Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ السَّمَآءَ رَفَعَہَا وَ وَضَعَ الۡمِیۡزَانَ ۙ﴿۷﴾

۷۔ اور اسی نے اس آسمان کو بلند کیا اور ترازو قائم کی۔


اَلَّا تَطۡغَوۡا فِی الۡمِیۡزَانِ﴿۸﴾

۸۔ تاکہ تم ترازو (کے ساتھ تولنے) میں تجاوز نہ کرو۔


وَ اَقِیۡمُوا الۡوَزۡنَ بِالۡقِسۡطِ وَ لَا تُخۡسِرُوا الۡمِیۡزَانَ﴿۹﴾

۹۔ اور انصاف کے ساتھ وزن کو درست رکھو اور تول میں کمی نہ کرو۔

9۔ یہ پوری کائنات اعتدال اور توازن پر قائم ہے۔ اگر اس اعتدال سے سرمو بھی انحراف ہو جائے تو یہ اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتی۔ یہ ہے تکوینی میزان۔ اس کے ساتھ ایک تشریعی میزان بھی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اس میزان میں انحراف نہ کرے ورنہ عدل اجتماعی اور انصاف ناپید ہو جائے گا اور دنیا ظلم وجور سے بھر جائے گی۔


وَ الۡاَرۡضَ وَضَعَہَا لِلۡاَنَامِ ﴿ۙ۱۰﴾

۱۰۔ اور اسی نے مخلوقات کے لیے اس زمین کو بنایا ہے ۔

10۔ زمین اور زمین پر موجود تمام نعمتیں انسان کے لیے ہیں اور پھلوں اور دانوں کی سینکڑوں قسمیں فراہم فرما کر یہ ظاہر فرمایا کہ اللہ کا مقصد صرف انسان کو زندہ رکھنا نہیں ہے، اس کے لیے تو صرف ایک قسم کا غلہ کافی ہے، بلکہ اس انسان کو نعمتوں سے مالا مال کرنا بھی مقصود ہے۔


فِیۡہَا فَاکِہَۃٌ ۪ۙ وَّ النَّخۡلُ ذَاتُ الۡاَکۡمَامِ ﴿ۖ۱۱﴾

۱۱۔ اس میں میوے اور خوشے والے کھجور کے درخت ہیں۔


وَ الۡحَبُّ ذُو الۡعَصۡفِ وَ الرَّیۡحَانُ ﴿ۚ۱۲﴾

۱۲۔ اور بھوسے والا اناج خوشبو والے پھول ہیں۔


فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ﴿۱۳﴾

۱۳۔ پس (اے جن و انس !) تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

13۔ ان نعمتوں میں سے کسی نعمت کو بھی تم نہیں جھٹلا سکتے۔

اٰلَآءِ نعمتوں کے معنی میں ہے اور ایک ترکیب میں استعمال ہوتا ہے، خواہ اسے تکرار کیا جائے یا نہ کیا جائے۔ اگر مختلف تراکیب میں اٰلَآءِ کا لفظ مختلف معانی کا فائدہ دیتا ہے تو ان آیات کو ان پر قیاس کرنا درست نہیں ہے۔


خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ صَلۡصَالٍ کَالۡفَخَّارِ ﴿ۙ۱۴﴾

۱۴۔ اس نے انسان کو ٹھیکری کی طرح کے خشک گارے سے بنایا۔


وَ خَلَقَ الۡجَآنَّ مِنۡ مَّارِجٍ مِّنۡ نَّارٍ ﴿ۚ۱۵﴾

۱۵۔ اور جنات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا۔


فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ﴿۱۶﴾

۱۶۔ پس تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

16۔ کہ اس کائنات میں تم کو بہترین پیرائے میں خلق کیا ہے۔