Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ لَقَدۡ جَعَلۡنَا فِی السَّمَآءِ بُرُوۡجًا وَّ زَیَّنّٰہَا لِلنّٰظِرِیۡنَ ﴿ۙ۱۶﴾

۱۶۔ اور بتحقیق ہم نے آسمانوں میں نمایاں ستارے بنا دیے اور دیکھنے والوں کے لیے انہیں زیبائی بخشی۔


وَ حَفِظۡنٰہَا مِنۡ کُلِّ شَیۡطٰنٍ رَّجِیۡمٍ ﴿ۙ۱۷﴾

۱۷۔ اور ہم نے ہر شیطان مردود سے انہیں محفوظ کر دیا ہے ۔


اِلَّا مَنِ اسۡتَرَقَ السَّمۡعَ فَاَتۡبَعَہٗ شِہَابٌ مُّبِیۡنٌ﴿۱۸﴾

۱۸۔ ہاں اگر کوئی چوری چھپے سننے کی کوشش کرے تو ایک چمکتا ہوا شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے ۔

18۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان نے فضا میں قدم رکھ کر دیکھ لیا ہے کہ آسمان میں ایسے اسرار موجود نہیں ہیں جو چرائے جا سکیں۔ مفسرین نے اس سوال کے جواب میں آیت کی تاویل کی ہے، جبکہ تاویل کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب آیت کا مفہوم کسی امر مسلم سے متصادم ہو۔ یہاں ایسا نہیں ہے کیونکہ انسان نے جس فضا کو تسخیر کیا ہے کائنات کی فضائے بیکراں میں اس کی قطعاً کوئی اہمیت نہیں ہے۔ سورہ ملک: 50 میں فرمایا: ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے آراستہ کیا اور انہیں شیطان کو مارنے کا ذریعہ بنایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جن ستاروں کے شہاب سے شیطان کو مارا جاتا ہے ان سے مراد ہماری ارضی فضا کے شہاب نہیں ہو سکتے جو در حقیقت وہ آسمانی پتھر ہیں جو ہر روز اوسطاً دس کھرب کی تعداد میں ہوتے ہیں۔ ان میں سے دو کروڑ زمین کی فضا میں داخل ہوتے ہیں۔ تیز رفتاری سے زمین کی طرف آنے کی وجہ سے وہ شعلۂ آتش بن جاتے ہیں اور ہوائی غلاف سے ٹکرانے پر ہم انہیں آتشیں گولے کی طرح مشاہدہ کرتے ہیں۔ مزید وضاحت کے لیے تفسیر کا مطالعہ فرمائیں۔


وَ الۡاَرۡضَ مَدَدۡنٰہَا وَ اَلۡقَیۡنَا فِیۡہَا رَوَاسِیَ وَ اَنۡۢبَتۡنَا فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ مَّوۡزُوۡنٍ﴿۱۹﴾

۱۹۔ اور زمین کو ہم نے پھیلایا اور اس میں پہاڑ گاڑ دیے اور ہم نے زمین میں معینہ مقدار کی ہر چیز اگائی۔

19۔ زمین سے اگنے والی تمام چیزیں موزوں و معین مقدار میں ہیں اور ان کے وجود اور نشو و نما کا دار و مدار عناصر کے توازن میں ہے۔


وَ جَعَلۡنَا لَکُمۡ فِیۡہَا مَعَایِشَ وَ مَنۡ لَّسۡتُمۡ لَہٗ بِرٰزِقِیۡنَ﴿۲۰﴾

۲۰۔ اور ہم نے تمہارے لیے زمین میں سامان زیست فراہم کیا اور ان مخلوقات کے لیے بھی جن کی روزی تمہارے ذمے نہیں ہے۔

20۔ اس زمین میں جیسا کہ انسانوں کے لیے سامان حیات فراہم کیا گیا ہے، ایسے ہی ان جانداروں پرندوں، چرندوں اور بری و بحری حیوانات کے لیے بھی سامان زیست فراہم کیے گئے ہیں، جن کی روزی کسی غیر اللہ کے ذمے نہیں ہے۔


وَ اِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا عِنۡدَنَا خَزَآئِنُہٗ ۫ وَ مَا نُنَزِّلُہٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴿۲۱﴾

۲۱۔ اور کوئی چیز ایسی نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں پھر ہم اسے مناسب مقدار کے ساتھ نازل کرتے ہیں۔

21۔ خزانۂ قدرت سے مرحلۂ خلقت میں آنے کو نزول سے تعبیر فرمایا۔ یہ نزول اندھی بانٹ نہیں ہے بلکہ بِقَدَرٍ مَّعۡلُوۡمٍ ایک مقررہ حد، ایک معین دستور اور ایک حکیمانہ تقدیر کے مطابق ہے۔ آج کے انسان کے لیے اس بات کے سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی کہ اللہ کے خرانوں سے نزول کیسے ہوتا ہے۔ کہکشاؤں اور دیگر آفاق عالم سے آنے والی شعاعوں کے زمین پر نمودار ہونے والی چیزوں پر بنیادی اثرات ہیں، بلکہ یہاں کے لیے خام مٹیریل وہاں سے نازل ہوتا ہے، جس کے بعد یہاں انسان، حیوان، درخت، میوے وغیرہ وجود میں آتے ہیں۔ اگر زمین کو اس نزول سے الگ کیا جائے تو یہاں ایک پتہ بھی سبز نہ ہو۔


وَ اَرۡسَلۡنَا الرِّیٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنۡزَلۡنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَسۡقَیۡنٰکُمُوۡہُ ۚ وَ مَاۤ اَنۡتُمۡ لَہٗ بِخٰزِنِیۡنَ﴿۲۲﴾

۲۲۔ اور ہم نے باردار کنندہ ہوائیں چلائیں پھر ہم نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے تمہیں سیراب کیا (ورنہ) تم اسے جمع نہیں رکھ سکتے تھے۔

22۔ اس آیت میں ایک اہم رازِ قدرت کی طرف اشارہ ہے کہ بعض درختوں اور نباتات کو بارآوری کی ضرورت ہے اور یہ بارآوری ہواؤں کے ذریعے انجام پاتی ہے۔


وَ اِنَّا لَنَحۡنُ نُحۡیٖ وَ نُمِیۡتُ وَ نَحۡنُ الۡوٰرِثُوۡنَ﴿۲۳﴾

۲۳۔ اور بے شک ہم ہی زندہ کرتے اور مارتے ہیں اور ہم ہی وارث ہیں۔


وَ لَقَدۡ عَلِمۡنَا الۡمُسۡتَقۡدِمِیۡنَ مِنۡکُمۡ وَ لَقَدۡ عَلِمۡنَا الۡمُسۡتَاۡخِرِیۡنَ﴿۲۴﴾

۲۴۔ اور بتحقیق ہم تم میں سے اگلوں کو بھی جانتے ہیں اور پچھلوں کو بھی جانتے ہیں۔


وَ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ یَحۡشُرُہُمۡ ؕ اِنَّہٗ حَکِیۡمٌ عَلِیۡمٌ﴿٪۲۵﴾

۲۵۔ اور آپ کا رب ہی ان سب کو (ایک جگہ) جمع کرے گا، بے شک وہ بڑا حکمت والا، علم والا ہے۔