Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ لَکُمۡ فِیۡہَا جَمَالٌ حِیۡنَ تُرِیۡحُوۡنَ وَ حِیۡنَ تَسۡرَحُوۡنَ ﴿۪۶﴾

۶۔ اور ان میں تمہارے لیے رونق بھی ہے اور جب تم انہیں شام کو واپس لاتے ہو اور صبح کو چرنے کے لیے بھیجتے ہو۔

6۔ چوپائے انسان کے لیے مسخر ہیں، یعنی ان کی غرض تخلیق انسان ہے۔ دیہی زندگی ہو یا تمدن یافتہ، کوئی بھی ان چوپاؤں سے بے نیاز نہیں ہے۔


وَ تَحۡمِلُ اَثۡقَالَکُمۡ اِلٰی بَلَدٍ لَّمۡ تَکُوۡنُوۡا بٰلِغِیۡہِ اِلَّا بِشِقِّ الۡاَنۡفُسِ ؕ اِنَّ رَبَّکُمۡ لَرَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ۙ﴿۷﴾

۷۔اور وہ تمہارے بوجھ اٹھا کر ایسے علاقوں تک لے جاتے ہیں جہاں تم جانفشانی کے بغیر نہیں پہنچ سکتے تھے، تمہارا رب یقینا بڑا شفیق، مہربان ہے۔


وَّ الۡخَیۡلَ وَ الۡبِغَالَ وَ الۡحَمِیۡرَ لِتَرۡکَبُوۡہَا وَ زِیۡنَۃً ؕ وَ یَخۡلُقُ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ﴿۸﴾

۸۔ اور (اس نے) گھوڑے خچر اور گدھے بھی (اس لیے پیدا کیے) تاکہ تم ان پر سوار ہو اور تمہارے لیے زینت بنیں، ابھی اور بھی بہت سی چیزیں پیدا کرے گا جن کا تمہیں علم نہیں ہے۔

8۔ سواری میں کام آنے والے حیوانات کے دو مقاصد بیان فرمائے: ایک یہ کہ سواری کے کام آئے اور دوسرا یہ کہ زینت کا کام دے۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ انسان کے جمالیاتی ذوق کی تسکین کو اللہ تعالیٰ نے اہمیت دی ہے وَ یَخۡلُقُ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ اور ابھی بہت سی چیزیں پیدا کرے گا جن کا تمہیں علم نہیں۔ موجودہ دور کی ایجادات عصر نزول قرآن کے لوگوں کے لیے مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ تھیں اور آئندہ ہونے والی ایجادات ہمارے لیے مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ہیں۔اس طرح ہر نسل کے لیے آیت کا خطاب مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ زندہ رہے گا۔


وَ عَلَی اللّٰہِ قَصۡدُ السَّبِیۡلِ وَ مِنۡہَا جَآئِرٌ ؕ وَ لَوۡ شَآءَ لَہَدٰىکُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ﴿٪۹﴾

۹۔اور سیدھا راستہ (دکھانا) اللہ کے ذمے ہے اور بعض راستے ٹیڑھے بھی ہیں اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت کرتا ۔

9۔ مادی نعمتوں کے ذکر کے بعد روحانی نعمت کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پر لازم قرار دیا ہے کہ سیدھا راستہ دکھایا جائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فطرت اور شریعت دونوں کے ذریعے انسان کی ہدایت کا سامان فراہم فرمایا۔ فطرت کے ذریعے خود انسان کے وجود، اس کی ساخت و بافت میں ہدایت ودیعت فرمائی: رَبُّنَا الَّذِيْٓ اَعْطٰي كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَہٗ ثُمَّ ہَدٰى ۔ (طٰہٰ:50) ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی خلقت دے دی، پھر ہدایت فرمائی۔ اِنَّا ہَدَیۡنٰہُ السَّبِیۡلَ اِمَّا شَاکِرًا وَّ اِمَّا کَفُوۡرًا ۔ (دہر: 3) ہم نے اسے راستہ بتایا پھر یا تو وہ شکر گزار ہو یا کافر۔ چنانچہ امتحان اور استحقاق کے لیے ضروری تھا کہ انسان خود مختار ہو۔ اگر جبری ہدایت منشائے خداوندی میں ہوتی تو سب کی ہدایت ہو جاتی۔ مگر اس جبری ہدایت کی قیمت کچھ نہ ہوتی۔ جیسے بے حس پتھر، جسے آپ جہاں چاہیں رکھ دیں یا ایک گدھا جسے جہاں چاہیں باندھیں۔


ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً لَّکُمۡ مِّنۡہُ شَرَابٌ وَّ مِنۡہُ شَجَرٌ فِیۡہِ تُسِیۡمُوۡنَ﴿۱۰﴾

۱۰۔ وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا جس سے تمہیں پینے کو ملتا ہے اور اس سے درخت اگتے ہیں جن میں تم جانور چراتے ہو۔


یُنۡۢبِتُ لَکُمۡ بِہِ الزَّرۡعَ وَ الزَّیۡتُوۡنَ وَ النَّخِیۡلَ وَ الۡاَعۡنَابَ وَ مِنۡ کُلِّ الثَّمَرٰتِ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ﴿۱۱﴾

۱۱۔ جس سے وہ تمہارے لیے کھیتیاں، زیتون کھجور، انگور اور ہر قسم کے پھل اگاتا ہے، غور و فکر سے کام لینے والوں کے لیے ان چیزوں میں یقینا نشانی ہے۔


وَ سَخَّرَ لَکُمُ الَّیۡلَ وَ النَّہَارَ ۙ وَ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ ؕ وَ النُّجُوۡمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمۡرِہٖ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ ﴿ۙ۱۲﴾

۱۲۔ اور اس نے تمہارے لیے رات اور دن اور سورج اور چاند کو مسخر کیا ہے اور ستارے بھی اس کے حکم سے مسخر ہیں،عقل سے کام لینے والوں کے لیے ان چیزوں میں یقینا نشانیاں ہیں۔

10 تا 12۔ مذکورہ پھلوں کی فراہمی اہل فکر کو بتاتی ہے کہ یہ اندھے اتفاق اور ناداں بے شعور طبیعیت کا کام نہیں ہے بلکہ ان چیزوں کی فراہمی کے پیچھے ایک شعور ایک ارادہ کارفرما ہے، ورنہ آسمان سے برسنے والا پانی انسان اور روئے زمین پر موجود باقی چیزوں کے لیے مفید و مناسب نہ ہوتا۔ زمین سے اگنے والی چیزوں کا انسان اور باقی جانوروں کے مزاج اور طبیعت کے عین مطابق اور مفید ہونا بھی ضروری نہ تھا۔ لہٰذا ان مختلف چیزوں کا ایک دوسرے کے لیے ضروری ہونا اور باہم موافق طبع ہونا بتاتا ہے کہ ان چیزوں کی تخلیق کے پیچھے ایک حکیمانہ ذہن کارفرما ہے۔ کھیتی کی افادیت اور زیتون، کھجور اور انگور کے انسانی جسم کی ساخت و بافت کے ساتھ نہایت سازگار ہونے کی وجہ سے ممکن ہے ان کا خاص طور پر ذکر کیا ہو۔


وَ مَا ذَرَاَ لَکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ مُخۡتَلِفًا اَلۡوَانُہٗ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوۡمٍ یَّذَّکَّرُوۡنَ﴿۱۳﴾

۱۳۔ اور تمہارے لیے زمین میں رنگ برنگ کی جو مختلف چیزیں اگائی ہیں نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے ان میں یقینا نشانی ہے۔

13۔ یہاں وجود اور وحدانیت خدا پر تین دلائل دیے گئے ہیں: پہلی دلیل نباتات سے۔ یہ اہل فکر کے لیے ہے۔ دوسری دلیل فلکیات سے۔ یہ اہل عقل کے لیے ہے۔ تیسری دلیل موجودات ارضی کی اقسام و انواع سے۔ یہ اہل نصیحت کے لیے ہے۔


وَ ہُوَ الَّذِیۡ سَخَّرَ الۡبَحۡرَ لِتَاۡکُلُوۡا مِنۡہُ لَحۡمًا طَرِیًّا وَّ تَسۡتَخۡرِجُوۡا مِنۡہُ حِلۡیَۃً تَلۡبَسُوۡنَہَا ۚ وَ تَرَی الۡفُلۡکَ مَوَاخِرَ فِیۡہِ وَ لِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِہٖ وَ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ﴿۱۴﴾

۱۴۔ اور اسی نے (تمہارے لیے) سمندر کو مسخر کیا تاکہ تم اس سے تازہ گوشت کھاؤ اور اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنتے ہو اور آپ دیکھتے ہیں کہ کشتی سمندر کو چیرتی ہوئی چلی جاتی ہے تاکہ تم اللہ کا فضل (روزی) تلاش کرو اور شاید تم شکر گزار بنو۔


وَ اَلۡقٰی فِی الۡاَرۡضِ رَوَاسِیَ اَنۡ تَمِیۡدَ بِکُمۡ وَ اَنۡہٰرًا وَّ سُبُلًا لَّعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ ﴿ۙ۱۵﴾

۱۵۔ اور اس نے زمین میں پہاڑوں کو گاڑ دیا تاکہ زمین تمہیں لے کر ڈگمگا نہ جائے اور نہریں جاری کیں اور راستے بنائے تاکہ تم راہ پاتے رہو۔

15۔ قرآن متعدد آیات میں اس بات کو بڑی وضاحت سے بیان فرما تا ہے کہ پہاڑ کی تخلیق کا اہم فائدہ یہ ہے کہ اس سے زمین میں اضطرابی حالت ختم ہو جاتی ہے۔ ممکن ہے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ زمین کے اندرون طبقات میں موجود لاوا آتش فشانی کے ذریعہ سطح زمین پر آتا ہے اور پہاڑ بن جاتا ہے، ورنہ زیر زمین موجود لاوا اور آتشیں مواد سے زمین ڈھلک جاتی اور ڈگمگانے لگتی۔ دوسرا اہم فائدہ پہاڑوں سے بہنے والے پانی سے وجود میں آنے والی نہریں ہیں جن سے نشیبی علاقے سیراب ہو جاتے ہیں۔ پہاڑوں کے بارے میں مزید تشریح کے لیے ملاحظہ فرمائیں سورہ نبا آیت 7۔