Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ حُشِرَ لِسُلَیۡمٰنَ جُنُوۡدُہٗ مِنَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ وَ الطَّیۡرِ فَہُمۡ یُوۡزَعُوۡنَ﴿۱۷﴾

۱۷۔ اور سلیمان کے لیے جنوں اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور ان کی جماعت بندی کی جاتی تھی ۔

17۔اس آیت کی نص صریح کے مطابق حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے جنات مسخر تھے، بلکہ ان کے لیے جن و انس کے ساتھ پرندے بھی مسخر تھے۔ لہٰذا اس امر میں کسی قسم کی تاویل قرآن کی معنوی تحریف ہو گی۔


حَتّٰۤی اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰی وَادِ النَّمۡلِ ۙ قَالَتۡ نَمۡلَۃٌ یّٰۤاَیُّہَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰکِنَکُمۡ ۚ لَا یَحۡطِمَنَّکُمۡ سُلَیۡمٰنُ وَ جُنُوۡدُہٗ ۙ وَ ہُمۡ لَا یَشۡعُرُوۡنَ﴿۱۸﴾

۱۸۔ یہاں تک کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا: اے چیونٹیو! اپنے اپنے گھروں میں گھس جاؤ، کہیں سلیمان اور ان کا لشکر تمہیں کچل نہ ڈالے اور انہیں پتہ بھی نہ چلے۔

18۔انبیاء علیہم السلام کی روح میں وہ لطافت موجود ہوتی ہے جس سے وہ وحی الہٰی کا ادراک کرتے ہیں۔ اس لیے چیونٹی کا کلام سننا کوئی انہونی بات نہیں ہے۔ تعجب اس بات پر ہونا چاہیے کہ چیونٹی کے ادراک میں یہ بات آگئی کہ یہ لوگ حضرت سلیمان علیہ السلام اور ان کا لشکر ہیں اور وہ غیر ارادی طور پر انہیں کچل ڈالیں گے۔


فَتَبَسَّمَ ضَاحِکًا مِّنۡ قَوۡلِہَا وَ قَالَ رَبِّ اَوۡزِعۡنِیۡۤ اَنۡ اَشۡکُرَ نِعۡمَتَکَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَیَّ وَ عَلٰی وَالِدَیَّ وَ اَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىہُ وَ اَدۡخِلۡنِیۡ بِرَحۡمَتِکَ فِیۡ عِبَادِکَ الصّٰلِحِیۡنَ﴿۱۹﴾

۱۹۔ اس کی باتیں سن کر سلیمان ہنستے ہوئے مسکرائے اور کہنے لگے: میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر بجا لاؤں جن سے تو نے مجھے اور میرے والدین کو نوازا ہے اور یہ کہ میں ایسا صالح عمل انجام دوں جو تجھے پسند آئے اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے صالح بندوں میں داخل فرما۔

19۔ ترتیب کلام سے یہ نتیجہ اخذ کرنا بعید نہ ہو گا کہ شکر اور قدردانی کی قدروں کا مالک ہونے کے بعد وہ عمل صالح بجا لانا ممکن ہوتا ہے جس میں اللہ کی رضامندی ہے اور صالح بندوں میں داخل ہونا صرف عمل سے ممکن نہیں ہے، بلکہ اللہ کی رحمت سے ممکن ہے: بِرَحۡمَتِکَ ۔


وَ تَفَقَّدَ الطَّیۡرَ فَقَالَ مَا لِیَ لَاۤ اَرَی الۡہُدۡہُدَ ۫ۖ اَمۡ کَانَ مِنَ الۡغَآئِبِیۡنَ﴿۲۰﴾

۲۰۔ سلیمان نے پرندوں کا معائنہ کیا تو کہا: کیا بات ہے کہ مجھے ہدہد نظر نہیں آ رہا؟ کیا وہ غائب ہو گیا ہے؟

20۔ لشکر سلیمان علیہ السلام میں مسخر ایک خاص ہدہد کا ذکر ہو سکتا ہے کہ جس کا غائب ہونا حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے اہمیت کا حامل تھا۔


لَاُعَذِّبَنَّہٗ عَذَابًا شَدِیۡدًا اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّہٗۤ اَوۡ لَیَاۡتِیَنِّیۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ﴿۲۱﴾

۲۱۔ میں اسے ضرور سخت ترین سزا دوں گا یا میں اسے ذبح کر دوں گا مگر یہ کہ میرے پاس کوئی واضح عذر پیش کرے۔


فَمَکَثَ غَیۡرَ بَعِیۡدٍ فَقَالَ اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِہٖ وَ جِئۡتُکَ مِنۡ سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ یَّقِیۡنٍ﴿۲۲﴾

۲۲۔ زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ اس نے (حاضر ہو کر) کہا: مجھے اس چیز کا علم ہوا ہے جو آپ کو معلوم نہیں اور ملک سبا سے آپ کے لیے ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں۔


اِنِّیۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَۃً تَمۡلِکُہُمۡ وَ اُوۡتِیَتۡ مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ وَّ لَہَا عَرۡشٌ عَظِیۡمٌ﴿۲۳﴾

۲۳۔ میں نے ایک عورت دیکھی جو ان پر حکمران ہے اور اسے ہر قسم کی چیزیں دی گئی ہیں اور اس کا عظیم الشان تخت ہے۔

23۔ ملک سبا وہی ہے جسے آج کل یمن کہا جاتا ہے۔ یہ ملک اس زمانے میں اپنی زرخیزی اور تجارت کی وجہ سے نہایت دولت مند ملک شمار ہوتا تھا اور اپنے وقت کے عظیم تمدن کا حامل تھا۔ وَّ لَہَا عَرۡشٌ عَظِیۡمٌ سے اس ملک کے تمدن کی عظمت کا اندازہ ہوتا ہے۔ وَ اُوۡتِیَتۡ مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسے اس زمانے کی تمام آسائشیں حاصل تھیں۔ کچھ لوگوں کے لیے یہ بات قابل فہم نہیں ہے کہ ہدہد جیسے ایک پرندے میں یہ شعور موجود ہو کہ وہ اس ملک کی خصوصیات اور مذہب وغیرہ کو سمجھے اور بیان کرے۔

حیوانات کی شعوری دنیا کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ بعض حیوانات میں بعض باتوں کا شعور وادراک انسانوں سے زیادہ ہے۔ قرآن کی معنوی تحریف کے مرتکب ہونے والوں کے نزدیک مادی سائنسدان اللہ سے زیادہ قابل اعتماد ہیں!! آخر یہ لوگ ایسے اللہ کو ماننے کی زحمت کیوں کرتے ہیں جس کی باتوں پر یقین نہیں آتا؟!! چنانچہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ایک ہدہد کے لیے ایسا شعور و ادراک ممکن نہیں، پس ہدہد حضرت سلیمان علیہ السلام کے لشکر کے ایک جرنیل کا نام تھا۔


وَجَدۡتُّہَا وَ قَوۡمَہَا یَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ زَیَّنَ لَہُمُ الشَّیۡطٰنُ اَعۡمَالَہُمۡ فَصَدَّہُمۡ عَنِ السَّبِیۡلِ فَہُمۡ لَا یَہۡتَدُوۡنَ ﴿ۙ۲۴﴾

۲۴۔ میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال ان کے لیے خوشنما بنا رکھے ہیں اور اس طرح ان کے لیے راہ خدا کو مسدود کر دیا ہے، پس وہ ہدایت نہیں پاتے۔

24۔ قرآن کی تائید عرب کی قدیم تاریخ سے ہوتی ہے کہ سبا کی قوم آفتاب پرستی کے مذہب پر قائم تھی۔


اَلَّا یَسۡجُدُوۡا لِلّٰہِ الَّذِیۡ یُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ یَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَ مَا تُعۡلِنُوۡنَ﴿۲۵﴾

۲۵۔ کیا وہ اللہ کے لیے سجدہ نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزیں نکالتا ہے اور وہ تمہارے پوشیدہ اور ظاہری اعمال کو جانتا ہے؟

25۔ الۡخَبۡءَ : پوشیدہ۔ اللہ آسمان اور زمین کے شکم میں پوشیدہ چیزیں نکالتا ہے۔ سورج کی شعاعوں میں پوشیدہ کرنوں سے زمین میں رعنائیاں نکالتا ہے اور زمین کے شکم میں پوشیدہ چیزوں کو نکال کر انسان کے دستر خوان پر طرح طرح کے میوے اور کھانے سجاتا ہے۔


اَللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِیۡمِ ﴿ٛ۲۶﴾۩

۲۶۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی عرش عظیم کا رب ہے۔