Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ حَسۡبُکَ اللّٰہُ وَ مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ﴿٪۶۴﴾

۶۴۔اے نبی ! آپ کے لیے اللہ اور مؤمنین میں سے جس نے آپ کی پیروی کی ہے کافی ہے۔

64۔ اس آیت کا دوسرا ترجمہ یہ ہو سکتا ہے: اے نبی آپ کے لیے اللہ اور آپ کی اتباع کرنے والے مومنین کافی ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ پہلا ترجمہ اسلام کے توحیدی مزاج کے مطابق ہونے کی وجہ سے قابل ترجیح ہے۔ ہمارے نزدیک دوسرا ترجمہ توحید کے منافی نہیں ہے، کیونکہ اس سے پہلے آیت 62 میں فرمایا: ہُوَ الَّذِیۡۤ اَیَّدَکَ بِنَصۡرِہٖ وَ بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ ۔ اس میں اللہ کی نصرت کے ساتھ مومنین کو شامل کیا ہے۔ حافظ ابو نعیم کی روایت ہے کہ یہ آیت حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی۔ (الغدیر2: 51)


یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ عَلَی الۡقِتَالِ ؕ اِنۡ یَّکُنۡ مِّنۡکُمۡ عِشۡرُوۡنَ صٰبِرُوۡنَ یَغۡلِبُوۡا مِائَتَیۡنِ ۚ وَ اِنۡ یَّکُنۡ مِّنۡکُمۡ مِّائَۃٌ یَّغۡلِبُوۡۤا اَلۡفًا مِّنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاَنَّہُمۡ قَوۡمٌ لَّا یَفۡقَہُوۡنَ﴿۶۵﴾

۶۵۔ اے نبی ! مومنوں کو جنگ کی ترغیب دیں، اگر تم میں بیس صابر (جنگجو) ہوں تو وہ دو سو (کافروں) پر غالب آجائیں گے اور اگر تم میں سو افراد ہوں تو وہ ایک ہزار کافروں پر غالب آ جائیں گے کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھتے نہیں ہیں۔


اَلۡـٰٔنَ خَفَّفَ اللّٰہُ عَنۡکُمۡ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیۡکُمۡ ضَعۡفًا ؕ فَاِنۡ یَّکُنۡ مِّنۡکُمۡ مِّائَۃٌ صَابِرَۃٌ یَّغۡلِبُوۡا مِائَتَیۡنِ ۚ وَ اِنۡ یَّکُنۡ مِّنۡکُمۡ اَلۡفٌ یَّغۡلِبُوۡۤا اَلۡفَیۡنِ بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ﴿۶۶﴾

۶۶۔ اب اللہ نے تم لوگوں سے ہلکا کر دیا ہے چونکہ اللہ کو علم ہوا ہے کہ اب تم میں کمزوری آ گئی ہے لہٰذا اب اگر تم میں سو صابر افراد ہوں تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں ایک ہزار ہوں تو دو ہزار پر باذن خدا غالب آئیں گے اور اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔

66۔ فتح و غلبے کے لیے مادی سے زیادہ معنوی طاقت درکار ہوتی ہے۔ معنوی طاقت، بیرونی عضلاتی قوت کے لیے قوت محرکہ ہوتی ہے اور طاقت کا توازن قوت محرکہ کے پاس ہوتا ہے۔ اس لیے سابقہ آیت میں فرمایا: تم میں سو افراد ہوں تو ہزار کافروں پر غالب آؤ گے۔ دوسری آیت میں اس قوت محرکہ کی کمزوری کی بنا پر فرمایا: اب تم میں سو افراد ہوں تو وہ صرف دو سو پر غالب آسکیں گے۔


مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنۡ یَّکُوۡنَ لَہٗۤ اَسۡرٰی حَتّٰی یُثۡخِنَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ تُرِیۡدُوۡنَ عَرَضَ الدُّنۡیَا ٭ۖ وَ اللّٰہُ یُرِیۡدُ الۡاٰخِرَۃَ ؕ وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ﴿۶۷﴾

۶۷۔ یہ کسی نبی کے شایان نہیں ہے کہ زمین میں دشمن کو کچل دینے سے پہلے اس کے پاس قیدی ہوں، تم لوگ دنیاوی مفاد چاہتے ہو جب کہ اللہ (تمہارے لیے) آخرت چاہتا ہے، یقینا اللہ بڑا غالب آنے والا، حکمت والا ہے۔

67۔ اسلامی جنگی حکمت عملی کے مطابق یہ دستور پہلے دیا جا چکا تھا کہ جنگ کے دوران دشمن کی طاقت کو کچلنے پر توجہ مرکوز ہونی چاہیے اور قیدی بنانے کا عمل اس کے بعد شروع ہونا چاہیے۔ لیکن بدر میں اس ترتیب کا لحاظ نہیں رکھا گیا۔ چنانچہ جب دشمن کی فوج بھاگ نکلی تو مسلمانوں کا ایک بڑا گروہ غنیمت لوٹنے اور کفار کے افراد کو قیدی بنانے میں مصروف ہو گیا۔ اگر مسلمانوں کی پوری طاقت دشمن کے تعاقب پر صرف ہوتی تو دشمن کا خاتمہ ہو چکا ہوتا۔ اس لیے اس عمل پر رسول کریم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو خطاب کر کے مسلمانوں کی سرزنش کی جو کہ اللہ تعالیٰ کا اسلوب خطاب ہے۔ چنانچہ حضرت علی علیہ السلام نے ساری توجہ دشمن کے کچلنے پر مرکوز رکھی تو قریش کے ستر مقتولین میں سے ستائیس افراد صرف آپ علیہ السلام نے قتل کیے اور باقی 43 افراد کل مسلمانوں نے۔

اَثْخَنَ کے معنی کچلنے کے ہیں اور قدم جمانے، اقتدار مضبوط کرنے اور قدم روکنے کے بھی ہیں۔ علامہ عاملی اپنی کتاب النص و الاجتھاد میں یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو بدر میں جنگ لڑنے کی جگہ قریش کے تجارتی قافلے کو اسیر بنانا چاہتے تھے۔ ان لوگوں کی سرزنش میں فرمایا: نبی کے لیے سزاوار نہیں کہ دشمن کو کچل کر اپنے قدم جمانے سے پہلے اسیر بنائے۔


لَوۡ لَا کِتٰبٌ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمۡ فِیۡمَاۤ اَخَذۡتُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ﴿۶۸﴾

۶۸۔ اگر اللہ کی طرف سے ایک بات لکھی نہ جا چکی ہوتی تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس کی تمہیں بڑی سزا ہو جاتی۔


فَکُلُوۡا مِمَّا غَنِمۡتُمۡ حَلٰلًا طَیِّبًا ۫ۖ وَّ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ﴿٪۶۹﴾

۶۹۔ بہرحال اب تم نے جو مال حاصل کیا ہے اسے حلال اور پاکیزہ طور پر کھاؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو، یقینا اللہ بڑا بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔

68۔69 ممکن ہے سورہ محمد کی طرف اشارہ ہو جس میں فدیہ لینے کو حلال قرار دیا تھا۔اس طرح اصل فدیہ لینا پہلے سے حلال کیا جا چکا تھا۔ عتاب اس بات پر ہو رہا ہے کہ مسلمانوں نے دشمن کا تعاقب کرنے پر اسیر کرنے کو ترجیح دی۔ اس عمل سے دشمن کا خاتمہ ہونے سے رہ گیا۔ یہ ایسا ہے کہ کوئی شخص نماز کے وقت نماز چھوڑ کر حلال شکار پکڑ لے تو نماز پر شکار پکڑنے کو ترجیح دینا بڑا جرم ہے تاہم شکار حلال ہے۔

قاسمی اپنی تفسیر محاسن التاویل8: 99 میں لکھتے ہیں: قاضی نے کہا ہے کہ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام اجتہاد کرتے ہیں اور کبھی غلطی کر جاتے ہیں، مگر وہ اس غلطی پر قائم نہیں رہتے۔ جواب یہ ہے کہ یہاں عتاب نبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر نہیں بلکہ مسلمانوں پر ہے۔


یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّمَنۡ فِیۡۤ اَیۡدِیۡکُمۡ مِّنَ الۡاَسۡرٰۤی ۙ اِنۡ یَّعۡلَمِ اللّٰہُ فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ خَیۡرًا یُّؤۡتِکُمۡ خَیۡرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنۡکُمۡ وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ﴿۷۰﴾

۷۰۔اے نبی! جو قیدی تمہارے قبضے میں ہیں ان سے کہدیں کہ اگر اللہ کو علم ہوا کہ تمہارے دلوں میں کوئی اچھائی ہے تو جو تم سے (فدیہ میں) لیا گیا ہے وہ تمہیں اس سے بہتر عطا کرے گا اور تمہیں معاف کرے گا اور اللہ بڑا بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔


وَ اِنۡ یُّرِیۡدُوۡا خِیَانَتَکَ فَقَدۡ خَانُوا اللّٰہَ مِنۡ قَبۡلُ فَاَمۡکَنَ مِنۡہُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ﴿۷۱﴾

۷۱۔ اور اگر یہ لوگ آپ سے خیانت کرنا چاہیں تو اس سے پہلے وہ اللہ کے ساتھ خیانت کر چکے ہیں پس اس نے انہیں (آپ کے) قابو میں کر دیا اور اللہ خوب جاننے والا،حکمت والا ہے۔


اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ ہَاجَرُوۡا وَ جٰہَدُوۡا بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ الَّذِیۡنَ اٰوَوۡا وَّ نَصَرُوۡۤا اُولٰٓئِکَ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ؕ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ لَمۡ یُہَاجِرُوۡا مَا لَکُمۡ مِّنۡ وَّلَایَتِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ حَتّٰی یُہَاجِرُوۡا ۚ وَ اِنِ اسۡتَنۡصَرُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ فَعَلَیۡکُمُ النَّصۡرُ اِلَّا عَلٰی قَوۡمٍۭ بَیۡنَکُمۡ وَ بَیۡنَہُمۡ مِّیۡثَاقٌ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ﴿۷۲﴾

۷۲۔ بے شک جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور انہوں نے اپنے اموال سے اور اپنی جانوں سے راہ خدا میں جہاد کیا اور جن لوگوں نے پناہ دی اور مدد کی وہ آپس میں ایک دوسرے کے ولی ہیں اور جو لوگ ایمان تو لائے مگر انہوں نے ہجرت نہیں کی تو ان کی ولایت سے تمہارا کوئی تعلق نہیں ہے جب تک وہ ہجرت نہ کریں، البتہ اگر انہوں نے دینی معاملے میں تم لوگوں سے مدد مانگی تو ان کی مدد کرنا تم پر اس وقت فرض ہے جب یہ مدد کسی ایسی قوم کے خلاف نہ ہو جن کے اور تمہارے درمیان معاہدہ ہے اور اللہ تمہارے اعمال پر خوب نظر رکھتا ہے۔

72۔ مہاجرین و انصار کے درمیان حضور صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مؤاخات کے ذریعہ رشتۂ ولایت قائم کیا، جس کے تحت مہاجرین و انصار کی صلح و جنگ ایک ہو گئی۔ وہ ایک دوسرے کے وارث بھی بن گئے، مگر بعد میں وراثت کا حکم منسوخ ہو گیا۔ البتہ مہاجرین و انصار اور دار الکفر میں موجود مسلمانوں کے درمیان عام ولایت قائم بھی نہیں تھی۔ یعنی اگرچہ فتح مکہ سے پہلے ایمان لے آیا، مگر اس کا ایمان اس کے کردار پر مؤثر نہیں رہا، اس نے ہجرت نہیں کی، اس کی وجہ سے وہ اس امت کے رشتہ ولایت کا ممبر نہ بن سکا۔ مَا لَکُمۡ مِّنۡ وَّلَایَتِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ حَتّٰی یُہَاجِرُوۡا ۔ ہجرت کے بعد ہی وہ اس امت کا حقیقی ممبر بن سکتا ہے۔ ہارون نے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے پوچھا: آپ لوگ وارث رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیسے ہیں۔ چچا کی موجودگی میں چچا کی اولاد وارث نہیں بن سکتی۔ رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے وقت ابو طالب زندہ نہ تھے، عباس زندہ تھے۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کو وارث نہیں بناتے جنہوں نے ہجرت نہیں کی، نہ ان کے لیے ولایت حاصل ہے۔(عباس نے ہجرت نہیں کی) پھر امام نے دلیل میں یہ آیت تلاوت فرمائی۔ نہایت قابل توجہ ہے کہ جب ایمان کے باوجود ہجرت نہ کرنے کی وجہ سے امت مسلمہ کے ساتھ رشتہ ولایت میں کوئی منسلک نہیں ہو سکتا تو فتح مکہ تک ایمان بھی نہ لانے والے کیسے منسلک ہو سکتے ہیں۔ صرف ایک حالت کی استثنا ہے کہ ان کافروں کے مقابلے میں ان کی مدد کی جائے گی جو مسلمانوں سے حالت جنگ میں ہیں۔ اگر کافر مسلمانوں سے حالت جنگ میں نہیں ہیں، ان کے مقابلے میں مسلمانوں کی مدد نہیں کی جائے گی۔


وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ؕ اِلَّا تَفۡعَلُوۡہُ تَکُنۡ فِتۡنَۃٌ فِی الۡاَرۡضِ وَ فَسَادٌ کَبِیۡرٌ ﴿ؕ۷۳﴾

۷۳۔ اور جنہوں نے کفر کیا ہے وہ ایک دوسرے کے مددگار ہیں، اگر تم لوگ اس (دستور) پر عمل نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد برپا ہو گا۔

73۔ اسلامی ریاست کے لیے مومنوں کا آپس میں اس ولایت کو قائم رکھنا ضروری ہے۔ کیونکہ ان کے مقابلے میں کافر لوگ اسلامی ریاست کے خلاف انفرادی طور پر قیام نہیں کرتے بلکہ وہ الکفر ملت واحدہ کے طور پر مسلمانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، لہٰذا اسلامی ریاست کو بھی بطور ایک امت واحدہ ان کا مقابلہ کرنا ہو گا، ورنہ مسلمان ایسے فتنہ و فساد سے دو چار ہوں گے جسے اللہ تعالیٰ نے کبیر فرمایا ہے۔