Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ لَوۡ شَآءَ رَبُّکَ لَاٰمَنَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ کُلُّہُمۡ جَمِیۡعًا ؕ اَفَاَنۡتَ تُکۡرِہُ النَّاسَ حَتّٰی یَکُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِیۡنَ﴿۹۹﴾

۹۹۔اگر آپ کا رب چاہتا تو تمام اہل زمین ایمان لے آتے، پھر کیا آپ لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کر سکتے ہیں؟

99۔ اگر اللہ چاہتا تو تمام اہل ارض کو مومن بنا دیتا اور ان سے کفر اختیار کرنے کی قدرت سلب کر لیتا۔ اگر اللہ ایسا چاہتا تو انسان کو کفر و ایمان کے درمیان کھڑا نہ کرتا اور ان دونوں میں سے ایک کو اپنی مرضی سے ترجیح دینے کی صلاحیت نہ دیتا۔ اس صورت میں وہ ایمان لانے پر مجبور ہو جاتے۔ لیکن اس قسم کا جبری ایمان اللہ کو منظور نہیں: ”تو کیا آپ لوگوں کو مجبور کر سکتے ہیں کہ وہ ایمان لے آئیں۔“؟


وَ مَا کَانَ لِنَفۡسٍ اَنۡ تُؤۡمِنَ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَ یَجۡعَلُ الرِّجۡسَ عَلَی الَّذِیۡنَ لَا یَعۡقِلُوۡنَ﴿۱۰۰﴾

۱۰۰۔ اور کوئی شخص اللہ کے اذن کے بغیر ایمان نہیں لا سکتا اور جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے اللہ انہیں پلیدی میں مبتلا کر دیتا ہے۔

100۔ یہ ترجیح دینا اگرچہ انسان کا اپنا عمل ہے تاہم وہ اس عمل کو اللہ کی طرف سے فراہم شدہ اسباب و علل کے ذریعے ہی انجام دے سکتا ہے۔ یہی اذن خدا ہے اور یہی خود مختاری ہے اور یہی امر بین امرین ہے۔ مزید تشریح ہماری تفسیر میں مذکور ہے۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے: اَلرِّجْسُ ھُوَ الشَّکُّ وَ اللّٰہِ لَا نَشُکُّ فِی رَبِّنَا اَبَداً ۔ رجس سے مراد شک ہے اور ہم اپنے رب کے بارے میں کبھی شک نہیں کرتے۔ (الکافی 1: 286)


قُلِ انۡظُرُوۡا مَاذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ مَا تُغۡنِی الۡاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنۡ قَوۡمٍ لَّا یُؤۡمِنُوۡنَ﴿۱۰۱﴾

۱۰۱۔ کہدیجئے: آسمانوں اور زمین میں نظر ڈالو کہ ان میں کیا کیا چیزیں ہیں اور جو قوم ایمان لانا ہی نہ چاہتی ہو اس کے لیے آیات اور تنبیہیں کچھ کام نہیں دیتیں۔

101۔ ایمان کا تعلق قلب سے ہے اور قلب جبر کی منطق کو نہیں سمجھتا۔ وہ دلیل فکر و استدلال اور عقل سے رام ہوتا ہے۔ لہذا اسے رام کرنے کے لیے فکر و نظر سے کام لیں۔ آسمانوں اور زمیں میں بہت سی ایسی چیزیں ہیں جن پر غور و فکر کر کے انسان آسانی کے ساتھ اپنے رب تک پہنچ سکتا ہے۔ لیکن یہ سب اس شخص کے لیے ہے جو حسن نیت سے اپنی عقل کو بروئے کار لاتا ہے اور جو لوگ شروع سے یہ تہیہ کر رکھتے ہیں کہ ہم نے ایمان لانا ہی نہیں، ان کے لیے آیات اور تنبیہیں کچھ کام نہیں دیتیں۔


فَہَلۡ یَنۡتَظِرُوۡنَ اِلَّا مِثۡلَ اَیَّامِ الَّذِیۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ قُلۡ فَانۡتَظِرُوۡۤا اِنِّیۡ مَعَکُمۡ مِّنَ الۡمُنۡتَظِرِیۡنَ﴿۱۰۲﴾

۱۰۲۔ اب یہ لوگ اس کے سوا کس کے انتظار میں ہیں کہ اس طرح کے برے دن دیکھیں جو ان سے پہلے کے لوگ دیکھ چکے ہیں؟ کہدیجئے: پس تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں۔


ثُمَّ نُنَجِّیۡ رُسُلَنَا وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کَذٰلِکَ ۚ حَقًّا عَلَیۡنَا نُنۡجِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ﴿۱۰۳﴾٪

۱۰۳۔پھر ہم اپنے رسولوں اور ایمان والوں کو نجات دیں گے، یہ بات ہمارے ذمے ہے کہ ہم مومنین کو نجات دیں۔


قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ شَکٍّ مِّنۡ دِیۡنِیۡ فَلَاۤ اَعۡبُدُ الَّذِیۡنَ تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ لٰکِنۡ اَعۡبُدُ اللّٰہَ الَّذِیۡ یَتَوَفّٰىکُمۡ ۚۖ وَ اُمِرۡتُ اَنۡ اَکُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ﴿۱۰۴﴾ۙ

۱۰۴۔ کہدیجئے: اے لوگو ! اگر تمہیں میرے دین میں کوئی شک ہے تو (جان لو کہ) تم اللہ کو چھوڑ کر جن کی پرستش کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا بلکہ میں تو صرف اس اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہاری روحیں قبض کرتا ہے اور مجھے یہی حکم ملا ہے کہ میں ایمان والوں میں سے ہوں۔


وَ اَنۡ اَقِمۡ وَجۡہَکَ لِلدِّیۡنِ حَنِیۡفًا ۚ وَ لَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ﴿۱۰۵﴾

۱۰۵۔ اور یہ کہ آپ یکسوئی کے ساتھ اپنا رخ دین کی طرف ثابت رکھیں اور مشرکوں میں سے ہرگز نہ ہوں۔


وَ لَا تَدۡعُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَنۡفَعُکَ وَ لَا یَضُرُّکَ ۚ فَاِنۡ فَعَلۡتَ فَاِنَّکَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیۡنَ﴿۱۰۶﴾

۱۰۶۔ اور اللہ کے سوا کسی ایسی چیز کو نہ پکاریں جو آپ کو نہ کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہے اور نہ نقصان، اگر آپ ایسا کریں گے تو یقینا آپ ظالموں میں شمار ہوں گے۔


وَ اِنۡ یَّمۡسَسۡکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَہٗۤ اِلَّا ہُوَ ۚ وَ اِنۡ یُّرِدۡکَ بِخَیۡرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضۡلِہٖ ؕ یُصِیۡبُ بِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ ؕ وَ ہُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ﴿۱۰۷﴾

۱۰۷۔ اور اگر اللہ آپ کو کسی تکلیف میں ڈالے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو اس تکلیف کو دور کرے اور اگر اللہ آپ سے بھلائی کرنا چاہے تو اس کے فضل کو روکنے والا کوئی نہیں، وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے فضل کرتا ہے اور وہ بڑا بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔

107۔ جس دین توحید پر آپ کو استقامت کے ساتھ رہنا ہے اس کے توحیدی تقاضے اس طرح ہیں: ٭ اس بات کا یقین کہ ہر قسم کی تکلیف، بیماری، دشمن کے خوف، مالی نقصانات، ظالم کی طرف سے زیادتی اور قدرتی آفات وغیرہ کو دور کرنے والا اللہ کے سوا کوئی نہیں۔ کائنات پر اسی کی حاکمیت ہے، نیز کوئی اور اس کے ساتھ شریک نہیں ہے۔ ٭ اللہ کسی بندے پر فضل و کرم کرتا ہے تو اس کے فضل و کرم کو روکنے والا کوئی نہیں۔ کون ہے جو اللہ کے مقابلے میں طاقت آزمائی کرے؟ تو کیا یہ عقلمندی نہیں کہ انسان بتوں سے امیدیں وابستہ کرنے کی بجائے صرف اسی ذات کی عبادت کرے اور اسی سے ساری امیدیں وابستہ کرے اور اپنے آپ کو اللہ کے فضل و کرم کا سزاوار بنائے؟ اس کا فضل اندھی بانٹ نہیں ہے کہ بغیر استحقاق اور ضابطے کے جس کو چاہے دے دے۔


قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَکُمُ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکُمۡ ۚ فَمَنِ اہۡتَدٰی فَاِنَّمَا یَہۡتَدِیۡ لِنَفۡسِہٖ ۚ وَ مَنۡ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیۡہَا ۚ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیۡکُمۡ بِوَکِیۡلٍ﴿۱۰۸﴾ؕ

۱۰۸۔ کہدیجئے: اے لوگو! بتحقیق تمہارے رب کی جانب سے حق تمہاری طرف آ چکا ہے، پس جو کوئی ہدایت حاصل کرتا ہے تو اپنی ذات کے لیے اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے تو وہ بھی اپنی ذات کو گمراہ کرتا ہے اور میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں۔

108۔ حق تمہاری دسترس میں آ گیا ہے اب خود تمہاری اپنی ذمہ داری ہے کہ گمراہی کو چھوڑ کر حق کی طرف آؤ۔ حق اور ہدایت کوئی مکروہ چیز نہیں ہے جو لوگوں پر مسلط کی جائے بلکہ ہدایت نور ہے چشم بینا رکھنے والے خود شوق سے جس کی طرف آتے ہیں۔ وہ کسی اور کے لیے نہیں بلکہ اپنی ذات کے لیے لپکتے ہیں۔