Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ قَالُوۡا یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡ نُزِّلَ عَلَیۡہِ الذِّکۡرُ اِنَّکَ لَمَجۡنُوۡنٌ ؕ﴿۶﴾

۶۔ اور (کافر لوگ) کہتے ہیں: اے وہ شخص جس پر ذکر نازل کیا گیا ہے یقینا تو مجنون ہے۔


لَوۡ مَا تَاۡتِیۡنَا بِالۡمَلٰٓئِکَۃِ اِنۡ کُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ﴿۷﴾

۷۔ اگر تو سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو کیوں نہیں لاتا؟


مَا نُنَزِّلُ الۡمَلٰٓئِکَۃَ اِلَّا بِالۡحَقِّ وَ مَا کَانُوۡۤا اِذًا مُّنۡظَرِیۡنَ﴿۸﴾

۸۔ (کہدیجئے) ہم فرشتوں کو صرف (فیصلہ کن) حق کے ساتھ ہی نازل کرتے ہیں اور پھر کافروں کو مہلت نہیں دیتے۔

8۔7 تقریباً اکثر رسولوں سے ان کی امتوں نے یہی مطالبہ کیا کہ وہ اپنے دعوائے نبوت کی تصدیق کے لیے فرشتوں کو حاضر کریں۔ جبکہ فرشتوں کا نزول امتحان کے لیے نہیں، بلکہ نتیجۂ امتحان کے موقع پر ہوتا ہے۔


اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ﴿۹﴾

۹۔ اس ذکر کو یقینا ہم ہی نے اتارا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔

9۔ اس آیت میں پورے تاکیدی لفظوں کے ساتھ متکلم کی تین ضمیریں اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا لا کر فرمایا: اس ذکر کو ہم نے خود نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی محافظت کریں گے۔ چنانچہ آج اس محافظت کو ہم واضح طور پر دیکھ رہے ہیں کہ آسمانی کتابوں میں صرف قرآن مجید لفظ بہ لفظ محفوظ ہے، بلکہ طرز و طریقۂ تحریر تک میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ یہ قرآن مسلمانوں کے ہاتھوں یداً بیدٍ اور نسلاً بعد نسلٍ تواتر کے ساتھ ہم تک پہنچا ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح جنگ احد یا فتح مکہ کا واقعہ تواتر کے ساتھ ہم تک پہنچا ہے۔


وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ فِیۡ شِیَعِ الۡاَوَّلِیۡنَ﴿۱۰﴾

۱۰۔ اور بتحقیق ہم نے آپ سے پہلے بھی گزشتہ قوموں میں رسول بھیجے ہیں۔


وَ مَا یَاۡتِیۡہِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ﴿۱۱﴾

۱۱۔ اور ان کے پاس کوئی رسول ایسا نہیں آیا جس کا انہوں نے استہزا نہ کیا ہو۔


کَذٰلِکَ نَسۡلُکُہٗ فِیۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿ۙ۱۲﴾

۱۲۔ اسی طرح ہم اس ذکر کو مجرموں کے دلوں میں سے گزارتے ہیں،


لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِہٖ وَ قَدۡ خَلَتۡ سُنَّۃُ الۡاَوَّلِیۡنَ﴿۱۳﴾

۱۳۔ کہ وہ اس (رسول) پر ایمان نہیں لائیں گے اور بے شک پہلوں کی روش بھی یہی رہی ہے۔


وَ لَوۡ فَتَحۡنَا عَلَیۡہِمۡ بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ فَظَلُّوۡا فِیۡہِ یَعۡرُجُوۡنَ ﴿ۙ۱۴﴾

۱۴۔ اور اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیں اور وہ روز روشن میں اس پر چڑھتے چلے جائیں۔


لَقَالُوۡۤا اِنَّمَا سُکِّرَتۡ اَبۡصَارُنَا بَلۡ نَحۡنُ قَوۡمٌ مَّسۡحُوۡرُوۡنَ﴿٪۱۵﴾

۱۵۔ تو یہی کہیں گے: ہماری آنکھوں کو یقینا مدہوش کیا گیا بلکہ ہم پر جادو کیا گیا ہے۔

14۔ 15 اگر فرشتوں کو حاضر کرنے سے زیادہ مؤثر یہ قدم اٹھائیں کہ ہم ان کو آسمان کی طرف اٹھا کر لے جائیں اور عجائب آسمانی کا بچشم خود مشاہدہ کرائیں تو بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے اور اسے جادو قرار دیں گے۔ چنانچہ پہلے خلا نورد نے کہا بھی: ایسا لگ رہا تھا کہ ہماری آنکھوں پر جادو کیا گیا ہے۔