Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَا یَسۡتَمِعُوۡنَ بِہٖۤ اِذۡ یَسۡتَمِعُوۡنَ اِلَیۡکَ وَ اِذۡ ہُمۡ نَجۡوٰۤی اِذۡ یَقُوۡلُ الظّٰلِمُوۡنَ اِنۡ تَتَّبِعُوۡنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسۡحُوۡرًا﴿۴۷﴾

۴۷۔ ہم خوب جانتے ہیں کہ جب یہ لوگ آپ کی طرف کان لگا کر سنتے ہیں تو کیا سنتے ہیں اور جب یہ لوگ سرگوشیاں کرتے ہیں تو یہ ظالم کہتے ہیں: تم (لوگ) تو ایک سحرزدہ آدمی کی پیروی کرتے ہو۔

47۔ ابوسفیان، ابوجہل اور اخنس بن شریق رات کے وقت رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلمکے گھر کے گرد ایک دوسرے سے بے خبر آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تلاوت قرآن سنا کرتے تھے۔ جب وہ آپس میں باتیں کرتے تو کوئی کہتا: یہ دیوانہ ہے کوئی کہتا: یہ کاہن ہے اور کوئی کہتا: یہ شاطر ہے۔ اس سلسلے میں یہ آیت نازل ہوئی۔


اُنۡظُرۡ کَیۡفَ ضَرَبُوۡا لَکَ الۡاَمۡثَالَ فَضَلُّوۡا فَلَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ سَبِیۡلًا﴿۴۸﴾

۴۸۔ دیکھ لیں! ان لوگوں نے آپ کے بارے میں کس طرح کی مثالیں بنائی ہیں پس یہ گمراہ ہو چکے ہیں چنانچہ یہ کوئی راستہ نہیں پا سکتے۔


وَ قَالُوۡۤاءَ اِذَا کُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًاءَ اِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ خَلۡقًا جَدِیۡدًا﴿۴۹﴾

۴۹۔ اور وہ کہتے ہیں: کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گے تو کیا ہم نئے سرے سے پیدا کر کے اٹھائے جائیں گے؟

49 تا51۔ مشرکین کہتے تھے: یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان مر کر ہڈی اور خاک ہونے کے بعد دوبارہ زندہ ہو جائے؟ بوسیدہ ہڈی اور خاک، حیات سے بہت دور ہے۔ ان سے فرمایا: خاک کو تو حیات کے ساتھ ربط ہے۔ تم ایسی چیز فرض کرو جو تمہاری نظر میں حیات سے بہت دور ہے۔ مثلاً پتھر اور لوہا جن میں روئیدگی کی صلاحیت نہیں ہے۔ اللہ ان کو بھی دوبارہ زندگی دے سکتا ہے۔ اس کا ایک عام فہم اور منطقی جواب یہ دیتا ہے کہ اس خاک کو دوبارہ زندگی وہی دے گا جس نے پہلی بار تم کو عدم سے وجود بخشا ہے۔ جو ایجاد پر قادر ہے، وہ اعادہ پر بھی قادر ہے۔


قُلۡ کُوۡنُوۡا حِجَارَۃً اَوۡ حَدِیۡدًا ﴿ۙ۵۰﴾

۵۰۔ کہدیجئے: تم خواہ پتھر ہو جاؤ یا لوہا۔


اَوۡ خَلۡقًا مِّمَّا یَکۡبُرُ فِیۡ صُدُوۡرِکُمۡ ۚ فَسَیَقُوۡلُوۡنَ مَنۡ یُّعِیۡدُنَا ؕ قُلِ الَّذِیۡ فَطَرَکُمۡ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ۚ فَسَیُنۡغِضُوۡنَ اِلَیۡکَ رُءُوۡسَہُمۡ وَ یَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہُوَ ؕ قُلۡ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنَ قَرِیۡبًا﴿۵۱﴾

۵۱۔ یا کوئی ایسی مخلوق جو تمہارے خیال میں بڑی ہو ـ(پھر بھی تمہیں اٹھایا جائے گا) پس وہ پوچھیں گے: ہمیں دوبارہ کون واپس لائے گا؟ کہدیجئے: وہی جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا، پس وہ آپ کے آگے سر ہلائیں گے اور کہیں گے: یہ کب ہو گا؟ کہدیجئے: ہو سکتا ہے وہ (وقت) قریب ہو۔ـ


یَوۡمَ یَدۡعُوۡکُمۡ فَتَسۡتَجِیۡبُوۡنَ بِحَمۡدِہٖ وَ تَظُنُّوۡنَ اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿٪۵۲﴾

۵۲۔ جس دن وہ تمہیں بلائے گا تو تم اس کی ثناء کرتے ہوئے تعمیل کرو گے اور (اس وقت)تمہارا یہ گمان ہو گا کہ تم (دنیا میں) تھوڑی دیر رہ چکے ہو۔

52۔ منکرین معاد سے خطاب ہے: منکرو! جب قیامت کے دن تمہیں قبروں سے اٹھنے کے لیے کہا جائے گا تو اس وقت تمہارے پاس سوائے حمد و ستائش الٰہی کے کوئی جواب نہ ہو گا۔ قیامت کی ابدی زندگی کو سامنے دیکھ کر دنیوی زندگی کو تم نہایت حقیر سمجھو گے۔


وَ قُلۡ لِّعِبَادِیۡ یَقُوۡلُوا الَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ ؕ اِنَّ الشَّیۡطٰنَ یَنۡزَغُ بَیۡنَہُمۡ ؕ اِنَّ الشَّیۡطٰنَ کَانَ لِلۡاِنۡسَانِ عَدُوًّا مُّبِیۡنًا﴿۵۳﴾

۵۳۔ اور میرے بندوں سے کہدیجئے: وہ بات کرو جو بہترین ہو کیونکہ شیطان ان میں فساد ڈلواتا ہے، بتحقیق شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

53۔ خوش گفتاری کا اپنا اثر ہے۔ ایک مناسب اور برمحل جملہ انسان کی تقدیر بدل کر رکھ سکتا ہے اور ایک نامناسب جملہ ایک بڑے فساد کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ اچھی گفتگو سے محبت بڑھتی ہے اور بد کلامی سے دشمنی پیدا ہو جاتی ہے۔آیت کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان انسانوں میں بد کلامی کے ذریعے فساد کا بیج بوتا ہے۔


رَبُّکُمۡ اَعۡلَمُ بِکُمۡ ؕ اِنۡ یَّشَاۡ یَرۡحَمۡکُمۡ اَوۡ اِنۡ یَّشَاۡ یُعَذِّبۡکُمۡ ؕ وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ عَلَیۡہِمۡ وَکِیۡلًا ﴿۵۴﴾

۵۴۔ تمہارا رب تمہارے حال سے زیادہ باخبر ہے، اگر وہ چاہے تو تم پر رحم کرے اور اگر چاہے تو تمہیں عذاب دے اور (اے رسول) ہم نے آپ کو ان کا ضامن بنا کر نہیں بھیجا۔

54۔ کسی کو گمراہ اور جہنمی قرار دینا یا کسی کو جنتی قرار دینا تمہارے دائرہ علم میں نہیں ہے۔ ممکن ہے جسے تم گمراہ سمجھتے ہو اس کا انجام ایمان پر ہو اور جسے تم بڑا مومن سمجھتے ہو اس کا انجام برا ہو، لہٰذا رحم اور عذاب اللہ کے علم اور مشیت کے ساتھ مربوط ہے۔


وَ رَبُّکَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ لَقَدۡ فَضَّلۡنَا بَعۡضَ النَّبِیّٖنَ عَلٰی بَعۡضٍ وَّ اٰتَیۡنَا دَاوٗدَ زَبُوۡرًا﴿۵۵﴾

۵۵۔اور(اے رسول)آپ کا رب آسمانوں اور زمین کی موجودات کو بہتر جانتا ہے اور بتحقیق ہم نے انبیاء میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اور داؤد کو ہم نے زبور عطا کی ہے۔

55۔ مشرکین مکہ کے اس سوال کا جواب معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو نبوت دینے کے لیے عبد اللہ کا یتیم ہی مل گیا۔ بھلا سابقہ انبیاء کہاں اور یہ یتیم کہاں۔ فرمایا: اللہ کی نگاہ پوری کائنات پر ہے، جب کسی پر اللہ کی نگاہ انتخاب پڑتی ہے تو انبیاء کو اسی بنیاد پر فضیلت دیتا ہے۔ یہاں حسن گفتار میں حضرت داود علیہ السلام کو فضیلت دی کہ ان کی تسبیح سے جمادات بھی متاثر ہوتے تھے اور پہاڑ بھی ان کے ساتھ تسبیح پڑھتے تھے۔


قُلِ ادۡعُوا الَّذِیۡنَ زَعَمۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہٖ فَلَا یَمۡلِکُوۡنَ کَشۡفَ الضُّرِّ عَنۡکُمۡ وَ لَا تَحۡوِیۡلًا﴿۵۶﴾

۵۶۔کہدیجئے:جنہیں تم اللہ کے سوا (اپنا معبود) سمجھتے ہو انہیں پکارو، پس وہ تم سے نہ کسی تکلیف کو دور کر سکتے ہیں اور نہ ـ(ہی اسے) بدل سکتے ہیں۔