Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ بَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ بِاَنَّ لَہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ فَضۡلًا کَبِیۡرًا﴿۴۷﴾

۴۷۔ اور مومنین کو یہ بشارت دیجئے کہ ان کے لیے اللہ کی طرف سے بڑا فضل ہو گا۔

47۔ فضل و کرم اس ثواب کے علاوہ ہے جو عمل کے مقابلے میں ملتا ہے۔ اس فضل و کرم کا ذکر مطلق ہوا ہے، لہٰذا دنیا اور آخرت دونوں شامل ہیں۔


وَ لَا تُطِعِ الۡکٰفِرِیۡنَ وَ الۡمُنٰفِقِیۡنَ وَ دَعۡ اَذٰىہُمۡ وَ تَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیۡلًا﴿۴۸﴾

۴۸۔ اور آپ کافروں اور منافقوں کی باتوں میں نہ آئیں اور ان کی اذیت رسانی پر توجہ نہ دیا کریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں اور ضمانت کے لیے اللہ کافی ہے۔

48۔ دَعۡ اَذٰىہُمۡ وَ تَوَکَّلۡ : یعنی مشرکین اور منافقین کی طرف سے آپ کو جو اذیت پہنچ رہی ہے تو یہ مسئلہ اللہ پر چھوڑ دیجیے۔ اس میں فتح و نصرت کی ایک نوید ہے۔


یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نَکَحۡتُمُ الۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقۡتُمُوۡہُنَّ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَمَسُّوۡہُنَّ فَمَا لَکُمۡ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ عِدَّۃٍ تَعۡتَدُّوۡنَہَا ۚ فَمَتِّعُوۡہُنَّ وَ سَرِّحُوۡہُنَّ سَرَاحًا جَمِیۡلًا﴿۴۹﴾

۴۹۔ اے مومنو! جب تم مومنات سے نکاح کرو اور پھر ہاتھ لگانے سے پہلے انہیں طلاق دے دو تو تمہیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ انہیں عدت میں بٹھاؤ، لہٰذا انہیں کچھ مال دو اور شائستہ انداز میں انہیں رخصت کرو۔

49۔ صرف عقد نکاح ہوا ہو اور ہمبستری سے پہلے طلاق ہو گئی ہو تو عدت نہیں ہے۔ فَمَتِّعُوۡہُنَّ ”ان کو کچھ مال دو“ یہ اس صورت میں ہے جب عقد نکاح کے موقع پر مہر مقرر نہ ہوا ہو اور اگر نکاح کے موقع پر مہر کا تقرر ہو گیا ہو تو اس کا حکم سورہ بقرہ کی آیت 237 میں بیان ہو چکا کہ نصف مہر دینا ہو گا۔


یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَحۡلَلۡنَا لَکَ اَزۡوَاجَکَ الّٰتِیۡۤ اٰتَیۡتَ اُجُوۡرَہُنَّ وَ مَا مَلَکَتۡ یَمِیۡنُکَ مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰہُ عَلَیۡکَ وَ بَنٰتِ عَمِّکَ وَ بَنٰتِ عَمّٰتِکَ وَ بَنٰتِ خَالِکَ وَ بَنٰتِ خٰلٰتِکَ الّٰتِیۡ ہَاجَرۡنَ مَعَکَ ۫ وَ امۡرَاَۃً مُّؤۡمِنَۃً اِنۡ وَّہَبَتۡ نَفۡسَہَا لِلنَّبِیِّ اِنۡ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنۡ یَّسۡتَنۡکِحَہَا ٭ خَالِصَۃً لَّکَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ؕ قَدۡ عَلِمۡنَا مَا فَرَضۡنَا عَلَیۡہِمۡ فِیۡۤ اَزۡوَاجِہِمۡ وَ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُمۡ لِکَیۡلَا یَکُوۡنَ عَلَیۡکَ حَرَجٌ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۵۰﴾

۵۰۔ اے نبی! ہم نے آپ کے لیے آپ کی وہ بیویاں حلال کی ہیں جن کے مہر آپ نے دے دیے ہیں اور وہ لونڈیاں بھی جو اللہ نے (بغیر جنگ کے) آپ کو عطا کی ہیں نیز آپ کے چچا کی بیٹیاں اور آپ کی پھوپھیوں کی بیٹیاں اور آپ کے ماموں کی بیٹیاں اور آپ کی خالاؤں کی بیٹیاں جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہے (سب حلال ہیں) اور وہ مومنہ عورت جو اپنے آپ کو نبی کے لیے ہبہ کرے اور اگر نبی بھی اس سے نکاح کرنا چاہیں، (یہ اجازت) صرف آپ کے لیے ہے مومنوں کے لیے نہیں، ہمیں معلوم ہے کہ ہم نے مومنوں پر ان کی بیویوں اور کنیزوں کے بارے میں کیا (حق مہر) معین کیا ہے (آپ کو یہ رعایت اس لیے حاصل ہے) تاکہ آپ پر کسی قسم کا مضائقہ نہ ہو اور اللہ بڑا معاف کرنے والا، مہربان ہے۔

50۔ اس اعتراض کہ مومنین کے لیے تو صرف چار بیویوں کی اجازت ہے اور رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خود چار سے زائد بیویاں رکھ رہے ہیں، کا جواب یہ ہے کہ اولاً: جس اللہ نے عام مومنین کے لیے چار کی حد بندی کی ہے، اسی اللہ نے اپنے رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لیے یہ حد بندی نہیں رکھی۔ ثانیاً: رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم چونکہ مقام عصمت پر فائز ہیں اس لیے دوسرے بشری تقاضوں کی حد بندی یہاں رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لیے نہیں ہے۔

یہ بھی رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خصوصیات میں سے ایک ہے کہ کوئی خاتون اپنے آپ کو رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لیے بلا مہر ہبہ کر دے اور رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی قبول کریں تو وہ عورت آپ کی بیوی بن جائے گی۔

لِکَیۡلَا یَکُوۡنَ عَلَیۡکَ حَرَجٌ : اس جملے کا مفہوم یہ ہے: ہم نے آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مومنین سے زیادہ ازواج کی اجازت اس لیے دی ہے کہ آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو کوئی تنگی نہ ہو۔ یعنی رسالت کی ذمہ داریوں کی تکمیل میں کوئی تنگی نہ ہو۔ ان ازواج سے آپ کو دو سہولتیں میسر آئیں۔ اول یہ کہ ان ازواج کے ذریعے مختلف قبائل کی ہمدردیاں حاصل فرمائیں اور بہت سے خاندانی اور قبائلی عداوتیں ختم ہو گئیں۔ دوم یہ کہ ان ازواج کے ذریعے بہت سی نسوانی تربیت جو دوسری صورت میں نہیں ہو سکتی تھی، آسان ہو گئی۔ چنانچہ ازواج کے ذریعے تعلیمات اسلامی کا ایک قابل توجہ حصہ نسوانی معاشرے میں آسانی سے پہنچ گیا۔ اگر خواہشات کی بنیاد پر ہوتیں تو ان ازواج میں ایک کے سوا خواتین سن رسیدہ معمر نہ ہوتیں۔بعض ازواج سے تو صرف نکاح ہوا اور بس۔


تُرۡجِیۡ مَنۡ تَشَآءُ مِنۡہُنَّ وَ تُــٔۡوِیۡۤ اِلَیۡکَ مَنۡ تَشَآءُ ؕ وَ مَنِ ابۡتَغَیۡتَ مِمَّنۡ عَزَلۡتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکَ ؕ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَنۡ تَقَرَّ اَعۡیُنُہُنَّ وَ لَا یَحۡزَنَّ وَ یَرۡضَیۡنَ بِمَاۤ اٰتَیۡتَہُنَّ کُلُّہُنَّ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ مَا فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیۡمًا حَلِیۡمًا﴿۵۱﴾

۵۱۔ آپ ان بیویوں میں سے جسے چاہیں علیحدہ رکھیں اور جسے چاہیں اپنے پاس رکھیں اور جسے آپ نے علیحدہ کر دیا ہو اسے آپ پھر اپنے پاس بلانا چاہتے ہوں تو اس میں آپ پر کوئی مضائقہ نہیں ہے، یہ اس لیے ہے کہ اس میں زیادہ توقع ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ رنجیدہ نہ ہوں اور جو کچھ بھی آپ انہیں دیں وہ سب اسی پر راضی ہوں اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اللہ اسے جانتا ہے اور اللہ بڑا جاننے والا، بردبار ہے۔

51۔ اس آیت کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ازواج کی بہت سی الجھنوں سے آزاد کر دیا کہ آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جس طرح چاہیں اپنی ازواج کے ساتھ برتاؤ کریں۔ لیکن روایات کے مطابق حضور صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس اختیار کے باوجود سب کے ساتھ یکساں برتاؤ کیا۔


لَا یَحِلُّ لَکَ النِّسَآءُ مِنۡۢ بَعۡدُ وَ لَاۤ اَنۡ تَبَدَّلَ بِہِنَّ مِنۡ اَزۡوَاجٍ وَّ لَوۡ اَعۡجَبَکَ حُسۡنُہُنَّ اِلَّا مَا مَلَکَتۡ یَمِیۡنُکَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ رَّقِیۡبًا﴿٪۵۲﴾

۵۲۔ اس کے بعد آپ کے لیے دوسری عورتیں حلال نہیں ہیں اور نہ اس بات کی اجازت ہے کہ ان بیویوں کو بدل لیں خواہ ان (دوسری) عورتوں کا حسن آپ کو کتنا ہی پسند ہو سوائے ان (کنیز) عورتوں کے جو آپ کی ملکیت میں ہوں اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے۔

52۔ مِنْۢ بَعْدُ : کی دو تفسیریں ہیں۔: اول یہ کہ جن عورتوں کا آیت 50 میں ذکر آیا ہے، ان کے بعد دوسری عورتیں آپ کے لیے حرام ہیں۔ دوم یہ کہ جب آپ کی ازواج اس بات پر راضی ہیں کہ آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کے ساتھ جو چاہیں برتاؤ کریں، اس کے بعد آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لیے حلال نہیں ہے کہ ان میں سے کسی کو طلاق دیں اور اس کی جگہ کسی اور سے شادی کریں۔


یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَدۡخُلُوۡا بُیُوۡتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنۡ یُّؤۡذَنَ لَکُمۡ اِلٰی طَعَامٍ غَیۡرَ نٰظِرِیۡنَ اِنٰىہُ ۙ وَ لٰکِنۡ اِذَا دُعِیۡتُمۡ فَادۡخُلُوۡا فَاِذَا طَعِمۡتُمۡ فَانۡتَشِرُوۡا وَ لَا مُسۡتَاۡنِسِیۡنَ لِحَدِیۡثٍ ؕ اِنَّ ذٰلِکُمۡ کَانَ یُؤۡذِی النَّبِیَّ فَیَسۡتَحۡیٖ مِنۡکُمۡ ۫ وَ اللّٰہُ لَا یَسۡتَحۡیٖ مِنَ الۡحَقِّ ؕ وَ اِذَا سَاَلۡتُمُوۡہُنَّ مَتَاعًا فَسۡـَٔلُوۡہُنَّ مِنۡ وَّرَآءِ حِجَابٍ ؕ ذٰلِکُمۡ اَطۡہَرُ لِقُلُوۡبِکُمۡ وَ قُلُوۡبِہِنَّ ؕ وَ مَا کَانَ لَکُمۡ اَنۡ تُؤۡذُوۡا رَسُوۡلَ اللّٰہِ وَ لَاۤ اَنۡ تَنۡکِحُوۡۤا اَزۡوَاجَہٗ مِنۡۢ بَعۡدِہٖۤ اَبَدًا ؕ اِنَّ ذٰلِکُمۡ کَانَ عِنۡدَ اللّٰہِ عَظِیۡمًا﴿۵۳﴾

۵۳۔ اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں داخل نہ ہونا مگر یہ کہ تمہیں کھانے کے لیے اجازت دی جائے اور نہ ہی پکنے کا انتظار کرو، لیکن جب دعوت دے دی جائے تو داخل ہو جاؤ اور جب کھانا کھا چکو تو منتشر ہو جاؤ اور باتوں میں لگے بیٹھے نہ رہو، یہ بات نبی کو تکلیف پہنچاتی ہے مگر وہ تمہارا لحاظ کرتے ہیں لیکن اللہ حق بات کرنے سے نہیں شرماتا اور جب تمہیں نبی کی بیویوں سے کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو، یہ تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے زیادہ بہتر طریقہ ہے تمہیں یہ حق نہیں کہ اللہ کے رسول کو اذیت دو اور ان کی ازواج سے ان کے بعد کبھی بھی نکاح نہ کرو، بتحقیق یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے۔

53۔ اسلامی آداب و تہذیب رائج ہونے سے پہلے عربوں کے ہاں گھروں میں بلا اجازت داخل ہونے کا رواج عام تھا۔ اس آیت میں شروع میں یہ حکم آیا کہ نبی کے گھروں میں بلا اجازت داخل نہ ہوں۔ بعد میں سورئہ نور میں تمام مسلمانوں کے گھروں میں جانے کے لیے اجازت لینا لازمی قرار دیا گیا۔ دوسری بری عادت ان میں یہ تھی کہ انہیں کسی کے ہاں جانا ہوتا تو کھانے کے وقت پہنچ جاتے یا کھانے کے وقت تک بیٹھے رہتے۔ ادھر صاحب خانہ نہ تو انہیں اٹھا سکتا، نہ اس کی مالی حالت ایسی ہوتی کہ اچانک آنے والوں کو کھانا کھلائے۔ اس رسم بد سے نجات دلانے کے لیے حکم ہوا کہ کسی کے گھر کھانے کے وقت دعوت کے بغیر نہ جایا کریں۔ تیسری بری عادت یہ تھی کہ کھانے پر دعوت دی جائے تو کھانے کے بعد اٹھتے نہیں تھے۔ اس بارے میں حکم ہوا کہ کھانا کھا چکو تو اٹھ جایا کریں۔ چوتھی بات: ازواج رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لیے یہ حکم آیا کہ وہ غیر محرم مردوں کے سامنے نہ آئیں اور مردوں نے بھی کوئی چیز طلب کرنی ہو تو پردے کے پیچھے سے طلب کریں۔ پانچویں بات: طلحہ بن عبید اللہ صحابی نے کہا تھا: محمد صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہمارے بعد ہماری عورتوں سے شادی کرتے ہیں، ہم بھی ان کے بعد ان کی زوجات سے شادی کریں گے۔ اس صحابی کے قول سے رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اذیت ہوئی۔

اگر رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ازواج سے رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حیات کے بعد شادی ممنوع نہ ہوتی تو لوگ رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد ازواج رسول سے شادی کر کے اپنا مقام بنانے اور سیاسی مقاصد حال کرنے کی کوشش کرتے جس سے اختلاف بڑھ جاتا اور رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اہانت ہوتی۔ چنانچہ لوگوں نے ازواج رسول سے اپنے سیاسی مفادات حاصل کرنے کی کوشش کی۔


اِنۡ تُبۡدُوۡا شَیۡئًا اَوۡ تُخۡفُوۡہُ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا﴿۵۴﴾

۵۴۔ تم کسی بات کو خواہ چھپاؤ یا ظاہر کرو اللہ تو یقینا ہر چیز کا خوب علم رکھتا ہے۔


لَا جُنَاحَ عَلَیۡہِنَّ فِیۡۤ اٰبَآئِہِنَّ وَ لَاۤ اَبۡنَآئِہِنَّ وَ لَاۤ اِخۡوَانِہِنَّ وَ لَاۤ اَبۡنَآءِ اِخۡوَانِہِنَّ وَ لَاۤ اَبۡنَآءِ اَخَوٰتِہِنَّ وَ لَا نِسَآئِہِنَّ وَ لَا مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُنَّ ۚ وَ اتَّقِیۡنَ اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدًا﴿۵۵﴾

۵۵۔ (رسول کی) ازواج پر کوئی مضائقہ نہیں اپنے باپوں، اپنے بیٹوں، اپنے بھائیوں، اپنے بھتیجوں، اپنے بھانجوں، اپنی مسلم خواتین اور کنیزوں سے (پردہ نہ کرنے میں) اور اللہ کا خوف کریں، اللہ یقینا ہر چیز پر گواہ ہے۔


اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا﴿۵۶﴾

۵۶۔ اللہ اور اس کے فرشتے یقینا نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو جیسے سلام بھیجنے کا حق ہے۔

56۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو متعدد اصحاب نے حضور صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سوال کیا کہ آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر درود بھیجنے کا طریقہ کیا ہے؟ اس کے جواب میں حضور صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے درود کے لیے جو الفاظ سکھائے ہیں ان کو درج ذیل اصحاب نے تھوڑے فرق کے ساتھ نقل کیا ہے:

اللّٰھم صلی علی محمد و علی آل محمد کما صلیت علی ابراھیم و علی آلِ ابراھیم و بارک علی محمد و علی اٰل محمد کما بارکت علی ابراھیم و علی اٰل ابراھیم انک حمید مجید ۔

1۔ابن عباس سے ابن جریر نے روایت کی ہے۔ 2۔ کعب بن عجرہ سے بخاری، مسلم اور نسائی نے روایت کی ہے۔ 3۔ ابو سعید خدری سے بخاری، نسائی اور ابن ماجہ نے۔ 4۔ ابو ہریرہ سے نسائی نے۔ 5۔ بریدۃ الخزاعی سے احمد بن حنبل و ابن مردویہ نے۔ 6۔ طلحہ سے ابن جریر نے۔ 7۔ ابو مسعود سے مسلم، نسائی وغیرہ نے۔ 8۔ ابو حمید ساعدی سے بخاری، مسلم، نسائی وغیرہ نے روایت کی ہے۔ صرف اس روایت میں آل کی جگہ ازواج و ذریت کا لفظ موجود ہے۔ ذریت اور آل کو ہم معنی تسلیم کیا جائے تو یہ روایت دوسری روایتوں کے مطابق ہو جاتی ہے۔ 9۔ ابو خارجہ سے نسائی اور احمد بن حنبل نے۔ 10۔ انس سے ابن مردویہ نے۔ 11۔ ابن مسعود سے ابن مردویہ نے روایت کی ہے۔

جو لوگ آل محمد صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مراد ہر مومن کو لیتے ہیں وہ یہ استدلال کرتے ہیں کہ قرآن میں آل فرعون اس کے ماننے والوں کے لیے استعمال ہوا ہے۔ نہ معلوم ان کو آل فرعون کیوں یاد آتے ہیں، جبکہ ان احادیث میں آل ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے: اے اللہ درود بھیج محمد صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر اور آل محمد صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر جیسا کہ تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم علیہ السلام پر درود بھیجا ہے، تو تحقیق اس بات پر ہونی چاہیے کہ آل ابراہیم علیہ السلام سے مراد کون ہیں؟ قرآن فرماتا ہے: فَقَدْ اٰتَيْنَآ اٰلَ اِبْرٰہِيْمَ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ (نساء:54) ہم نے اٰل ابراہیم علیہ السلام کو کتاب و حکمت عنایت کی۔ چونکہ کتاب و حکمت ابراہیم علیہ السلام کی ذریت کو عنایت ہوئی ہے، لہٰذا یہاں بھی آل سے مراد ذریت ہے۔ ثانیاً : اگر آل سے مراد ہر مومن ہے تو انہیں درود بھیجتے ہوئے آل کے ذکر سے کترانا نہیں چاہیے۔ جبکہ یہ حضرات ”صلی اللہ علیہ وسلم“ لکھتے اور کہتے ہیں اور آل کا ذکر نہیں کرتے۔ ثالثاً اگر آل سے مراد ہر مومن ہے تو پھر اصحاب و ازواج کے الگ ذکر کی کیا ضرورت ہے، جبکہ وہ بھی اہل ایمان کے ضمن میں آتے ہیں؟


Deprecated: str_ireplace(): Passing null to parameter #3 ($subject) of type array|string is deprecated in /home/balaghroot/public_html/inc-search-results.php on line 151