Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

اِنَّ عَلَیۡنَا جَمۡعَہٗ وَ قُرۡاٰنَہٗ ﴿ۚۖ۱۷﴾

۱۷۔ اس کا جمع کرنا اور پڑھوانا یقینا ہمارے ذمے ہے۔


فَاِذَا قَرَاۡنٰہُ فَاتَّبِعۡ قُرۡاٰنَہٗ ﴿ۚ۱۸﴾

۱۸۔ پس جب ہم اسے پڑھ چکیں تو پھر آپ (بھی) اسی طرح پڑھا کریں۔


ثُمَّ اِنَّ عَلَیۡنَا بَیَانَہٗ ﴿ؕ۱۹﴾

۱۹۔ پھر اس کی وضاحت ہمارے ذمے ہے

16 تا 19۔ وحی کو حفظ، اس کی تلاوت اور اس کے مطالب کو بیان کرنا اللہ کے ذمے ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو وحی کی تشخیص میں مشکل پیش آئے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے یا کسی اور کی طرف سے، کیونکہ آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وحی کو ظاہری حواس سے نہیں، اپنے پورے وجود سے اخذ کرتے تھے، جس میں کسی قسم کے شک و تردد کی گنجائش نہیں ہے۔ اسی طرح اس قرآن کی حفاظت بھی اللہ کے ذمے ہے۔


کَلَّا بَلۡ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَۃَ ﴿ۙ۲۰﴾

۲۰۔ (کیا یہ انکار اس لیے ہے کہ قیامت ناقابل فہم ہے؟) ہرگز نہیں! یہ اس لیے ہے کہ تم دنیا کو پسند کرتے ہو،


وَ تَذَرُوۡنَ الۡاٰخِرَۃَ ﴿ؕ۲۱﴾

۲۱۔ اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو۔


وُجُوۡہٌ یَّوۡمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ ﴿ۙ۲۲﴾

۲۲۔ بہت سے چہرے اس روز شاداب ہوں گے،


اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ ﴿ۚ۲۳﴾

۲۳۔ وہ اپنے رب(کی رحمت) کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔

23۔ رب کی رحمتوں پر اپنی نگاہ مرکوز کیے ہوئے ہوں گے، ورنہ خدا کو اس طرح نہیں دیکھا جا سکتا جس طرح ہم دنیا میں کسی چیز کو جہت، جسم اور رنگ میں دیکھ سکتے ہیں۔ البتہ اس کے علاوہ کوئی روئیت مراد لی جائے، مثلاً قلبی روئیت ہو تو اس صورت میں روئیت ممکن ہو سکتی ہے۔ بعض کے نزدیک نَاظِرَۃٌ کے معنی منتظر ہونے کے ہیں، کہ صرف اللہ کی رحمت کے منتظر ہوں گے۔


وَ وُجُوۡہٌ یَّوۡمَئِذٍۭ بَاسِرَۃٌ ﴿ۙ۲۴﴾

۲۴۔ اور بہت سے چہرے اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے،


تَظُنُّ اَنۡ یُّفۡعَلَ بِہَا فَاقِرَۃٌ ﴿ؕ۲۵﴾

۲۵۔ جو گمان کریں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ معاملہ ہونے والا ہے۔


کَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَ ﴿ۙ۲۶﴾

۲۶۔ (کیا تم اس دنیا میں ہمیشہ رہو گے؟) ہرگز نہیں! جب جان حلق تک پہنچ جائے گی،