Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

اَفَمَنۡ ہُوَ قَآئِمٌ عَلٰی کُلِّ نَفۡسٍۭ بِمَا کَسَبَتۡ ۚ وَ جَعَلُوۡا لِلّٰہِ شُرَکَآءَ ؕ قُلۡ سَمُّوۡہُمۡ ؕ اَمۡ تُنَبِّـُٔوۡنَہٗ بِمَا لَا یَعۡلَمُ فِی الۡاَرۡضِ اَمۡ بِظَاہِرٍ مِّنَ الۡقَوۡلِ ؕ بَلۡ زُیِّنَ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مَکۡرُہُمۡ وَ صُدُّوۡا عَنِ السَّبِیۡلِ ؕ وَ مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ ہَادٍ﴿۳۳﴾

۳۳۔ کیا وہ اللہ جو ہر نفس کے عمل پر کڑی نظر رکھتا ہے (بے حس بتوں کی طرح ہو سکتا ہے جنہیں) ان لوگوں نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے؟ کہدیجئے: ان کے نام (اور اوصاف) بیان کرو (جیسے اللہ کے اسمائے حسنیٰ ہیں)،ـ کیا تم اللہ کو ایسی خبر دینا چاہتے ہو جسے وہ اس زمین میں نہیں جانتا یا یہ محض ایک کھوکھلی بات ہے؟ بلکہ دراصل کافروں کے لیے ان کی مکاری زیبا بنا دی گئی ہے اور ان کے لیے ہدایت کا راستہ مسدود ہے، حقیقت یہ ہے کہ اللہ جسے گمراہ کر دے اسے ہدایت دینے والا کوئی نہیں۔


لَہُمۡ عَذَابٌ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ لَعَذَابُ الۡاٰخِرَۃِ اَشَقُّ ۚ وَ مَا لَہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ مِنۡ وَّاقٍ﴿۳۴﴾

۳۴۔ ان کے لیے دنیا کی زندگی میں بھی عذاب ہے اور آخرت کا عذاب تو زیادہ مشقت والا ہے اور انہیں اللہ کے عذاب سے بچانے والا بھی کوئی نہیں ہے۔


مَثَلُ الۡجَنَّۃِ الَّتِیۡ وُعِدَ الۡمُتَّقُوۡنَ ؕ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ؕ اُکُلُہَا دَآئِمٌ وَّ ظِلُّہَا ؕ تِلۡکَ عُقۡبَی الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا ٭ۖ وَّ عُقۡبَی الۡکٰفِرِیۡنَ النَّارُ﴿۳۵﴾

۳۵۔ اہل تقویٰ سے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان ایسی ہے کہ اس کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اس کے میوے اور اس کا سایہ دائمی ہیں، یہ ہے اہل تقویٰ کی عاقبت اور کافروں کا انجام تو آتش ہے۔

35۔اس آیت میں اہل کفر کے مقابلے میں اہل ایمان کا نہیں بلکہ اہل تقویٰ کا ذکر ہے۔ اس میں یہ لطیف اشارہ ملتا ہے کہ نیک عاقبت کے لیے صرف ایمان کافی نہیں بلکہ عمل صالح اور تقویٰ کی بھی ضرورت ہے۔ سایہ سے مراد ممکن ہے وہ فضا ہو جو جنت میں قائم ہے، جس میں نہ تو دھوپ کی تپش ہے، نہ سردی۔


وَ الَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ یَفۡرَحُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَ مِنَ الۡاَحۡزَابِ مَنۡ یُّنۡکِرُ بَعۡضَہٗ ؕ قُلۡ اِنَّمَاۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ اللّٰہَ وَ لَاۤ اُشۡرِکَ بِہٖ ؕ اِلَیۡہِ اَدۡعُوۡا وَ اِلَیۡہِ مَاٰبِ﴿۳۶﴾

۳۶۔اور جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ آپ کی طرف نازل ہونے والی کتاب سے خوش ہیں اور بعض فرقے ایسے ہیں جو اس کی بعض باتوں کو نہیں مانتے، کہدیجئے: مجھے تو صرف یہ حکم ملا ہے کہ میں اللہ کی بندگی کروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤں، میں اسی کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے رجوع کرنا ہے۔

36۔ رسول اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حقانیت پر ایک دلیل یہ ہے کہ اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ میں سے وہ لوگ جو حق کے طالب ہوتے ہیں بخوشی اس قرآن پر ایمان لاتے ہیں۔ وہ اپنے گمشدہ کو اس قرآن میں پا کر خوش ہو جاتے ہیں۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہ نہیں فرمایا کہ اہل کتاب اس قرآن پر ایمان لاتے ہیں، بلکہ فرمایا: وہ اس کتاب سے خوش ہوتے ہیں۔ یعنی وہ جس رسول کی آمد کے منتظر تھے، اس کے آنے سے خوش ہوتے ہیں۔ چنانچہ ابتدائے بعثت میں بہت سے اہل کتاب ایمان لائے۔


وَ کَذٰلِکَ اَنۡزَلۡنٰہُ حُکۡمًا عَرَبِیًّا ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعۡتَ اَہۡوَآءَہُمۡ بَعۡدَ مَا جَآءَکَ مِنَ الۡعِلۡمِ ۙ مَا لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ﴿٪۳۷﴾

۳۷۔ اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو عربی میں ایک دستور بنا کر نازل کیا ہے اور اگر آپ نے علم آ جانے کے بعد بھی لوگوں کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ کے مقابلے میں آپ کو نہ کوئی حامی ملے گا اور نہ کوئی بچانے والا۔


وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلًا مِّنۡ قَبۡلِکَ وَ جَعَلۡنَا لَہُمۡ اَزۡوَاجًا وَّ ذُرِّیَّۃً ؕ وَ مَا کَانَ لِرَسُوۡلٍ اَنۡ یَّاۡتِیَ بِاٰیَۃٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ لِکُلِّ اَجَلٍ کِتَابٌ﴿۳۸﴾

۳۸۔ بتحقیق ہم نے آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیجے اور انہیں ہم نے ازواج اور اولاد سے بھی نوازا اور کسی رسول کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی نشانی لے آئے، ہر زمانے کے لیے ایک دستور ہوتا ہے۔

38۔ ایک عامیانہ اعتراض کا جواب ہے جو رسول کریم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے انسانی پہلو پر کیا جاتا تھا کہ یہ کیسا رسول ہے جو بیوی اور بچے رکھتا ہے۔ اللہ کے نمایندے کو خواہشات سے کیا تعلق ہو سکتا ہے؟ جواب میں فرمایا: اللہ کی یہ سنت رہی ہے کہ وہ اپنے انبیاء علیہم السلام کو انسانی تقاضوں کے دائرے میں رکھتا ہے تاکہ تمام انسانوں کے لیے نمونہ عمل بن جائیں اور قولاً و عملًا حجت پوری ہو جائے۔

دوسرا اعتراض یہ تھا کہ سابقہ انبیاء کے واضح معجزات تھے، آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کون سا معجزہ لے کر آئے ہیں؟ جواب میں فرمایا: لِکُلِّ اَجَلٍ کِتَابٌ ۔ سابقہ امتوں کے لیے محسوس معجزات کی ضرورت تھی، وہ عقلی بلوغ کو نہیں پہنچے تھے۔ اب انسان فکری بلوغت کو پہنچ گیا ہے۔ اس لیے محسوس معجزات کی جگہ معقول معجزات کی ضرورت ہے۔ سابقہ ادوار کی شریعتیں محدود تھیں، اس لیے محسوس معجزات دکھائے تو مشاہدہ کرنے والوں تک محدود رہے۔ نبی آخر زماں صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شریعت دائمی ہے، اس کا تقاضا یہ ہے کہ معجزہ بھی دائمی ہو۔ لہٰذا دور موسیٰ علیہ السلام کا دستور، دور عیسیٰ علیہ السلام سے جدا ہے۔ دور نوح علیہ السلام کا دستور تو اور جدا ہے کہ یہاں تو انسان ابتدائی دور میں محسوس معجزوں کے بھی اہل نہ تھے، اس لیے ان کو غرق کر دیا۔ دور ختم المرسلین صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان سب سے جدا ہے۔


یَمۡحُوا اللّٰہُ مَا یَشَآءُ وَ یُثۡبِتُ ۚۖ وَ عِنۡدَہٗۤ اُمُّ الۡکِتٰبِ﴿۳۹﴾

۳۹۔ اللہ جسے چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے قائم رکھتا ہے اور اسی کے پاس ام الکتاب ہے۔

39۔ کائناتی نظام میں اللہ تعالیٰ کے دو فیصلے ہوتے ہیں: ایک فیصلہ اٹل، حتمی اور ناقابل تغیر اور دوسرا فیصلہ قابل تغیر ہوتا ہے۔ اگر اللہ کے حتمی فیصلے نہ ہوتے تو اس کائنات کی کسی چیز پر بھروسا نہ ہوتا۔ مثلاً فصل اگنا حتمی نہ ہوتا تو کوئی کاشت نہ کرتا اور اگر فیصلوں میں لچک نہ ہوتی تو انسان مجبور ہوتا اور اپنے کردار و اعمال کا اس پر کوئی اثر مترتب نہ ہوتا۔ حدیث میں آیا ہے: لا یرد القضاء الا الدعاء و لا یزید فی العمر الا البر (بحار الانوار 90: 300) اللہ کے فیصلے کو صرف دعا روک سکتی ہے اور نیکی ہی سے عمر دراز ہو سکتی ہے۔

البتہ یہ بات ذہن میں رہے کہ اللہ کا فیصلہ ایسے نہیں بدلتا جیسے ہمارا فیصلہ بدلتا ہے۔ ہمارا فیصلہ تو اس وقت بدلتا ہے جب کوئی نئی بات سامنے آ جاتی ہے جو پہلے معلوم نہ تھی، بلکہ اللہ تعالیٰ کو تمام فیصلوں کا یکساں علم ہوتا ہے: وَ عِنۡدَہٗۤ اُمُّ الۡکِتٰبِ (رعد: 39) تمام فیصلوں کا منبع و سر چشمہ اس کے پاس ہے۔ تمام قابل تغیر اور ناقابل تغیر فیصلوں کا علم اس کے پاس ہے۔ یعنی اللہ کے پاس ایک قانون کلی ہے جس کے تحت فیصلے بدلتے ہیں۔ یہی مسئلہ بدا ہے، جس کی تفصیل ہم نے مقدمہ تفیسر قرآن میں ذکر کی ہے۔


وَ اِنۡ مَّا نُرِیَنَّکَ بَعۡضَ الَّذِیۡ نَعِدُہُمۡ اَوۡ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِنَّمَا عَلَیۡکَ الۡبَلٰغُ وَ عَلَیۡنَا الۡحِسَابُ ﴿۴۰﴾

۴۰۔ اور جو وعدے ہم ان سے کر رہے ہیں خواہ ان کا کچھ حصہ ہم آپ کو (زندگی میں) دکھا دیں یا ہم آپ کو اٹھا لیں بہرحال آپ کے ذمے صرف پیغام پہنچانا اور ہمارے ذمے حساب لینا ہے۔


اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اَنَّا نَاۡتِی الۡاَرۡضَ نَنۡقُصُہَا مِنۡ اَطۡرَافِہَا ؕ وَ اللّٰہُ یَحۡکُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُکۡمِہٖ ؕ وَ ہُوَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ﴿۴۱﴾

۴۱۔ کیا ان لوگوں کو نظر نہیں آتا کہ ہم زمین کا رخ کرتے ہیں تو اس کو اطراف سے کم کرتے چلے آتے ہیں؟ اللہ حکم صادر فرماتا ہے اس کے حکم کو پس پشت ڈالنے والا کوئی نہیں اور وہ جلد حساب لینے والا ہے۔


وَ قَدۡ مَکَرَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ فَلِلّٰہِ الۡمَکۡرُ جَمِیۡعًا ؕ یَعۡلَمُ مَا تَکۡسِبُ کُلُّ نَفۡسٍ ؕ وَ سَیَعۡلَمُ الۡکُفّٰرُ لِمَنۡ عُقۡبَی الدَّارِ﴿۴۲﴾

۴۲۔ اور بیشک ان سے پہلے والوں نے بھی مکاریاں کی ہیں لیکن تمام تر تدبیریں اللہ کے ہاتھ میں ہیں، وہ ہر نفس کے عمل سے باخبر ہے اور کافروں کو عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ عاقبت کا مسکن کس کے لیے ہے۔