Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃِ الۡقَدۡرِ ۚ﴿ۖ۱﴾

۱۔ ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ۔

1۔ یہ وہ شب ہے جس میں قرآن ایک مرتبہ دفعتاً قلب رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر نازل ہوا ہے اور شَہۡرُ رَمَضَانَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ فِیۡہِ الۡقُرۡاٰنُ (بقرہ: 185) سے معلوم ہوا کہ قدر کی رات رمضان کے مہینے میں ہے۔

اس رات کو قدر اس لیے کہا گیا ہے کہ اس رات میں تقدیر سازی اور امر الٰہی کی تقسیم ہوتی ہے۔ امامیہ و غیر امامیہ مصادر میں آیا ہے کہ رسول کریم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خواب میں بنی امیہ کو اپنے منبر پر چڑھتے ہوئے دیکھا تو یہ سورت نازل ہوئی (الدر المنثور)، جس میں فرمایا: یہ رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ چنانچہ بنی امیہ کی حکومت ہزار ماہ تک رہی۔


وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا لَیۡلَۃُ الۡقَدۡرِ ؕ﴿۲﴾

۲۔ اور آپ کو کس چیز نے بتایا شب قدر کیا ہے؟


لَیۡلَۃُ الۡقَدۡرِ ۬ۙ خَیۡرٌ مِّنۡ اَلۡفِ شَہۡرٍ ؕ﴿ؔ۳﴾

۳۔ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔

3۔ ایک رات کو تراسی (83) سال سے بہتر قرار دینا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک احسان ہے اور تراسی (83) سال ایک عمر ہے۔ ہر سال انسان کو عبادت کے لیے ایک رات میں ایک عمر میسر آتی ہے۔


تَنَزَّلُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ وَ الرُّوۡحُ فِیۡہَا بِاِذۡنِ رَبِّہِمۡ ۚ مِنۡ کُلِّ اَمۡرٍ ۙ﴿ۛ۴﴾

۴۔ فرشتے اور روح اس شب میں اپنے رب کے اذن سے تمام (تعیین شدہ) حکم لے کر نازل ہوتے ہیں۔

4۔ فرشتے اور روح الامین زمین پراللہ کے احکام اور مقدرات کے فیصلے لے کر آتے ہیں۔ الکافی میں حضرت امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: 19 رمضان کی شب کو تقدیر بنتی ہے، 21 کی شب کو حتمی فیصلہ ہوتا ہے اور 23 کی شب کو نافذ العمل ہوتا ہے۔ الدر المنثور 6 : 632، 636، 637 میں متعدد روایات ہیں کہ شب قدر 23 کی رات ہے۔ اسی کتاب کی ایک روایت میں آیا ہے کہ 21 رمضان کی صبح کو حضور صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پیشانی اور ناک مبارک پر مٹی کے اثرات دیکھے گئے۔ اس سے یہ بھی ضمناً معلوم ہوا کہ سجدہ مٹی پر ہوتا ہے۔


سَلٰمٌ ۟ۛ ہِیَ حَتّٰی مَطۡلَعِ الۡفَجۡرِ ٪﴿۵﴾

۵۔ یہ رات طلوع فجر تک سلامتی ہی سلامتی ہے۔


بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

بنام خدائے رحمن رحیم


لَمۡ یَکُنِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ وَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ مُنۡفَکِّیۡنَ حَتّٰی تَاۡتِیَہُمُ الۡبَیِّنَۃُ ۙ﴿۱﴾

۱۔ اہل کتاب اور مشرکین میں سے جو لوگ کافر تھے وہ باز آنے والے نہ تھے جب تک ان کے پاس واضح دلیل نہ آئے۔

مُنۡفَکِّیۡنَ کا ایک ترجمہ یہ ہو سکتا ہے: متروک ہونے والے۔ اس صورت میں آیت کا مفہوم واضح ہو جاتا ہے: اہل کتاب اور مشرکین کو اپنے حال پر چھوڑنے والے نہیں ہیں، جب تک ایک حجت و بیّنہ (ایک رسول کی شکل میں) ان کے پاس نہ آ جائے۔


رَسُوۡلٌ مِّنَ اللّٰہِ یَتۡلُوۡا صُحُفًا مُّطَہَّرَۃً ۙ﴿۲﴾

۲۔ (یعنی) اللہ کی طرف سے ایک رسول جو انہیں پاک صحیفے پڑھ کر سنائے۔


فِیۡہَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ ؕ﴿۳﴾

۳۔ ان صحیفوں میں مستحکم تحریریں درج ہیں۔


وَ مَا تَفَرَّقَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡہُمُ الۡبَیِّنَۃُ ؕ﴿۴﴾

۴۔ اور جنہیں کتاب دی گئی تھی وہ واضح دلیل آنے کے بعد متفرق ہو گئے۔