Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ کَمۡ مِّنۡ مَّلَکٍ فِی السَّمٰوٰتِ لَا تُغۡنِیۡ شَفَاعَتُہُمۡ شَیۡئًا اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ اَنۡ یَّاۡذَنَ اللّٰہُ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یَرۡضٰی﴿۲۶﴾

۲۶۔ اور آسمانوں میں کتنے ہی ایسے فرشتے ہیں جن کی شفاعت کچھ بھی فائدہ نہیں دیتی مگر اللہ کی اجازت کے بعد جس کے لیے وہ چاہے اور پسند کرے۔

26۔ فرشتے اللہ کی بارگاہ میں کتنے ہی مقرب کیوں نہ ہوں، کسی کی شفاعت نہیں کر سکتے، جب تک اللہ کی طرف سے اجازت نہ ہو اور اجازت کے لیے بھی یَرۡضٰی پسند یعنی اہلیت شرط ہے۔


اِنَّ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ لَیُسَمُّوۡنَ الۡمَلٰٓئِکَۃَ تَسۡمِیَۃَ الۡاُنۡثٰی﴿۲۷﴾

۲۷۔ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ فرشتوں کے نام لڑکیوں جیسے رکھتے ہیں۔


وَ مَا لَہُمۡ بِہٖ مِنۡ عِلۡمٍ ؕ اِنۡ یَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ ۚ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغۡنِیۡ مِنَ الۡحَقِّ شَیۡئًا ﴿ۚ۲۸﴾

۲۸۔ حالانکہ انہیں اس کا کچھ بھی علم نہیں ہے وہ تو صرف گمان کی پیروی کرتے ہیں اور گمان تو حق (تک) پہنچنے کے لیے کچھ کام نہیں دیتا۔

28۔ ظن،حق کی جگہ کام نہیں دے سکتا۔ کسی مؤقف کے لیے ظن کو بطور سند پیش نہیں کیا جا سکتا۔ پھر یہ کیسے اسی ظن کی بنیاد پر فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بنا کر ان سے مرادیں مانگتے ہیں؟


فَاَعۡرِضۡ عَنۡ مَّنۡ تَوَلّٰی ۬ۙ عَنۡ ذِکۡرِنَا وَ لَمۡ یُرِدۡ اِلَّا الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا ﴿ؕ۲۹﴾

۲۹۔ پس آپ اس سے منہ پھیر لیں جو ہمارے ذکر سے منہ پھیرتا ہے اور صرف دنیاوی زندگی کا خواہاں ہے۔

29۔ حق سے نفرت کرنے والے دنیا پرستوں سے دور ہٹ کر اپنی ساری توجہ اس جماعت کے لوگوں کی طرف رکھنی چاہیے جو حق کی بات سننے کے لیے آمادہ ہیں، کیونکہ یہی لوگ اس دعوت کو آگے بڑھائیں گے۔


ذٰلِکَ مَبۡلَغُہُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ ؕ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ضَلَّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ ۙ وَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَنِ اہۡتَدٰی ﴿۳۰﴾

۳۰۔یہی ان کے علم کی انتہا ہے آپ کا رب یقینا بہتر جانتا ہے کہ اس کے راستے سے کون بھٹک گیا ہے اور اسے بھی خوب جانتا ہے جو ہدایت پر ہے ۔

30۔ جو لوگ صرف دنیوی زندگی کو مقصد حیات سمجھتے ہیں، ان کی علمی سطح جانوروں سے زیادہ نہیں ہے۔ اسی لیے دعاؤں میں آیا ہے: وَلَا تَجْعَلِ الدُّنْیَا اَکْبَرَ ہَمِّنَا وَ لاَ مَبْلَغَ عِلْمِنَا ۔ (مستدرک الوسائل 6:285) اے اللہ! ہم کو ایسا نہ بنا دے کہ دنیا ہی ہمارا سب سے بڑا مقصد اور ہمارے علم و آگہی کی انتہا قرار پائے۔


وَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ۙ لِیَجۡزِیَ الَّذِیۡنَ اَسَآءُوۡا بِمَا عَمِلُوۡا وَ یَجۡزِیَ الَّذِیۡنَ اَحۡسَنُوۡا بِالۡحُسۡنٰی ﴿ۚ۳۱﴾

۳۱۔ اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے تاکہ اللہ برائی کرنے والوں کو ان کے عمل کا بدلہ دے اور نیکی کرنے والوں کو بہترین جزا دے۔


اَلَّذِیۡنَ یَجۡتَنِبُوۡنَ کَبٰٓئِرَ الۡاِثۡمِ وَ الۡفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ ؕ اِنَّ رَبَّکَ وَاسِعُ الۡمَغۡفِرَۃِ ؕ ہُوَ اَعۡلَمُ بِکُمۡ اِذۡ اَنۡشَاَکُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ وَ اِذۡ اَنۡتُمۡ اَجِنَّۃٌ فِیۡ بُطُوۡنِ اُمَّہٰتِکُمۡ ۚ فَلَا تُزَکُّوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ؕ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَنِ اتَّقٰی ٪﴿۳۲﴾

۳۲۔ جو لوگ گناہان کبیرہ اور بے حیائیوں سے اجتناب برتتے ہیں سوائے گناہان صغیرہ کے تو آپ کے رب کی مغفرت کا دائرہ یقینا بہت وسیع ہے، وہ تم سے خوب آگاہ ہے جب اس نے تمہیں مٹی سے بنایا اور جب تم اپنی ماؤں کے شکم میں ابھی جنین تھے، پس اپنے نفس کی پاکیزگی نہ جتاؤ، اللہ پرہیزگار کو خوب جانتا ہے۔

32۔ اللَّمَمَ گناہ کے قریب جانے کے معنوں میں ہے۔ امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے: لَّمَمَ وہ گناہ ہے جس کے ارتکاب کے بعد انسان استغفار کرتا ہے۔ آیت کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ ان چھوٹے گناہوں کے علاوہ اگر انسان بڑے گناہوں سے اجتناب کرتا ہے تو اللہ کی مغفرت کا دائرہ وسیع ہے اور وہ بخش دے گا۔ آیت کے آخر میں فرمایا: اپنی پاکیزگی کے دعوے نہ کرو۔ اگر یہ دعویٰ اللہ کی خاطر ہے تو وہ بہتر جانتا ہے کہ تمہارے دعوے کہاں تک صحیح ہیں۔ اگر اس کا مقصد لوگوں کے سامنے اپنی پاکیزگی کا اظہار کرنا ہے تو یہ خود ستائیشی اور خود بینی بندگی کے سراسر خلاف ہے۔ امیرالمومنین علیہ السلام سے منقول ہے: سَیِّئَۃٌ تَسُوئُکَ خَیْرٌ عِنْدَ اللہِ مِنْ حَسَنَۃٍ تُعْجِبُکَ ۔ (نہج البلاغۃ نصیحت 46 ص 477) وہ گناہ جو خود تجھے برا لگے، اللہ کے نزدیک اس نیکی سے بہتر ہے جو تجھے خود پسندی میں مبتلا کر دے۔


اَفَرَءَیۡتَ الَّذِیۡ تَوَلّٰی ﴿ۙ۳۳﴾

۳۳۔ مجھے بتلاؤ جس نے منہ پھیر لیا،


وَ اَعۡطٰی قَلِیۡلًا وَّ اَکۡدٰی﴿۳۴﴾

۳۴۔ اور تھوڑا سا دیا اور پھر رک گیا؟

34۔ ایک روایت کے مطابق ولید بن مغیرہ کو مشرکین نے اور دوسری روایت کے مطابق حضرت عثمان کو ان کے رشتہ دار عبد اللہ بن سعد نے یہ پیش کش کی کہ اپنے مال کا کچھ حصہ ہمیں دے دیں، ہم آپ کا بار گناہ یا شرک کا عذاب اپنی گردن پر لیتے ہیں۔ اس سلسلے میں معاہدہ ہوا، لیکن کچھ مال دینے کے بعد وہ رک گیا۔ یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی۔


اَعِنۡدَہٗ عِلۡمُ الۡغَیۡبِ فَہُوَ یَرٰی﴿۳۵﴾

۳۵۔ کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے وہ دیکھ رہا ہے؟

35۔ کیا اس کو علم غیب کے ذریعے پتہ چلا کہ آخرت کا عذاب مال دے کر کسی اور کے ذمے ڈالا جا سکتا ہے؟