Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

اَفَرَءَیۡتُمُ الۡمَآءَ الَّذِیۡ تَشۡرَبُوۡنَ ﴿ؕ۶۸﴾

۶۸۔ مجھے بتلاؤ کہ جو پانی تم پیتے ہو،


ءَاَنۡتُمۡ اَنۡزَلۡتُمُوۡہُ مِنَ الۡمُزۡنِ اَمۡ نَحۡنُ الۡمُنۡزِلُوۡنَ﴿۶۹﴾

۶۹۔ اسے بادلوں سے تم برساتے ہو یا اس کے برسانے والے ہم ہیں؟

69۔ سمندر سے ایک خاص مقدار میں بخار کا اٹھانا اور ایک خاص مقدار کی بلندی تک پہنچانا۔ پھر ہوا کے ذریعے اسے چلانا، پھر دوسری طرف سے آنے والی ہواؤں سے ٹکرا کر اس کو بادل بنانا، پھر اس بادل کو پانی کے قطروں میں تبدیل کرنا، پھر ان قطروں کو پھیلا کر زمین کے ایک وسیع علاقے کو سیراب کرنا تمہارا کام ہے یا ہمارا؟


لَوۡ نَشَآءُ جَعَلۡنٰہُ اُجَاجًا فَلَوۡ لَا تَشۡکُرُوۡنَ﴿۷۰﴾

۷۰۔ اگر ہم چاہیں تو اسے کھارا بنا دیں پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے ؟

70۔ اگر ہم سمندر کے کھارے پانی کو بھاپ کے ذریعے صاف نہ کرتے اور سمندر کا پانی اپنی نمکینی کے ساتھ فضا میں اٹھتا تو تم کیسے اسے آب شیریں میں بدل سکتے تھے؟


اَفَرَءَیۡتُمُ النَّارَ الَّتِیۡ تُوۡرُوۡنَ ﴿ؕ۷۱﴾

۷۱۔ مجھے بتلاؤ کہ جو آگ تم سلگاتے ہو،


ءَاَنۡتُمۡ اَنۡشَاۡتُمۡ شَجَرَتَہَاۤ اَمۡ نَحۡنُ الۡمُنۡشِـُٔوۡنَ﴿۷۲﴾

۷۲۔ اس کے درخت کو تم نے پیدا کیا یا اس کے پیدا کرنے والے ہم ہیں؟

72۔ قدیم زمانے میں اہل عرب ہری ٹہنیوں کو آپس میں رگڑ کر آگ پیدا کیا کرتے تھے اور آج بھی بعض قبائل میں یہی طریقہ کار رائج ہے۔


نَحۡنُ جَعَلۡنٰہَا تَذۡکِرَۃً وَّ مَتَاعًا لِّلۡمُقۡوِیۡنَ ﴿ۚ۷۳﴾

۷۳۔ ہم ہی نے اس (آگ) کو یاد دہانی کا ذریعہ اور ضرورت مندوں کے لیے سامان زندگی بنایا۔


فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ الۡعَظِیۡمِ﴿٪۷۴﴾

۷۴۔ پس اپنے عظیم رب کے نام کی تسبیح کرو۔


فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوۡمِ ﴿ۙ۷۵﴾

۷۵۔ میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے مقامات کی۔

75۔ فلکیات کا ایک ادنیٰ طالبعلم بھی جانتا ہے کہ ستاروں کے مقامات کی کیا عظمت ہے۔ کائنات کی اربوں کہکشاؤں میں صرف ہماری کہکشاں، جس میں ہمارا شمسی نظام واقع ہے، کئی میلین ستاروں پر مشتمل ہے۔ کہکشاؤں کے بارے میں نہایت حیرت انگیز انکشافات کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کی عظمتوں کا ادراک قوت بشر سے باہر ہے۔


وَ اِنَّہٗ لَقَسَمٌ لَّوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عَظِیۡمٌ ﴿ۙ۷۶﴾

۷۶۔ اور اگر تم سمجھو تو یہ یقینا بہت بڑی قسم ہے

76۔ خود خالق جانتا ہے کہ اس قسم کی کیا عظمت ہے اور پھر اس قرآن کی عظمت کو وہ جانتا ہے جس نے اس کو پوشیدہ رازوں کے دیوان میں محفوظ رکھا ہے۔


اِنَّہٗ لَقُرۡاٰنٌ کَرِیۡمٌ ﴿ۙ۷۷﴾

۷۷۔ کہ یہ قرآن یقینا بڑی تکریم والا ہے،