Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

ذٰلِکُمۡ بِاَنَّکُمُ اتَّخَذۡتُمۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ ہُزُوًا وَّ غَرَّتۡکُمُ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا ۚ فَالۡیَوۡمَ لَا یُخۡرَجُوۡنَ مِنۡہَا وَ لَا ہُمۡ یُسۡتَعۡتَبُوۡنَ﴿۳۵﴾

۳۵۔ یہ (سزا) اس لیے ہے کہ تم نے اللہ کی آیات کو مذاق بنایا تھا اور دنیاوی زندگی نے تمہیں دھوکے میں ڈال رکھا تھا، پس آج کے دن نہ تو یہ اس (جہنم) سے نکالے جائیں گے اور نہ ان کی معذرت قبول کی جائے گی۔

35۔ جہنم ان کا ٹھکانا اس لیے بنا کہ وہ آیات الہٰی کا مذاق اڑاتے تھے۔ دنیا کی زندگی کو سب کچھ سمجھتے تھے۔ آج وہ آتش جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان کا عذر قبول نہ ہو گا۔

یُسۡتَعۡتَبُوۡنَ ، الاستعتاب عذر طلبی کو کہتے ہیں۔


فَلِلّٰہِ الۡحَمۡدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الۡاَرۡضِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ﴿۳۶﴾

۳۶۔ پس ثنائے کامل اس اللہ کے لیے ہے جو آسمانوں کا رب اور زمین کا رب ہے، عالمین کا رب ہے۔

36۔ اس آیت میں مشرکین کی رد ہے کہ آسمانوں کا رب اور زمین کا رب اور نہیں ہے، بلکہ وہی اللہ آسمانوں اور زمین، پھر عالمین کا رب ہے۔


وَ لَہُ الۡکِبۡرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۪ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ﴿٪۳۷﴾

۳۷۔ اور آسمانوں اور زمین میں بڑائی اسی کے لیے ہے اور وہی بڑا غالب آنے والا، حکمت والا ہے۔

37۔ الۡکِبۡرِیَآءُ : راغب کے مطابق الترفع عن الانقیاد ، کسی کی فرمانبرداری سے بالاتر ہونا ہے۔ اس کی کبریائی اور عظمت کے ساتھ نہ آسمانوں میں کوئی شریک ہے، نہ زمین میں۔ یہ کبریائی صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختص ہے۔


بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

بنام خدائے رحمن رحیم


حٰمٓ ۚ﴿۱﴾

۱۔ حا، میم۔


تَنۡزِیۡلُ الۡکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَکِیۡمِ﴿۲﴾

۲۔ اس کتاب کا نزول بڑے غالب آنے والے، حکمت والے اللہ کی طرف سے ہے۔


مَا خَلَقۡنَا السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ مَا بَیۡنَہُمَاۤ اِلَّا بِالۡحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا عَمَّاۤ اُنۡذِرُوۡا مُعۡرِضُوۡنَ﴿۳﴾

۳۔ ہم نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے کو برحق اور ایک معینہ مدت کے لیے پیدا کیا ہے اور جو لوگ کافر ہو گئے ہیں وہ اس چیز سے منہ موڑے ہوئے ہیں جس کی انہیں تنبیہ کی گئی تھی۔

3۔ یہ کائنات ایک مقصد کے تحت اور ایک خاص مدت تک کے لیے بنی ہے۔ یعنی جس دن اس کائنات کا خاتمہ ہو جائے گا وہ قیامت کا دن ہو گا۔


قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ مَّا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَرُوۡنِیۡ مَاذَا خَلَقُوۡا مِنَ الۡاَرۡضِ اَمۡ لَہُمۡ شِرۡکٌ فِی السَّمٰوٰتِ ؕ اِیۡتُوۡنِیۡ بِکِتٰبٍ مِّنۡ قَبۡلِ ہٰذَاۤ اَوۡ اَثٰرَۃٍ مِّنۡ عِلۡمٍ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ﴿۴﴾

۴۔ کہدیجئے: مجھے بتاؤ جنہیں اللہ کے سوا تم پکارتے ہو، مجھے بھی دکھاؤ انہوں نے زمین کی کون سی چیز پیدا کی ہے یا آسمانوں میں ان کی شرکت ہے؟ اگر تم سچے ہو تو اس سے پہلے کی کوئی کتاب یا کوئی باقی ماندہ علمی (ثبوت) میرے سامنے پیش کرو۔

4۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ کائنات کو خلق کرنے (تخلیق) اور چلانے (تدبیر) کے دو الگ الگ سرچشمے نہیں ہو سکتے کہ ایک ہستی خلق کرے اور دوسری ہستی تدبیر کرے۔ قرآن نے اس بات کو تکراراً بیان کیا ہے کہ جس نے کائنات کو خلق کیا ہے وہی اس کی تدبیر کر سکتا ہے (چلا سکتا ہے)۔ مشرکین جن ہستیوں اور بتوں کی طرف تدبیر کائنات کی نسبت دیتے تھے، ان سے یہ کہا جا رہا ہے کہ پھر ان کی طرف سے کچھ خلق بھی ہونا چاہیے۔ اگر ایسا ہے تو مجھے دکھاؤ کہ زمین میں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے یا آسمان کی تخلیق میں ان کا کیا حصہ ہے۔ انبیائے سابقین کی کسی کتاب یا ان کی تعلیمات سے اس کا ثبوت پیش کرو، اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔


وَ مَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ یَّدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَنۡ لَّا یَسۡتَجِیۡبُ لَہٗۤ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ وَ ہُمۡ عَنۡ دُعَآئِہِمۡ غٰفِلُوۡنَ﴿۵﴾

۵۔ اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہو گا جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہ دے سکیں بلکہ جو ان کے پکارنے تک سے بے خبر ہوں؟

5۔ جن کو یہ پکارتے ہیں، وہ ان کی فریاد کو پہنچنا تو درکنار سرے سے ان کی فریاد سے ہی بے خبر ہوتے ہیں۔


وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ کَانُوۡا لَہُمۡ اَعۡدَآءً وَّ کَانُوۡا بِعِبَادَتِہِمۡ کٰفِرِیۡنَ﴿۶﴾

۶۔ اور جب لوگ جمع کیے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی پرستش سے انکار کریں گے۔

6۔ یعنی قیامت کے دن مشرکین کے معبود اپنے پکارنے والوں کے دشمن ہوں گے، یعنی جن انبیا اور فرشتوں کو مشرکین نے اپنا معبود بنا لیا تھا، وہ قیامت کے دن ان مشرکین کے دشمن ہوں گے۔ یعنی ان کے خلاف ہوں گے اور ان کی عبادت کا بھی انکار کریں گے، یعنی یہ مؤقف بیان کریں گے کہ ان کی پرستش میں ہمارا کوئی دخل نہیں ہے، یہ خود ذمے دار ہیں۔