Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ لَمۡ نَکُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡکِیۡنَ ﴿ۙ۴۴﴾

۴۴۔ اور ہم مسکین کو کھلاتے نہیں تھے،


وَ کُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآئِضِیۡنَ ﴿ۙ۴۵﴾

۴۵۔ اور ہم بیہودہ بکنے والوں کے ساتھ بیہودہ گوئی کرتے تھے،


وَ کُنَّا نُکَذِّبُ بِیَوۡمِ الدِّیۡنِ ﴿ۙ۴۶﴾

۴۶۔اور ہم روز جزا کو جھٹلاتے تھے۔


حَتّٰۤی اَتٰىنَا الۡیَقِیۡنُ ﴿ؕ۴۷﴾

۴۷۔ یہاں تک کہ ہمیں موت آ گئی۔


فَمَا تَنۡفَعُہُمۡ شَفَاعَۃُ الشّٰفِعِیۡنَ ﴿ؕ۴۸﴾

۴۸۔ اب سفارش کرنے والوں کی سفارش انہیں کچھ فائدہ نہ دے گی ۔

48۔ شَفَاعَۃُ الشّٰفِعِیۡنَ : انہیں شفاعت کرنے والوں کی شفاعت فائدہ نہیں دے گی۔ اس سے معلوم ہوا قیامت کے روز شافعین بہت سے شفاعت کرنے والے ہوں گے۔


فَمَا لَہُمۡ عَنِ التَّذۡکِرَۃِ مُعۡرِضِیۡنَ ﴿ۙ۴۹﴾

۴۹۔ انہیں کیا ہو گیا ہے کہ نصیحت سے منہ موڑ رہے ہیں؟


کَاَنَّہُمۡ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَۃٌ ﴿ۙ۵۰﴾

۵۰۔ گویا وہ بدکے ہوئے گدھے ہیں،


فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَۃٍ ﴿ؕ۵۱﴾

۵۱۔ جو شیر سے (ڈر کر) بھاگے ہوں۔

44 تا 51۔ الخوض : بیہودہ گوئی۔ باطل گفتگو میں مگن رہنا۔ یعنی دین اسلام کے خلاف گفتگو کرنا ان کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔

جہنم رسید ہونے کے اسباب میں سے ایک سبب ترک نماز اور دوسرا اہم سبب بھوکوں کا خیال نہ رکھنا ہے۔ ترک نماز کی وجہ سے خالق سے دور اور ترک اطعام کی وجہ سے مخلوق سے دور ہونے کی وجہ سے وہ جہنم کے نزدیک ہو گئے۔ وہ روز جزا کی تکذیب کرتے تھے۔جب یہ روز آگیا تو یقین کی منزل بھی آگئی۔ لیکن آج کا یقین انہیں کوئی فائدہ نہ دے گا۔ جس وقت ان کو یقین فائدہ دے سکتا تھا، اس وقت وہ نصیحتوں سے ایسے بھاگتے تھے، جس طرح شیر کو دیکھ کر جنگلی گدھے بھاگتے ہیں۔


بَلۡ یُرِیۡدُ کُلُّ امۡرِیًٴ مِّنۡہُمۡ اَنۡ یُّؤۡتٰی صُحُفًا مُّنَشَّرَۃً ﴿ۙ۵۲﴾

۵۲۔ بلکہ ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ (اس کے پاس) کھلی ہوئی کتابیں آ جائیں۔

52۔ ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس پر قرآن کی طرح کی کوئی کتاب نازل ہو جائے۔ یعنی وہ اس قدر منکر ہیں کہ اپنے آپ کو اس مقام کے لیے مناسب سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف کہتے ہیں بشر کیسے رسول ہو سکتا ہے۔


کَلَّا ؕ بَلۡ لَّا یَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَۃَ ﴿ؕ۵۳﴾

۵۳۔ ہرگز نہیں! بلکہ انہیں آخرت کا خوف ہی نہیں ہے۔