Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

اِنَّا سَنُلۡقِیۡ عَلَیۡکَ قَوۡلًا ثَقِیۡلًا﴿۵﴾

۵۔ عنقریب آپ پر ہم ایک بھاری حکم (کا بوجھ) ڈالنے والے ہیں۔

5۔ رات کو اٹھ کر عبادت و تلاوت کے ذریعے عظیم ملکوتی طاقت سے گہرا ربط قائم کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آرہی ہے کہ آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کاندھوں پر ایک سنگین ذمہ داری ڈالی جا رہی ہے۔


اِنَّ نَاشِئَۃَ الَّیۡلِ ہِیَ اَشَدُّ وَطۡاً وَّ اَقۡوَمُ قِیۡلًا ؕ﴿۶﴾

۶۔ رات کا اٹھنا ثبات قدم کے اعتبار سے زیادہ محکم اور سنجیدہ کلام کے اعتبار سے زیادہ موزوں ہے۔

6۔ ایک عظیم ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کے لیے رات کی تاریکی اور پرسکون لمحات زیادہ مناسب ہیں جن میں دنیا والوں کے شور و غل سے فارغ یکسو سناٹا میسر آتا ہے اور اپنے خالق سے بہتر اور بیشتر طاقت حاصل کی جا سکتی ہے۔ رات کو روح میں صفائی، عقل کو فراغت، ذہن کو سکون اور ضمیر و وجدان کو مطلوبہ فضا میسر آتی ہے۔


اِنَّ لَکَ فِی النَّہَارِ سَبۡحًا طَوِیۡلًا ؕ﴿۷﴾

۷۔ دن میں تو آپ کے لیے بہت سی مصروفیات ہیں۔


وَ اذۡکُرِ اسۡمَ رَبِّکَ وَ تَبَتَّلۡ اِلَیۡہِ تَبۡتِیۡلًا ؕ﴿۸﴾

۸۔ اور اپنے رب کے نام کا ذکر کیجیے اور سب سے بے نیاز ہو کر صرف اسی کی طرف متوجہ ہو جائیے۔


رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ فَاتَّخِذۡہُ وَکِیۡلًا﴿۹﴾

۹۔ وہ مشرق اور مغرب کا رب ہے، اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں لہٰذا اسی کو اپنا ضامن بنا لیجیے۔


وَ اصۡبِرۡ عَلٰی مَا یَقُوۡلُوۡنَ وَ اہۡجُرۡہُمۡ ہَجۡرًا جَمِیۡلًا﴿۱۰﴾

۱۰۔ اور جو کچھ یہ لوگ کہ رہے ہیں اس پر صبر کیجیے اور شائستہ انداز میں ان سے دوری اختیار کیجیے۔

10۔ ابتدائے بعثت میں ہر طرف سے توہین آمیز جملے سننے کو ملتے تھے۔ اس پر صبر کرنے اور پر وقار انداز میں ان سے دور رہنے کاحکم ملتا ہے۔ یعنی جاہلیت سے دوری اختیار کرنے میں جمالیاتی کردار ادا ہونا چاہیے کہ جس کے ساتھ انتقام جوئی نہ ہو اور دعوت الی الحق جاری رہے۔


وَ ذَرۡنِیۡ وَ الۡمُکَذِّبِیۡنَ اُولِی النَّعۡمَۃِ وَ مَہِّلۡہُمۡ قَلِیۡلًا﴿۱۱﴾

۱۱۔ ان جھٹلانے والوں اور نعمتوں پر ناز کرنے والوں کو مجھ پر چھوڑ دیجئے اور انہیں تھوڑی مہلت دے دیجئے۔

11۔ ان مُکَذِّبِیۡنَ کو مجھ پر چھوڑ دیجیے۔ اس میں رسول کریم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لیے خوشخبری اور مشرکین کے انجام بد کی پیشگوئی ہے اور ساتھ یہ حکم مل رہا ہے کہ انہیں تھوڑی مہلت دیجیے۔ یعنی رسول کریم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو حکم مل رہا ہے آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مہلت دیں۔ یہ نہیں فرمایا کہ اللہ مہلت دے گا۔ اس میں ایک تقویت اور تسلی ہے کہ آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم غالب آنے والے ہیں۔ مہلت دینا آپ کے ہاتھ میں ہے۔


اِنَّ لَدَیۡنَاۤ اَنۡکَالًا وَّ جَحِیۡمًا ﴿ۙ۱۲﴾

۱۲۔ یقینا ہمارے پاس (ان کے لیے) بیڑیاں ہیں اور سلگتی آگ ہے۔


وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّۃٍ وَّ عَذَابًا اَلِیۡمًا﴿٭۱۳﴾

۱۳۔اور حلق میں پھنسنے والا کھانا ہے اور دردناک عذاب ہے۔


یَوۡمَ تَرۡجُفُ الۡاَرۡضُ وَ الۡجِبَالُ وَ کَانَتِ الۡجِبَالُ کَثِیۡبًا مَّہِیۡلًا﴿۱۴﴾

۱۴۔ جس دن زمین اور پہاڑ کانپنے لگیں گے اور پہاڑ بہتی ریت کی مانند ہو جائیں گے۔