Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖ خَلۡقُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا بَثَّ فِیۡہِمَا مِنۡ دَآبَّۃٍ ؕ وَ ہُوَ عَلٰی جَمۡعِہِمۡ اِذَا یَشَآءُ قَدِیۡرٌ﴿٪۲۹﴾

۲۹۔ اور آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور وہ جاندار جو اس نے ان دونوں میں پھیلا رکھے ہیں اس کی نشانیوں میں سے ہیں اور وہ جب چاہے انہیں جمع کرنے پر خوب قادر ہے۔

29۔ اس آیت میں اس بات کی صراحت موجود ہے کہ زندگی دوسرے ستاروں میں بھی پائی جاتی ہے۔


وَ مَاۤ اَصَابَکُمۡ مِّنۡ مُّصِیۡبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتۡ اَیۡدِیۡکُمۡ وَ یَعۡفُوۡا عَنۡ کَثِیۡرٍ ﴿ؕ۳۰﴾

۳۰۔ اور تم پر جو مصیبت آتی ہے وہ خود تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آتی ہے اور وہ بہت سی باتوں سے درگزر کرتا ہے۔

30۔ فَبِمَا کَسَبَتۡ اَیۡدِیۡکُمۡ سے مراد معصیت ہے اور خطاب ان لوگوں سے ہے جو معصیت کا ارتکاب کرتے ہیں، خواہ وہ مسلم ہوں یا کافر۔ معصوم اور غیر مکلف اس میں شامل نہیں ہیں، کیونکہ ان سے معصیت سرزد نہیں ہوتی، اس لیے ان پر جو مصیبت آتی ہے وہ ان کے اعمال کی وجہ سے نہیں ہے۔ دوسرے لوگوں کے بارے میں فرمایا: جو آفت تم پر آتی ہے وہ خود تمہارے برے اعمال کا لازمہ ہے۔ اس آیت اور دیگر متعدد آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی اعمال و کردار اور کائنات پر حاکم نظام فطرت میں ایک گہرا ربط ہے: اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوۡمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِہِمۡ ۔(رعد:11)اسی طرح فرمایا: وَ لَوۡ اَنَّ اَہۡلَ الۡقُرٰۤی اٰمَنُوۡا وَ اتَّقَوۡا لَفَتَحۡنَا عَلَیۡہِمۡ بَرَکٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ ۔(اعراف:96) اگر بستیوں والے ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتیں کھول دیتے۔

وَ یَعۡفُوۡا عَنۡ کَثِیۡرٍ اور بہت سی معصیتوں سے درگزر فرماتا ہے۔ چنانچہ سورہ نحل میں فرمایا: اگر لوگوں کو ان کے ظلم کے سبب اللہ گرفت میں لیتا تو روئے زمین پر کوئی ذی روح باقی نہ چھوڑتا۔

یہ کہنا کہ اس آیت کے مخاطبین مشرکین مکہ ہیں، لہٰذا یہ آیت ان کے ساتھ مختص ہے، ناقابل توجہ بات ہے۔ کیونکہ العبرۃ بعموم اللفظ لا بخصوص السبب ۔ فہم قرآن میں لفظ کی عمومیت دیکھی جاتی ہے، سبب نزول نہیں دیکھا جاتا۔


وَ مَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِیۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ۚۖ وَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیۡرٍ﴿۳۱﴾

۳۱۔ اور تم زمین میں (اللہ کو) عاجز تو نہیں کر سکتے، اللہ کے سوا تمہارا نہ کوئی کارساز ہے اور نہ مددگار۔


وَ مِنۡ اٰیٰتِہِ الۡجَوَارِ فِی الۡبَحۡرِ کَالۡاَعۡلَامِ ﴿ؕ۳۲﴾

۳۲۔ اور سمندر میں پہاڑوں جیسے جہاز اس کی نشانیوں میں سے ہے ۔


اِنۡ یَّشَاۡ یُسۡکِنِ الرِّیۡحَ فَیَظۡلَلۡنَ رَوَاکِدَ عَلٰی ظَہۡرِہٖ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوۡرٍ ﴿ۙ۳۳﴾

۳۳۔ اگر اللہ چاہے تو ہوا کو ساکن کر دے تو یہ سطح سمندر پر کھڑے رہ جائیں، ہر صبر کرنے والے شکرگزار کے لیے اس میں نشانیاں ہیں۔


اَوۡ یُوۡبِقۡہُنَّ بِمَا کَسَبُوۡا وَ یَعۡفُ عَنۡ کَثِیۡرٍ ﴿۫۳۴﴾

۳۴۔ یا انہیں ان کے اعمال کے سبب تباہ کر دے اور وہ بہت سے لوگوں سے درگزر کرتا ہے،


وَّ یَعۡلَمَ الَّذِیۡنَ یُجَادِلُوۡنَ فِیۡۤ اٰیٰتِنَا ؕ مَا لَہُمۡ مِّنۡ مَّحِیۡصٍ﴿۳۵﴾

۳۵۔ تاکہ ہماری آیات میں جھگڑنے والوں کو علم ہو جائے کہ ان کے لیے جائے پناہ نہیں ہے۔


فَمَاۤ اُوۡتِیۡتُمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ فَمَتَاعُ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ وَ مَا عِنۡدَ اللّٰہِ خَیۡرٌ وَّ اَبۡقٰی لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَلٰی رَبِّہِمۡ یَتَوَکَّلُوۡنَ ﴿ۚ۳۶﴾

۳۶۔ پس جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے وہ دنیاوی زندگی کا سامان ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہترین اور زیادہ پائیدار ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے اور اپنے رب پر بھروسا کرتے ہیں،


وَ الَّذِیۡنَ یَجۡتَنِبُوۡنَ کَبٰٓئِرَ الۡاِثۡمِ وَ الۡفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوۡا ہُمۡ یَغۡفِرُوۡنَ ﴿ۚ۳۷﴾

۳۷۔ اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کی باتوں سے پرہیز کرتے ہیں اور جب انہیں غصہ آئے تو معاف کر دیتے ہیں۔

37۔ کبائر کی وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو: کَبَآئِرَ مَا تُنۡہَوۡنَ عَنۡہُ ۔ (نساء:31) حضرت امام باقر علیہ السلام سے روایت ہے: مَنْ مَلَکَ نَفْسَہُ اِذَا رَغِبَ وَ اِذَا رَھِبَ وَ اِذَا اشْتَھَی وَ اِذَا غَضِبَ حَرَّمَ اللہ جَسَدَہُ عَلَی النَّار۔ (الفقیہ 4: 400۔ نور الثقلین) جو شخص اپنے آپ کو رغبت، خواہشات، خوف اور غصے کے وقت قابو میں رکھتا ہے، اس کے جسم کو اللہ جہنم کی آگ پر حرام کر دیتا ہے۔


وَ الَّذِیۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِرَبِّہِمۡ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ ۪ وَ اَمۡرُہُمۡ شُوۡرٰی بَیۡنَہُمۡ ۪ وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ﴿ۚ۳۸﴾

۳۸۔ اور جو اپنے رب کو لبیک کہتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور اپنے معاملات باہمی مشاورت سے انجام دیتے ہیں اور ہم نے جو رزق انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔

38۔ اجتماعی امور میں دوسروں کے تجربات اور بہت سی عقلوں سے فائدہ اٹھانے کا نام مشورہ ہے۔ حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے: لَا ظَھِیْرَ کَالْمُشَاوَرَۃِ ۔ (وسائل الشیعۃ 12: 40) باہمی مشاورت جیسا کوئی پشت پناہ نہیں ہے۔ مشورہ ان امور میں لیا جاتا ہے جو بقول مولانا شبیر احمد عثمانی قرآن و سنت میں منصوص نہ ہوں۔ جو چیز منصوص ہو، اس میں رائے و مشورہ کی گنجائش نہیں اور یہ غیر معقول ہو گا کہ خدا و رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کوئی حکم دیں اور لوگ مشورہ کر کے اس کے خلاف فیصلہ دیں۔ وَاَمْرُہُمْ اپنے معاملات، سے معلوم ہوا کہ مشاورت ان اجتماعی امور سے متعلق ہے جو حکم شریعت سے متصادم نہیں ہیں اور جو قرآن و سنت میں منصوص ہے، وہ وَ اَمۡرُہُمۡ نہیں ہو گا، بلکہ امر من اللہ ہو گا۔ چنانچہ سورہ احزاب آیت 36 میں اللہ کے فیصلے کے بعد کسی اختیار کی نفی فرمائی: اَنْ يَّكُوْنَ لَہُمُ الْخِـيَرَۃُ مِنْ اَمْرِہِمْ ۔