Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ اَذِنَتۡ لِرَبِّہَا وَ حُقَّتۡ ؕ﴿۵﴾

۵۔ اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی جو اس کے لیے سزاوار ہے۔


یٰۤاَیُّہَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّکَ کَادِحٌ اِلٰی رَبِّکَ کَدۡحًا فَمُلٰقِیۡہِ ۚ﴿۶﴾

۶۔ اے انسان! تو مشقت اٹھا کر اپنے رب کی طرف جانے والا ہے، پھر اس سے ملنے والا ہے۔

6۔ اے انسان! تجھے اس کرہ ارض کی پشت پر عیش و آرام اور پر تعیش زندگی گزارنے کے لیے نہیں بھیجا گیا تھا، نہ ہی لہو و عبث اور کھیل کود کے لیے بھیجا گیا تھا، بلکہ تجھے خلیفۃ اللہ کے منصب پر فائز کر کے بھیجا اور اس فیصلے کے ساتھ کہ تجھے خواہ اپنی زندگی کا سامان فراہم کرنا ہو یا اپنے ارتقائی سفر کا، یعنی اپنی انتہائی منزل (رضائے رب) تک پہنچنا ہو، ہر بات کے لیے تجھے خود محنت و مشقت کرنا ہے۔ اللہ کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ از خود مفت میں بلا استحقاق کسی کو کوئی مقام نہیں دے گا۔


فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِیَ کِتٰبَہٗ بِیَمِیۡنِہٖ ۙ﴿۷﴾

۷۔ پس جس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا،


فَسَوۡفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیۡرًا ۙ﴿۸﴾

۸۔ اس سے عنقریب ہلکا حساب لیا جائے گا۔


وَّ یَنۡقَلِبُ اِلٰۤی اَہۡلِہٖ مَسۡرُوۡرًا ؕ﴿۹﴾

۹۔ اور وہ اپنے گھر والوں کی طرف خوشی سے پلٹے گا۔

9۔ حساب سے فارغ ہونے اور نجات کا پروانہ ملنے کے بعد اپنے اہل و اولاد سے خوشی کے ساتھ جا ملیں گے۔ ممکن ہے کہ اپنے عزیزوں سے وہ لوگ بھاگیں جن کا حساب نہ ہوا ہو اور ممکن ہے کہ عزیزوں سے بھاگنا صرف بدکاروں سے مخصوص ہو، ورنہ مؤمنین اور علماء اور شہداء تو دوسروں کی شفاعت کریں گے۔


وَ اَمَّا مَنۡ اُوۡتِیَ کِتٰبَہٗ وَرَآءَ ظَہۡرِہٖ ﴿ۙ۱۰﴾

۱۰۔ اور جس کا نامہ اعمال اس کی پشت کے پیچھے سے دیا جائے گا،

10۔ بعض آیات میں ہے کہ مجرمین کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ تھما دیا جائے گا، جبکہ اس آیت میں فرمایا کہ ان کا نامہ اعمال ان کے پیچھے سے دیا جائے گا۔ اس کی ایک توجیہ سورہ نساء آیت 47 سے ملتی ہے کہ ان کے چہرے پیچھے کی طرف کیے جائیں گے۔ دوسری توجیہ یہ ہے کہ ان کے ہاتھ پیچھے کی طرف بندھے ہوئے ہوں گے۔


فَسَوۡفَ یَدۡعُوۡا ثُبُوۡرًا ﴿ۙ۱۱﴾

۱۱۔ پس وہ موت کو پکارے گا،


وَّ یَصۡلٰی سَعِیۡرًا ﴿ؕ۱۲﴾

۱۲۔ اور وہ جہنم میں جھلسے گا۔


اِنَّہٗ کَانَ فِیۡۤ اَہۡلِہٖ مَسۡرُوۡرًا ﴿ؕ۱۳﴾

۱۳۔ بلاشبہ یہ اپنے گھر والوں میں خوش رہتا تھا۔

13۔ یہ اپنے گھر والوں میں اس بنا پر بے غم رہتا تھا کہ اسے اللہ کی بارگاہ میں نہیں جانا ہے اور اسی طرح وہ اپنی خوشی کے لیے جرم کا ارتکاب کرتا تھا۔ ورنہ مومن بھی اللہ کی نعمتوں پر خوش رہتے ہیں۔ حدیث میں آیا ہے: وَ مَا عُبِدُ اللہُ بِشَیْئٍ اَحَبَّ اِلَی اللہِ مِنْ اِدْخَالِ السُّرُورِ عَلَی الْمُوْمِنٍ (الکافی 2:188) اللہ کی بندگی کے لیے مومن کے دل میں خوشی ڈالنے سے زیادہ کوئی چیز اللہ کو پسند نہیں۔


اِنَّہٗ ظَنَّ اَنۡ لَّنۡ یَّحُوۡرَ ﴿ۚۛ۱۴﴾

۱۴۔ بے شک اس کا یہ گمان تھا کہ اسے لوٹ کر (اللہ کی طرف) جانا ہی نہیں ہے۔