Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

فَغَفَرۡنَا لَہٗ ذٰلِکَ ؕ وَ اِنَّ لَہٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰی وَ حُسۡنَ مَاٰبٍ﴿۲۵﴾

۲۵۔ پس ہم نے ان کی اس بات کو معاف کیا اور یقینا ہمارے نزدیک ان کے لیے تقرب اور بہتر بازگشت ہے۔


یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلۡنٰکَ خَلِیۡفَۃً فِی الۡاَرۡضِ فَاحۡکُمۡ بَیۡنَ النَّاسِ بِالۡحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعِ الۡہَوٰی فَیُضِلَّکَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَضِلُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ لَہُمۡ عَذَابٌ شَدِیۡدٌۢ بِمَا نَسُوۡا یَوۡمَ الۡحِسَابِ ﴿٪۲۶﴾

۲۶۔ اے داؤد! ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے لہٰذا لوگوں میں حق کے ساتھ فیصلہ کریں اور خواہش کی پیروی نہ کریں، وہ آپ کو اللہ کی راہ سے ہٹا دے گی، جو اللہ کی راہ سے بھٹکتے ہیں ان کے لیے یوم حساب فراموش کرنے پر یقینا سخت عذاب ہو گا۔

26۔ یعنی زمین پر اللہ کا خلیفہ۔ جو بھی ہستی زمین پر اللہ کا خلیفہ ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے میں اللہ کا اخلاق پیدا کرے۔ اس میں سب سے پہلا فریضہ لوگوں کے درمیان برحق فیصلہ کرنا ہے۔ یعنی لوگوں کو انصاف فراہم کرنا اللہ کے نمائندوں کا سب سے پہلا فریضہ ہے۔

وَ لَا تَتَّبِعِ الۡہَوٰی : انصاف کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ خواہشات کی پیروی کرنا ہے۔ ایک خواہش پرست جج انصاف نہیں دے سکتا۔


وَ مَا خَلَقۡنَا السَّمَآءَ وَ الۡاَرۡضَ وَ مَا بَیۡنَہُمَا بَاطِلًا ؕ ذٰلِکَ ظَنُّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ۚ فَوَیۡلٌ لِّلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنَ النَّارِ ﴿ؕ۲۷﴾

۲۷۔ اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کو بے مقصد پیدا نہیں کیا، یہ کفار کا گمان ہے، ایسے کافروں کے لیے آتش جہنم کی تباہی ہے۔


اَمۡ نَجۡعَلُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَالۡمُفۡسِدِیۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ۫ اَمۡ نَجۡعَلُ الۡمُتَّقِیۡنَ کَالۡفُجَّارِ﴿۲۸﴾

۲۸۔ کیا ہم ایمان لانے اور اعمال صالح بجا لانے والوں کو زمین میں فساد پھیلانے والوں کی طرح قرار دیں یا اہل تقویٰ کو بدکاروں کی طرح قرار دیں؟

28۔ اگر ان قدروں کو تسلیم نہ کیا جائے اور نیکی بجا لانے والا برائی کا ارتکاب کرنے والے کے برابر ہو جائے اور اصلاح کا داعی مفسدوں کے مساوی ہو جائے تو کائنات کا پورا نظام عبث ہو کر رہ جاتا ہے اور انسان ایک کھلونا بن جاتا ہے۔ یہ تصور بذات خود انسانیت کی توہین ہے۔

آیت میں اس بات کی صراحت موجود ہے: یہ کام اللہ سے صادر نہ ہو گا کہ صالح اور فسادی، متقی اور بدکار ایک جیسے ہوں۔ کیونکہ ہر عاقل سمجھ لیتا ہے کہ ایسا کرنا اپنی جگہ ایک قبیح عمل ہے۔ یعنی شریعت سے ہٹ کر اپنی جگہ یہ قبیح ہے۔ جو شریعت کو نہیں مانتا وہ بھی اسے قبیح سمجھتا ہے۔ اسے قبح عقلی کہتے ہیں۔ آیت کی صراحت یہ ہے کہ اللہ اس قسم کے قبیح عمل کا ارتکاب نہیں کرتا۔ ایسا کرنا عدل کے خلاف ہے اور اللہ عادل ہے۔


کِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰہُ اِلَیۡکَ مُبٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوۡۤا اٰیٰتِہٖ وَ لِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ﴿۲۹﴾

۲۹۔ یہ ایک ایسی بابرکت کتاب ہے جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی ہے تاکہ لوگ اس کی آیات میں تدبر کریں اور صاحبان عقل اس سے نصیحت حاصل کریں۔


وَ وَہَبۡنَا لِدَاوٗدَ سُلَیۡمٰنَ ؕ نِعۡمَ الۡعَبۡدُ ؕ اِنَّہٗۤ اَوَّابٌ ﴿ؕ۳۰﴾

۳۰۔ اور ہم نے داؤد کو سلیمان عطا کیا جو بہترین بندے اور (اللہ کی طرف) خوب رجوع کرنے والے تھے۔


اِذۡ عُرِضَ عَلَیۡہِ بِالۡعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الۡجِیَادُ ﴿ۙ۳۱﴾

۳۱۔ جب شام کے وقت انہیں عمدہ تیز رفتار گھوڑے پیش کیے گئے،


فَقَالَ اِنِّیۡۤ اَحۡبَبۡتُ حُبَّ الۡخَیۡرِ عَنۡ ذِکۡرِ رَبِّیۡ ۚ حَتّٰی تَوَارَتۡ بِالۡحِجَابِ ﴿ٝ۳۲﴾

۳۲۔ تو انہوں نے کہا: میں نے(گھوڑوں کے ساتھ ایسے) محبت کی جیسے خیر سے محبت کی جاتی ہے اور اپنے رب کے ذکر سے غافل ہو گیا یہاں تک کہ پردے میں چھپ گیا۔


رُدُّوۡہَا عَلَیَّ ؕ فَطَفِقَ مَسۡحًۢا بِالسُّوۡقِ وَ الۡاَعۡنَاقِ﴿۳۳﴾

۳۳۔ (بولے) انہیں میرے پاس واپس لے آؤ، پھر ان کی ٹانگوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔

31 تا 33۔ سیاق آیت کے قریب تر معنی یہ ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو بندگانِ خدا میں ممتاز مقام حاصل تھا، کیونکہ وہ اللہ کی طرف خوب رجوع کرنے والے تھے۔ چنانچہ جب سدھائے ہوئے تیز رفتار گھوڑے پیش کیے گئے جو راہ خدا میں جہاد کے لیے آمادہ کیے گئے تھے تو ذکر خدا سے غافل ہو گئے۔ روایات کے مطابق اول وقت نکل گیا۔ یہاں تک کہ جب گھوڑوں کی دوڑ کرائی اور وہ نگاہ سے دور ہو گئے تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے حکم دیا کہ گھوڑے ان کے پاس واپس لائے جائیں۔ پھر از روئے محبت ان گھوڑوں کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔ یعنی انبیاء دنیا کی عمدہ چیزوں سے اگر محبت کرتے ہیں تو محض برائے خدا محبت کرتے ہیں۔ عمدہ گھوڑوں پر بھی رضائے الٰہی کی خواہش کے بغیر فریفتہ نہیں ہوتے۔

ممکن ہے توارت الصافنات بالحجاب مراد ہو، چنانچہ رُدُّوۡہَا عَلَیَّ اس پر قرینہ ہے۔ اکثر مفسرین توارت الشمس مراد لیتے ہیں، جبکہ شمس پہلے مذکور نہیں ہے۔ صرف العشی کو قرینہ قرار دیتے ہیں جو ضعیف قرینہ ہے۔


وَ لَقَدۡ فَتَنَّا سُلَیۡمٰنَ وَ اَلۡقَیۡنَا عَلٰی کُرۡسِیِّہٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ﴿۳۴﴾

۳۴۔ اور ہم نے سلیمان کو آزمایا اور ان کے تخت پر ایک جسد ڈال دیا پھر انہوں نے (اپنے رب کی طرف) رجوع کیا۔

34۔ یہ بے روح جسد حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے کس طرح امتحان تھا ؟ اس کی تفصیل معلوم نہیں ہے۔ روایات کے الفاظ و عبارات متضاد اور بعض اوقات غیر معقول ہیں۔ بعض لوگ اس جسد سے ان کے ولی عہد رَحبعام کو مراد لیتے ہیں جو ان کے بعد حکومت چلانے میں بری طرح ناکام ہو گیا۔ یہ سیاق آیت سے کسی طرح بھی ہم آہنگ نہیں ہے۔