Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

اِنَّ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا اِذَا مَسَّہُمۡ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیۡطٰنِ تَذَکَّرُوۡا فَاِذَا ہُمۡ مُّبۡصِرُوۡنَ﴿۲۰۱﴾ۚ

۲۰۱۔بے شک جو لوگ اہل تقویٰ ہیں انہیں جب کبھی شیطان کی طرف سے کسی خطرے کا احساس ہوتا ہے تو وہ چوکنے ہو جاتے ہیں اور انہیں اسی وقت سوجھ آجاتی ہے۔


وَ اِخۡوَانُہُمۡ یَمُدُّوۡنَہُمۡ فِی الۡغَیِّ ثُمَّ لَا یُقۡصِرُوۡنَ﴿۲۰۲﴾

۲۰۲۔اور ان کے (شیطانی) بھائی انہیں گمراہی میں کھینچتے لیے جاتے ہیں پھر وہ (انہیں گمراہ کرنے میں) کوتاہی بھی نہیں کرتے ۔


وَ اِذَا لَمۡ تَاۡتِہِمۡ بِاٰیَۃٍ قَالُوۡا لَوۡ لَا اجۡتَبَیۡتَہَا ؕ قُلۡ اِنَّمَاۤ اَتَّبِعُ مَا یُوۡحٰۤی اِلَیَّ مِنۡ رَّبِّیۡ ۚ ہٰذَا بَصَآئِرُ مِنۡ رَّبِّکُمۡ وَ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃٌ لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ﴿۲۰۳﴾

۲۰۳۔ اور جب آپ ان کے سامنے کوئی معجزہ نہیں لاتے تو کہتے ہیں: تم نے خود اپنے لیے کسی نشانی کا انتخاب کیوں نہ کیا؟ کہدیجئے: میں یقینا اس وحی کا پابند ہوں جو میرے رب کی جانب سے میری طرف بھیجی جاتی ہے، یہ (قرآن) تمہارے رب کی طرف سے تمہارے لیے باعث بصیرت اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔

203۔ کفار نے طنز و استہزاء کے لہجے میں کہا کہ اگر آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے نبی کا دعویٰ کرنا تھا تو ادھر ادھر سے کوئی معجزہ بھی گھڑ کر بنا لاتے۔ عرب جاہل حضور صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے بھی اسی طرح کا معجزہ طلب کرتے تھے جو قرون وسطیٰ کے لوگوں کے لیے دکھایا گیا تھا اور جو محدود شریعت کے حامل انبیاء کے لیے دیا گیا تھا۔ اسلام اس وقت آیا جب انسانیت تمدن و تہذیب کے قابل ہو گئی۔ اس کی عقل و شعور بلوغ کو پہنچنے والا تھا اور یہ ایک ابدی دستور اور دائمی نظام حیات ہے۔ اس لیے کل عہد طفولیت کے محسوس پرست لوگوں کے لیے محسوس معجزہ دیا گیا تھا تو آج عہد تمدن و روشنی کے لیے معقول معجزہ دیا گیا ہے، وہ قرآن ہے اس کے اندر بصیرت اور روشنیاں ہیں اور ہدایت و رحمت سے پر ایک جامع نظام حیات ہے۔


وَ اِذَا قُرِیٴَ الۡقُرۡاٰنُ فَاسۡتَمِعُوۡا لَہٗ وَ اَنۡصِتُوۡا لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ﴿۲۰۴﴾

۲۰۴۔ اور جب قرآن پڑھا جائے تو پوری توجہ کے ساتھ اسے سنا کرو اور خاموش رہا کرو ، شاید تم پر رحم کیا جائے ۔

204۔ قرآن کی تلاوت کی آواز سنائی دے رہی ہو تو اس وقت خاموشی کے ساتھ سننا واجب ہے۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے: یجب الانصات للقران فی الصلوۃ و غیرھا ۔ (وسائل الشیعۃ 6: 214)تلاوت قرآن کا سننا واجب ہے، خواہ قرآن نماز کی حالت میں ہو یا اس کے علاوہ۔


وَ اذۡکُرۡ رَّبَّکَ فِیۡ نَفۡسِکَ تَضَرُّعًا وَّ خِیۡفَۃً وَّ دُوۡنَ الۡجَہۡرِ مِنَ الۡقَوۡلِ بِالۡغُدُوِّ وَ الۡاٰصَالِ وَ لَا تَکُنۡ مِّنَ الۡغٰفِلِیۡنَ﴿۲۰۵﴾

۲۰۵۔(اے رسول) اپنے رب کو تضرع اور خوف کے ساتھ دل ہی دل میں اور دھیمی آواز میں صبح و شام یاد کیا کریں اور غافل لوگوں میں سے نہ ہوں۔

205۔ ذکر کی دو قسمیں بیان ہوئی ہیں: ایک ذکر قلبی، تضرع و تذلل کے ساتھ اور دوسرا ذکر لسانی ہلکی آواز کے ساتھ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: اللہ تمہارے نہایت ہی قریب ہے اس کو آہستہ آواز میں پکارو۔


اِنَّ الَّذِیۡنَ عِنۡدَ رَبِّکَ لَا یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ عَنۡ عِبَادَتِہٖ وَ یُسَبِّحُوۡنَہٗ وَ لَہٗ یَسۡجُدُوۡنَ﴿۲۰۶﴾٪ٛ۩

۲۰۶۔ جو لوگ آپ کے رب کے حضور میں ہوتے ہیں وہ یقینا اس کی عبادت کرنے سے نہیں اکڑتے اور اس کی تسبیح کرتے ہیں اور اس کے آگے سجدہ ریز رہتے ہیں۔


بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

بنام خدائے رحمن رحیم


یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡاَنۡفَالِ ؕ قُلِ الۡاَنۡفَالُ لِلّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَصۡلِحُوۡا ذَاتَ بَیۡنِکُمۡ ۪ وَ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ﴿۱﴾

۱۔(اے رسول) لوگ آپ سے انفال کے متعلق پوچھتے ہیں، کہدیجئے:یہ انفال اللہ اور رسول کے ہیں، پس تم لوگ اللہ کا خوف کرو اور باہمی تعلقات مصالحانہ رکھو اور اگر تم مومن ہو تو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔

1۔ الانفال جمع ہے نفل کی۔ اس کے معنی زائد کے ہیں۔ جو واجب کے علاوہ ہو اسے نفل کہا جاتا ہے۔ جنگی غنیمت کو انفال اس لیے کہا جاتا ہے کہ مسلمان راہ خدا میں لڑتے ہیں اور غنیمت ایک اضافی انعام ہے۔

اگرچہ انفال کا حکم جنگ بدر کی غنیمت کے بارے میں آیا، تاہم یہ حکم ہر قسم کے انفال یعنی اموال زائد کو شامل ہے۔ مثلاً متروک آبادیاں، پہاڑوں کی چوٹیاں، جنگل، غیرآباد زمینیں اور لاوارث املاک وغیرہ، جو کسی کی ملکیت نہ ہوں۔ اسی طرح وہ اموال جو بغیر جنگ کے مسلمانوں کے قبضے میں آئے ہوں، جنہیں فئی کہتے ہیں۔ یہ سب اللہ اور رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ملکیت ہیں۔


اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ وَ اِذَا تُلِیَتۡ عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتُہٗ زَادَتۡہُمۡ اِیۡمَانًا وَّ عَلٰی رَبِّہِمۡ یَتَوَکَّلُوۡنَ ۚ﴿ۖ۲﴾

۲۔ مومن تو صرف وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل کانپ جاتے ہیں اور جب انہیں اس کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔

2۔ غنیمت پر قابض لوگوں سے واپس لینے کے بارے میں شکایت کے سدباب کے طور پر مومن کی تعریف بیان فرمائی کہ اگر تم مومن ہو تو: ٭ تقویٰ اختیار کرو۔ ٭ آپس میں صلح و آشتی قائم رکھو۔ ٭ اللہ اور اس کے رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اطاعت کرو۔

سچے مومن وہی ہیں جو: ٭ ذکر خدا کے موقع پر کانپ جاتے ہیں۔ ٭کلام اللہ کی تلاوت سے ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ٭اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ٭نماز قائم کرتے ہیں۔ ٭راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں۔


الَّذِیۡنَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ؕ﴿۳﴾

۳۔جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو رزق ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔

4۔انسان مذکورہ اوصاف کا مالک ہو تو سچے مومن کی منزل پر فائز ہوتا ہے اور قرب الہٰی کے اعلیٰ درجات پر فائز ہو جاتا ہے۔ایمان کے مذکورہ اوصاف سے متصف ہونے کے بعد انسان گناہوں سے مبرا نہیں ہوتا لیکن اللہ سچے مومن کے گناہوں سے درگزر فرماتا ہے اور اس کی لغزشوں سے چشم پوشی فرماتا ہے اور اس کے نیک اعمال کا اجر و ثواب دیتا ہے۔