Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ کَذٰلِکَ اَنۡزَلۡنٰہُ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ ۙ وَّ اَنَّ اللّٰہَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یُّرِیۡدُ﴿۱۶﴾

۱۶۔ اور اسی طرح ہم نے قرآن کو واضح آیات کی صورت میں نازل کیا اور اللہ جس کے لیے ارادہ کرتا ہے اسے ہدایت دیتا ہے۔


اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا وَ الصّٰبِئِیۡنَ وَ النَّصٰرٰی وَ الۡمَجُوۡسَ وَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡۤا ٭ۖ اِنَّ اللّٰہَ یَفۡصِلُ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ﴿۱۷﴾

۱۷۔ یقینا ایمان لانے والوں، یہودیوں، صابیوں، نصرانیوں، مجوسیوں اور مشرکوں کے درمیان اللہ قیامت کے دن فیصلہ کرے گا، یقینا اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔

17۔ ایمان والوں سے مراد مسلمان ہیں۔ ہَادُوۡا سے مراد یہود ہیں، جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے تابع ہیں۔ ان کی کتاب توریت ہے۔ بخت نصر بابل کے بادشاہ نے یہود پر فتح حاصل کی اور توریت کو جلا دیا۔ بعد میں از روئے حفظ ایک نئی توریت بنا لی گئی۔ نصاریٰ حضرت مسیح کے پیروکاروں کو کہتے ہیں۔ صابِئِیۡنَ کا مذہب حضرت یحییٰ علیہ السلام سے منسوب ہے۔ مجوس یعنی ذرتشت کے ماننے والے۔ ان کی مقدس کتاب کو اوسنا کہتے ہیں۔ عناصر کو تقدس دیتے ہیں، خصوصاً آتش کو۔ وہ روشنی اور تاریکی دو خداؤں کو مانتے ہیں۔ مشرکین سے مراد غیر اہل کتاب مشرک ہیں۔ اگر چہ بعض اہل کتاب شرک میں ملوث ہیں۔

ان مختلف ادیان کے درمیان دنیا میں فیصلہ نہیں ہو گا۔ ان میں سے کون حق پر ہے اور کون ناحق ہے، اس کا فیصلہ قیامت کے دن ہو گا۔


اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یَسۡجُدُ لَہٗ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ وَ الشَّمۡسُ وَ الۡقَمَرُ وَ النُّجُوۡمُ وَ الۡجِبَالُ وَ الشَّجَرُ وَ الدَّوَآبُّ وَ کَثِیۡرٌ مِّنَ النَّاسِ ؕ وَ کَثِیۡرٌ حَقَّ عَلَیۡہِ الۡعَذَابُ ؕ وَ مَنۡ یُّہِنِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ مُّکۡرِمٍ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَفۡعَلُ مَا یَشَآءُ ﴿ؕٛ۱۸﴾۩

۱۸۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے نیز سورج، چاند، ستارے،پہاڑ ، درخت، جانور اور بہت سے انسان اللہ کے لیے سجدہ کرتے ہیں اور بہت سے لوگ جن پر عذاب حتمی ہو گیا ہے اور جسے اللہ خوار کرے اسے عزت دینے والا کوئی نہیں، یقینا اللہ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔

18۔ یعنی کائنات میں موجود تمام مخلوقات خواہ انسانوں کی طرح صاحب عقل ہوں یا جمادات و نباتات کی طرح بے عقل ہوں، اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتی ہیں۔ اس کارواں میں پوری کائنات شامل ہے اور تمام موجودات اپنے خالق کے حضور سجدہ ریز ہیں، سوائے اس انسان کے۔ یہاں انسانوں میں بہت سے لوگ اس قافلے میں شامل نہیں ہیں۔ اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوۡمًا جَہُوۡلًا ۔ (احزاب: 72)


ہٰذٰنِ خَصۡمٰنِ اخۡتَصَمُوۡا فِیۡ رَبِّہِمۡ ۫ فَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا قُطِّعَتۡ لَہُمۡ ثِیَابٌ مِّنۡ نَّارٍ ؕ یُصَبُّ مِنۡ فَوۡقِ رُءُوۡسِہِمُ الۡحَمِیۡمُ ﴿ۚ۱۹﴾

۱۹۔ ان دونوں فریقوں نے اپنے رب کے بارے میں اختلاف کیا ہے ، پس جنہوں نے کفر کیا ان کے لیے آتشیں لباس آمادہ ہے، ان کے سروں کے اوپر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا۔

19۔ دونوں فریق ہمیشہ ایک دوسرے کے مقابلے میں صف آراء ہیں۔ حق اور باطل ایمان اور کفر پوری انسانیت کی تاریخ میں برسرپیکار ہیں۔ اگرچہ باطل کی شاخیں بے شمار ہیں، تاہم سب اہل باطل اپنے کفر میں متحد ہیں: الکفر ملۃ واحدۃ۔

تفسیر در منثور میں آیا ہے کہ یہ آیت بدر کے اسلامی مجاہدین حمزہ و عبیدہ بن حارث اور علی علیہ السلام نیز کفار کے عتبہ و شیبہ اور ولید بن عتبہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور یہ بات صحاح میں منقول ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: انا اول من یجثو بین یدی الرحمن للخصومۃ یوم القیامۃ ۔ (صحیح بخاری 9: 374 ح 4626، بحار الانوار 19: 312) میں وہ پہلا شخص ہوں گا جو حق طلبی کے لیے قیامت کے روز اللہ کے سامنے دو زانو ہو گا۔


یُصۡہَرُ بِہٖ مَا فِیۡ بُطُوۡنِہِمۡ وَ الۡجُلُوۡدُ ﴿ؕ۲۰﴾

۲۰۔ جس سے ان کے پیٹ میں جو کچھ ہے اور کھالیں گل جائیں گے۔


وَ لَہُمۡ مَّقَامِعُ مِنۡ حَدِیۡدٍ﴿۲۱﴾

۲۱۔ اور ان (کو مارنے) کے لیے لوہے کے ہتھوڑے ہوں گے۔


کُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ یَّخۡرُجُوۡا مِنۡہَا مِنۡ غَمٍّ اُعِیۡدُوۡا فِیۡہَا ٭ وَ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِیۡقِ﴿٪۲۲﴾

۲۲۔ جب وہ رنج کی وجہ سے جہنم سے نکلنے کی کوشش کریں گے تو پھر اسی میں پلٹا دیے جائیں گے اور (کہا جائے گا) جلنے کا عذاب چکھو۔


اِنَّ اللّٰہَ یُدۡخِلُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ یُحَلَّوۡنَ فِیۡہَا مِنۡ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَہَبٍ وَّ لُؤۡلُؤًا ؕ وَ لِبَاسُہُمۡ فِیۡہَا حَرِیۡرٌ﴿۲۳﴾

۲۳۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بجا لائے ہیں اللہ یقینا انہیں ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی، سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے ان کی آرائش کی جائے گی اور ان جنتوں میں ان کے لباس ریشم کے ہوں گے۔

23۔ یعنی جنت میں دنیاوی تصورات کے مطابق شاہانہ زندگی ہو گی۔ چنانچہ سونے کے کنگن بادشاہوں کے استعمال میں ہوتے تھے۔


وَ ہُدُوۡۤا اِلٰی الطَّیِّبِ مِنَ الۡقَوۡلِ ۚۖ وَ ہُدُوۡۤا اِلَی صِرَاطِ الۡحَمِیۡدِ﴿۲۴﴾

۲۴۔ اور انہیں پاکیزہ گفتار کی طرف ہدایت دی گئی اور انہیں لائق ستائش (خدا) کی راہ دکھائی گئی ہے۔

24۔ پاکیزہ باطن سے ہی پاکیزہ گفتار وجود میں آتی ہے۔ آخرت میں اہل جنت کے باطن پاکیزہ ہوں گے، گفتار بھی پاکیزہ ہو گی۔ چنانچہ دنیا میں پاکیزہ ہستیوں کے پاکیزہ کلام ہمارے لیے رہنما اصول ہوتے ہیں۔


اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ یَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ الَّذِیۡ جَعَلۡنٰہُ لِلنَّاسِ سَوَآءَ اۨلۡعَاکِفُ فِیۡہِ وَ الۡبَادِ ؕ وَ مَنۡ یُّرِدۡ فِیۡہِ بِاِلۡحَادٍۭ بِظُلۡمٍ نُّذِقۡہُ مِنۡ عَذَابٍ اَلِیۡمٍ﴿٪۲۵﴾

۲۵۔جو لوگ کافر ہوئے اور راہ خدا میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں اور اس مسجد الحرام کی راہ میں بھی جسے ہم نے سب لوگوں کے لیے بنایا ہے اور جس میں مقامی لوگ اور باہر سے آنے والے سب برابر ہیں اور جو اس میں زیادتی کے ساتھ کجروی کا ارادہ کرے اسے ہم ایک دردناک عذاب چکھائیں گے۔

25۔ مسجد الحرام تمام مسلمانوں کے لیے وقف ہے۔ اس میں عبادت سے منع کرنے کا کسی کو حق نہیں ہے۔ اس حق میں مقامی باشندے اور دیگر علاقوں سے آنے والے سب برابر ہیں۔