Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡجِبَالِ فَقُلۡ یَنۡسِفُہَا رَبِّیۡ نَسۡفًا﴿۱۰۵﴾ۙ

۱۰۵۔ اور یہ لوگ ان پہاڑوں کے بارے میں آپ سے پوچھتے ہیں پس آپ کہدیجئے: میرا رب انہیں اڑا کر بکھیر دے گا۔


فَیَذَرُہَا قَاعًا صَفۡصَفًا﴿۱۰۶﴾ۙ

۱۰۶۔ پھر اسے ہموار میدان بنا کر چھوڑے گا۔


لَّا تَرٰی فِیۡہَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمۡتًا﴿۱۰۷﴾ؕ

۱۰۷۔ نہ آپ اس میں کوئی ناہمواری دیکھیں گے نہ بلندی۔

105 تا107۔ سوال ہوا کہ روز قیامت پہاڑوں کی کیا صورت ہو گی؟ جواب میں فرمایا پہاڑ نابود ہو جائیں گے اور اس کرہ ارض کی عمر اختتام کو پہنچے گی اور اس کی موجودہ کیفیت تبدیل ہو کر پورا کرہ ارض ایک ہموار میدان بن جائے گا۔


یَوۡمَئِذٍ یَّتَّبِعُوۡنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَہٗ ۚ وَ خَشَعَتِ الۡاَصۡوَاتُ لِلرَّحۡمٰنِ فَلَا تَسۡمَعُ اِلَّا ہَمۡسًا﴿۱۰۸﴾

۱۰۸۔ اس دن لوگ منادی کے پیچھے دوڑیں گے جس میں کوئی انحراف نہ ہو گا اور رحمن کے سامنے آوازیں دب جائیں گی، پس آپ آہٹ کے سوا کچھ نہ سنیں گے ۔

108۔ قیامت کے دن لوگ پکارنے والے کی ایسی اتباع کریں گے جس میں کسی قسم کی کوتاہی یا انحراف نہ ہو گا۔ چونکہ روز قیامت یوم حساب ہے اور حکم صرف اللہ کا چلے گا۔ دنیا کی طرح آزاد نہیں ہیں کہ کوئی سرکشی کر سکے، حتیٰ کہ اونچی آواز میں بات بھی نہیں کر سکیں گے۔


یَوۡمَئِذٍ لَّا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَۃُ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَہُ الرَّحۡمٰنُ وَ رَضِیَ لَہٗ قَوۡلًا﴿۱۰۹﴾

۱۰۹۔ اس روز شفاعت کسی کو فائدہ نہ دے گی سوائے اس کے جسے رحمن اجازت دے اور اس کی بات کو پسند کرے ۔

109۔ قیامت کے دن ہر مجرم کو اپنے جرم کی سزا ملے گی۔ یہاں اللہ کی عدالت میں عدل و انصاف کے ساتھ ہونے والے فیصلے کے سامنے کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی، لہٰذا کسی کی شفاعت فائدہ مند نہیں ہو گی۔ یہاں دو حالتوں کی استثناء ہے: اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَہُ الرَّحۡمٰنُ ۔ قیامت کے دن اذن خدا کے بغیر کوئی بات تک نہیں کر سکے گا کیونکہ روز قیامت صرف اللہ کی حاکمیت ہو گی۔ علل و اسباب کی تاثیر ختم ہو جائے گی جیسا کہ دنیا میں ہے۔ وَ رَضِیَ لَہٗ قَوۡلًاا ۔ دنیا میں اللہ اس شخص کی بات پسند کرتا ہے جو اس کے عمل کے عین مطابق ہو اور اس کا عمل اس کے قول کے خلاف نہ ہو۔ آخرت میں بھی اللہ کی مزاج شناس ہستیاں ہوں گی جو صرف اللہ کی مرضی کے مطابق شفاعت کریں گی۔


یَعۡلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مَا خَلۡفَہُمۡ وَ لَا یُحِیۡطُوۡنَ بِہٖ عِلۡمًا﴿۱۱۰﴾

۱۱۰۔ اور وہ لوگوں کے سامنے اور پیچھے کی سب باتیں جانتا ہے اور وہ کسی کے احاطہ علم میں نہیں آسکتا۔

110۔ متعد دآیات سے معلوم ہوتا ہے کہ شفاعت کا تعلق علم سے ہے۔ یعنی اعمال عباد کا علم ہو تو شفاعت کے لیے گنجائش بنتی ہے اور دنیا میں جو لوگ بندوں کے اعمال پر شاہد ہیں ان کو اللہ اعمال عباد پر آگاہ کرتا ہے۔ اس لیے قیامت کے دن ان کو شفاعت کا حق مل سکتا ہے۔


وَ عَنَتِ الۡوُجُوۡہُ لِلۡحَیِّ الۡقَیُّوۡمِ ؕ وَ قَدۡ خَابَ مَنۡ حَمَلَ ظُلۡمًا﴿۱۱۱﴾

۱۱۱۔ سب چہرے اس حی اور قیوم کے سامنے جھکے ہوئے ہوں گے اور جو کوئی ظلم کا بوجھ اٹھائے گا وہ نامراد ہو گا ۔


وَ مَنۡ یَّعۡمَلۡ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ ہُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلۡمًا وَّ لَا ہَضۡمًا ﴿۱۱۲﴾

۱۱۲۔ اور جو نیک اعمال بجا لائے اور وہ مومن بھی ہو تو اسے نہ ظلم کا خوف ہو گا اور نہ حق تلفی کا ۔

112۔ وَ ہُوَ مُؤۡمِنٌ : نیکیاں ایمان کے ساتھ ہوں تو نیکیاں رہتی ہیں، غیر مومن سے صادر ہونے والا کام نیکی نہیں ہو سکتا اور اگر غیر مومن کوئی نیکی انجام دیتا ہے تو اس کا عمل کفر کی وجہ سے حبط ہو جاتا ہے۔


وَ کَذٰلِکَ اَنۡزَلۡنٰہُ قُرۡاٰنًا عَرَبِیًّا وَّ صَرَّفۡنَا فِیۡہِ مِنَ الۡوَعِیۡدِ لَعَلَّہُمۡ یَتَّقُوۡنَ اَوۡ یُحۡدِثُ لَہُمۡ ذِکۡرًا﴿۱۱۳﴾

۱۱۳۔ اور اسی طرح ہم نے یہ قرآن عربی میں نازل کیا اور اس میں مختلف انداز میں تنبیہیں بیان کی ہیں کہ شاید وہ پرہیزگار بن جائیں یا (قرآن) ان کے لیے کوئی نصیحت وجود میں لائے۔


فَتَعٰلَی اللّٰہُ الۡمَلِکُ الۡحَقُّ ۚ وَ لَا تَعۡجَلۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ یُّقۡضٰۤی اِلَیۡکَ وَحۡیُہٗ ۫ وَ قُلۡ رَّبِّ زِدۡنِیۡ عِلۡمًا﴿۱۱۴﴾

۱۱۴۔ پس وہ بادشاہ حقیقی اللہ برتر ہے اور آپ پر ہونے والی اس کی وحی کی تکمیل سے پہلے قرآن پڑھنے میں عجلت نہ کریں اور کہدیا کریں: میرے رب میرے علم میں اضافہ فرما۔

114۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورہ رسالت کے ابتدائی زمانے میں نازل ہوا ہے کہ رسول کریم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو وحی وصول کرنے اور قرآن اخذ کرنے کے آداب و طریقے بیان فرماتا ہے: دوران نزول وحی قرآن کو پڑھنے کی جلدی نہ کریں۔ اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗ (قیامۃ:17) اسے محفوظ کرنا اور پڑھوانا ہمارے ذمے ہے اور سورہ اعلیٰ میں فرمایا: سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰٓى ۔ ہم آپ کو پڑھوا دیں گے تو آپ نہیں بھولیں گے۔ اس آیت میں فرمایا: وحی کی تکمیل سے پہلے قرآن پڑھنے کی کوشش کی جگہ مزید علم کی خواہش ہونی چاہیے۔