Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

الَّذِیۡنَ یَجۡعَلُوۡنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَ ۚ فَسَوۡفَ یَعۡلَمُوۡنَ﴿۹۶﴾

۹۶۔ جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود بنا لیتے ہیں عنقریب انہیں (اپنے انجام کا) علم ہو جائے گا۔


Deprecated: str_ireplace(): Passing null to parameter #3 ($subject) of type array|string is deprecated in /home/balaghroot/public_html/inc-search-results.php on line 151


وَ لَقَدۡ نَعۡلَمُ اَنَّکَ یَضِیۡقُ صَدۡرُکَ بِمَا یَقُوۡلُوۡنَ ﴿ۙ۹۷﴾

۹۷۔ اور بتحقیق ہمیں علم ہے کہ یہ جو کچھ کہ رہے ہیں اس سے آپ یقینا دل تنگ ہو رہے ہیں۔


Deprecated: str_ireplace(): Passing null to parameter #3 ($subject) of type array|string is deprecated in /home/balaghroot/public_html/inc-search-results.php on line 151

97۔ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب کی دلجوئی فرماتا ہے کہ ہمیں علم ہے کہ آپ ان کافروں کی باتوں سے دل تنگ ہو رہے ہیں۔ رسول اللہ علیہ السلام آگاہ ہیں کہ ہر بات اللہ کے علم میں ہے، لیکن محض تسلی اور اظہار شفقت کے لیے فرمایا: ہمیں علم ہے۔ یعنی ہم آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حامی ہیں اور اپنے مقصد کی راہ میں جن مصیبتوں اور ذہنی پریشانیوں سے دو چار ہیں ہم ان سے آگاہ ہیں۔


فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّکَ وَ کُنۡ مِّنَ السّٰجِدِیۡنَ ﴿ۙ۹۸﴾

۹۸۔ پس آپ اپنے رب کی ثناء کے ساتھ تسبیح کریں اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں ۔

98۔ کفار کی طرف سے پہنچنے والی اذیتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تسبیح و سجود سے تقویت حاصل کرو۔یعنی نمازیں پڑھا کرو۔ جس نے اس دل و جان کو خلق کیا ہے، اس سے یہ جان زیادہ مانوس ہے۔ اس انس کے کیف و سرور کے عالم میں دنیا کی مصیبتیں اور مشقتیں آسان ہو جاتی ہیں۔


وَ اعۡبُدۡ رَبَّکَ حَتّٰی یَاۡتِیَکَ الۡیَقِیۡنُ﴿٪۹۹﴾

۹۹۔ اور اپنے رب کی عبادت کریں یہاں تک کہ آپ کو یقین (موت ) آ جائے ۔


بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

بنام خدائے رحمن رحیم

سورﮤ نحل

اس سورہ میں نحل (شہد کی مکھی) کا ذکر آیا ہے اسی مناسبت سے اسے سورہ نحل کہتے ہیں۔

بعض آیات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ سورہ اس وقت نازل ہوا جب کفار مکہ کی طرف سے ظلم و ستم اپنی انتہا کو پہنچ چکا تھا۔ دیگر سورہ ہائے مکّی کی طرح یہ سورہ بھی الہٰیات، وحی معاد، جیسے موضوعات پر زیادہ توجہ دیتا ہے۔ معاملات کے بارے میں بھی احکام ملتے ہیں۔ اللہ کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں کا اس سورہ میں کثرت سے ذکر ملتا ہے، یہاں تک کہ اسے سورۃ النعم (نعمات کا سورہ) بھی کہا جاتا ہے۔


اَتٰۤی اَمۡرُ اللّٰہِ فَلَا تَسۡتَعۡجِلُوۡہُ ؕ سُبۡحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ﴿۱﴾

۱۔ اللہ کا امر آگیا پس تم اس میں عجلت نہ کرو وہ پاک اور بالاتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔


یُنَزِّلُ الۡمَلٰٓئِکَۃَ بِالرُّوۡحِ مِنۡ اَمۡرِہٖ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖۤ اَنۡ اَنۡذِرُوۡۤا اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوۡنِ﴿۲﴾

۲۔ وہ اپنے حکم سے فرشتوں کو روح کے ساتھ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے نازل کرتا ہے (اس حکم کے ساتھ) کہ انہیں تنبیہ کرو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں لہٰذا تم میری مخالفت سے بچو۔


خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ ؕ تَعٰلٰی عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ﴿۳﴾

۳۔ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے اور جو شرک یہ لوگ کرتے ہیں اللہ اس سے بالاتر ہے۔


خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ فَاِذَا ہُوَ خَصِیۡمٌ مُّبِیۡنٌ﴿۴﴾

۴۔ اس نے انسان کو ایک بوند سے پیدا کیا پھر وہ یکایک کھلا جھگڑالو بن گیا۔

4۔ باوجودیکہ انسان کو ایک نطفے جیسی حقیر بوند سے پیدا کیا ہے، اس کی سرکشی اور گستاخی کا یہ حال ہے کہ وہ اللہ سے جھگڑنے لگتا ہے، کہاں نطفہ اور کہاں اللہ کا مقابلہ۔ حضرت علی علیہ السلام اس انسان کے بارے میں فرماتے ہیں: اَوَّلُہُ نُطْفَۃٌ وَ آخِرُہُ جِیفَۃٌ (وسائل الشیعۃ 1:334) یہ انسان آغاز میں ایک نطفہ اور انجام میں ایک بدبودار لاش ہے۔


وَ الۡاَنۡعَامَ خَلَقَہَا ۚ لَکُمۡ فِیۡہَا دِفۡءٌ وَّ مَنَافِعُ وَ مِنۡہَا تَاۡکُلُوۡنَ ﴿۪۵﴾

۵۔ اور اس نے مویشیوں کو پیدا کیا جن میں تمہارے لیے گرم پوشاک اور فوائد ہیں اور ان میں سے تم کھاتے بھی ہو۔