Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

کَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ بِالنُّذُرِ﴿۲۳﴾

۲۳۔ ثمود نے بھی تنبیہ کرنے والوں کی تکذیب کی،

23۔ نُذُرِ مصدر ہے انذار کے معنوں میں اور نَذِیۡرٌ کی جمع بھی نُذُرِ ہے۔ قرآئن سے ہی معلوم ہو سکتا ہے کہ نذر مصدر ہے یا نذیر کی جمع ہے۔


فَقَالُوۡۤا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُہٗۤ ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّفِیۡ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ﴿۲۴﴾

۲۴۔ اور کہنے لگے: کیا ہم اپنوں میں سے ایک بشر کی پیروی کریں؟ تب تو ہم گمراہی اور دیوانگی میں ہوں گے ۔

24۔ مشرکین نے ہمیشہ یہ اعتراض اٹھایا کہ بشراللہ کا نمآئندہ نہیں ہو سکتا۔ اس آیت میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ وہ ایک انسان کی پیروی کو کم عقلی سمجھتے تھے۔ سُعُرٍ کے معنی دیوانگی کے ہیں۔


ءَاُلۡقِیَ الذِّکۡرُ عَلَیۡہِ مِنۡۢ بَیۡنِنَا بَلۡ ہُوَ کَذَّابٌ اَشِرٌ﴿۲۵﴾

۲۵۔ کیا ہمارے درمیان یہی ایک رہ گیا تھا جس پر یہ ذکر نازل کیا گیا؟ (نہیں) بلکہ یہ بڑا جھوٹا خودپسند ہے۔


سَیَعۡلَمُوۡنَ غَدًا مَّنِ الۡکَذَّابُ الۡاَشِرُ﴿۲۶﴾

۲۶۔ عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا کہ بڑا جھوٹا خود پسند کون ہے۔


اِنَّا مُرۡسِلُوا النَّاقَۃِ فِتۡنَۃً لَّہُمۡ فَارۡتَقِبۡہُمۡ وَ اصۡطَبِرۡ ﴿۫۲۷﴾

۲۷۔ بے شک ہم اونٹنی کو ان کے لیے آزمائش بنا کر بھیجنے والے ہیں، پس ان کا انتظار کیجیے اور صبر کیجیے۔

27۔ وہ فتنہ اور آزمائش یہ تھی کہ قوم سے کہ دیا گیا کہ ایک دن یہ ناقہ پانی پیئے گی اور ایک دن تم اپنے اور اپنے جانوروں کے لیے پانی لو گے۔


وَ نَبِّئۡہُمۡ اَنَّ الۡمَآءَ قِسۡمَۃٌۢ بَیۡنَہُمۡ ۚ کُلُّ شِرۡبٍ مُّحۡتَضَرٌ﴿۲۸﴾

۲۸۔ اور انہیں بتا دو کہ پانی ان کے درمیان تقسیم ہو گا اور ہر ایک اپنی باری پر حاضر ہو گا۔


فَنَادَوۡا صَاحِبَہُمۡ فَتَعَاطٰی فَعَقَرَ﴿۲۹﴾

۲۹۔ پھر انہوں نے اپنے ساتھی کو بلایا اور اسے (ہتھیار) تھمایا پس اس نے (اونٹنی کی) کونچیں کاٹ دیں۔

29۔ چنانچہ اس اونٹنی کا خاتمہ کرنے کے لیے اپنی قوم کے ایک فرد کو بلایا اور اس نے اسے مار ڈالا۔

فَتَعَاطٰی : کے ایک معنی التناول تھامنے کے ہیں۔ والجرأۃ علی الشیء کسی امر پر جسارت کرنے کے کو بھی کہتے ہیں۔ ظلم و زیادتی کے معنوں میں بھی آتا ہے: فَنَادَوۡا صَاحِبَہُمۡ ، انہوں نے اپنے ساتھی کو بلایا قرینہ ہے اس بات پر کہ اس نے تلوار تھام لی۔


فَکَیۡفَ کَانَ عَذَابِیۡ وَ نُذُرِ﴿۳۰﴾

۳۰۔ پس بتاؤ میرا عذاب اور میری تنبیہیں کیسی تھیں؟


اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمۡ صَیۡحَۃً وَّاحِدَۃً فَکَانُوۡا کَہَشِیۡمِ الۡمُحۡتَظِرِ﴿۳۱﴾

۳۱۔ ہم نے ان پر ایک زور دار چنگھاڑ چھوڑ دی تو وہ سب باڑ والے کے بھوسے کی طرح ہو گئے۔

31۔ ہَشِیۡمِ : خشک گھاس یا درخت کے خشک تنے جو ٹوٹ کر ریزہ ہو جاتے ہیں۔

الۡمُحۡتَظِرِ حظیرۃ کا مالک۔ حظیرۃ اس باڑ کو کہتے ہیں جس میں جانوروں کو سردیوں میں محفوظ رکھا جاتا ہے اور خشک گھاس کھلائی جاتی ہے۔


وَ لَقَدۡ یَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّکۡرِ فَہَلۡ مِنۡ مُّدَّکِرٍ ﴿۳۲﴾

۳۲۔ اور بتحقیق ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان بنا دیا ہے تو کیا کوئی نصیحت قبول کرنے والا ہے؟