡنَہَا ۚ وَ تَرَی الۡفُلۡکَ فِیۡہِ مَوَاخِرَ لِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِہٖ وَ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ﴿۱۲﴾

۱۲۔ اور دو سمندر برابر نہیں ہوتے: ایک شیریں، پیاس بجھانے والا، پینے میں خوشگوار اور دوسرا کھارا کڑوا اور ہر ایک سے تم تازہ گوشت کھاتے ہو اور زیورات نکال کر پہنتے ہو اور تم ان کشتیوں کو دیکھتے ہو جو پانی کو چیرتی چلی جاتی ہیں تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو اور شاید تم شکرگزار بن جاؤ۔

12۔ یہ دونوں پانی برابر تو نہیں ہو سکتے، تاہم ان دونوں سے بعض فوائد یکساں طور پر حاصل کیے جا سکتے ہیں: تازہ گوشت، زیورات اور کشتی رانی۔ مومن اور مشرک برابر نہیں ہو سکتے، تاہم معاشرتی امور میں دونوں سے یکساں استفادہ کرنا درست ہے۔


یُوۡلِجُ الَّیۡلَ فِی النَّہَارِ وَ یُوۡلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیۡلِ ۙ وَ سَخَّرَ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ ۫ۖ کُلٌّ یَّجۡرِیۡ لِاَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمۡ لَہُ الۡمُلۡکُ ؕ وَ الَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ مَا یَمۡلِکُوۡنَ مِنۡ قِطۡمِیۡرٍ ﴿ؕ۱۳﴾

۱۳۔ وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور سورج اور چاند کو مسخر کیا ہے، ان میں سے ہر ایک مقررہ وقت تک چلتا رہے گا، یہی اللہ تمہارا رب ہے، سلطنت اسی کی ہے اور اس کے علاوہ جنہیں تم پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے چھلکے ( کے برابر کسی چیز) کے مالک نہیں ہیں۔

13۔ اس آیت و دیگر آیات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس نظام شمسی کے لیے ایک عمر متعین ہے، یہ نظام ابدی نہیں ہے۔ اسی طرح تمام ستارگان بھی ابدی نہیں ہیں۔ کہتے ہیں سورج سے ہر سیکنڈ میں چار میلین ٹن انرجی خرچ ہو کر کم ہو رہی ہے اور ایک وقت ایسا آئے گا جب اس کی تمام انرجی ختم ہو جائے گی۔


اِنۡ تَدۡعُوۡہُمۡ لَا یَسۡمَعُوۡا دُعَآءَکُمۡ ۚ وَ لَوۡ سَمِعُوۡا مَا اسۡتَجَابُوۡا لَکُمۡ ؕ وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یَکۡفُرُوۡنَ بِشِرۡکِکُمۡ ؕ وَ لَا یُنَبِّئُکَ مِثۡلُ خَبِیۡرٍ﴿٪۱۴﴾

۱۴۔ اگر تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار سن نہیں سکتے اور اگر سن بھی لیں تو تمہیں جواب نہیں دے سکتے اور قیامت کے دن وہ تمہارے اس شرک کا انکار کریں گے اور (خدائے) باخبر کی طرح تجھے کوئی خبر نہیں دے سکتا۔

14۔ جو ذات رات اور دن کو چلاتی اور سورج چاند کو مسخر کرتی ہے اور ان کے لیے ایک مدت معین کرتی ہے، وہی تمہارا رب ہے۔ تدبیر کائنات اسی کے ہاتھ میں ہے اور اللہ کے علاوہ جن کو تم پکارتے ہو وہ اس کائنات میں کسی حقیر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں، تو تم اس ذات کو چھوڑ کر جس کے پاس سب کچھ ہے، ان کی طرف جاتے ہو جن کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيْرٍ ۔ خطاب رسول اللہ( ص) سے ہے کہ اس امر واقعہ پر آپ کو اللہ کی طرح کوئی خبر نہیں دے سکتا۔


یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اَنۡتُمُ الۡفُقَرَآءُ اِلَی اللّٰہِ ۚ وَ اللّٰہُ ہُوَ الۡغَنِیُّ الۡحَمِیۡدُ﴿۱۵﴾

۱۵۔ اے لوگو ! تم اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تو بے نیاز، لائق ستائش ہے۔


اِنۡ یَّشَاۡ یُذۡہِبۡکُمۡ وَ یَاۡتِ بِخَلۡقٍ جَدِیۡدٍ ﴿ۚ۱۶﴾

۱۶۔ اگر وہ چاہے تو تمہیں نابود کر دے اور نئی خلقت لے آئے۔

15۔16 اللہ کی ذات بے نیاز ہے، اپنی ذات و صفات میں، اپنی معبودیت میں۔ وہ تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے۔ وہ تمہاری جگہ دوسری مخلوق پیدا کر سکتی ہے، جبکہ تم اللہ کے محتاج ہو، اپنے وجود میں، اپنی بقاء میں، تم مجسم محتاج ہو اور اللہ غنی بالذات ہے۔


وَ مَا ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیۡزٍ﴿۱۷﴾

۱۷۔ اور ایسا کرنا اللہ کے لیے مشکل تو نہیں۔