Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡہُمۡ فَانۡظُرۡ کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُکَذِّبِیۡنَ﴿٪۲۵﴾

۲۵۔ چنانچہ ہم نے ان سے انتقام لیا اور دیکھ لو تکذیب کرنے والوں کا کیا انجام ہوا۔


وَ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہِیۡمُ لِاَبِیۡہِ وَ قَوۡمِہٖۤ اِنَّنِیۡ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعۡبُدُوۡنَ ﴿ۙ۲۶﴾

۲۶۔ اور جب ابراہیم نے اپنے باپ (چچا) اور اپنی قوم سے کہا: جنہیں تم پوجتے ہو ان سے میں یقینا بیزار ہوں۔


اِلَّا الَّذِیۡ فَطَرَنِیۡ فَاِنَّہٗ سَیَہۡدِیۡنِ﴿۲۷﴾

۲۷۔ سوائے اپنے رب کے جس نے مجھے پیدا کیا، یقینا وہی مجھے سیدھا راستہ دکھائے گا۔


وَ جَعَلَہَا کَلِمَۃًۢ بَاقِیَۃً فِیۡ عَقِبِہٖ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ﴿۲۸﴾

۲۸۔ اور اللہ نے اس (توحید پرستی) کو ابراہیم کی نسل میں کلمہ باقیہ قرارد یا تاکہ وہ (اللہ کی طرف) رجوع کریں۔

28۔ وَ جَعَلَہَا میں ضمیر بَرَآءَۃٌ کی طرف جاتی ہے، جو اِنَّنِیۡ بَرَآءٌ میں مذکور ہے۔ یعنی برائت از مشرکین کی تحریک جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے شروع فرمائی ہے، اسے اللہ تعالیٰ نے اولاد ابراہیم میں کلمہ باقیہ قرار دے کر اولاد ابراہیم کے ذریعے ابدیت بخشی ہے۔ چنانچہ جب برائت از مشرکین کی یہ تحریک فرزند ابراہیم علیہ السلام حضرت خاتم الانبیاء صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دست مبارک سے ایک ابدی مرحلے میں داخل ہو گئی، حضرت خلیل علیہ السلام کے ایک بت شکن فرزند حضرت علی علیہ السلام نے 9ھ کو حج اکبر کے موقع پر برائت از مشرکین کا اعلان فرمایا۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو سورہ توبہ آیت 3) آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اولاد ابراہیم میں برائت از مشرکین یعنی توحید کی یہ تحریک قیامت تک باقی رہے گی۔

لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ : تاکہ لوگ شرک چھوڑ کر توحید کی طرف، غیر اللہ کو چھوڑ کر اللہ کی طرف رجوع کریں۔ چنانچہ آج روئے زمین پر جتنے بھی توحید پرست لوگ ہیں، وہ ابراہیم علیہ السلام اور اس کی آل کی اس تحریک کا نتیجہ ہیں۔


بَلۡ مَتَّعۡتُ ہٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَہُمۡ حَتّٰی جَآءَہُمُ الۡحَقُّ وَ رَسُوۡلٌ مُّبِیۡنٌ﴿۲۹﴾

۲۹۔ (ان کافروں کو فوری ہلاک نہیں کیا) بلکہ میں نے انہیں اور ان کے باپ دادا کو متاع حیات دی یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور واشگاف بیان کرنے والا رسول آ گیا۔


وَ لَمَّا جَآءَہُمُ الۡحَقُّ قَالُوۡا ہٰذَا سِحۡرٌ وَّ اِنَّا بِہٖ کٰفِرُوۡنَ﴿۳۰﴾

۳۰۔ اور جب حق ان کے پاس آیا تو کہنے لگے: یہ تو جادو ہے، ہم اسے نہیں مانتے۔


وَ قَالُوۡا لَوۡ لَا نُزِّلَ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الۡقَرۡیَتَیۡنِ عَظِیۡمٍ﴿۳۱﴾

۳۱۔ اور کہتے ہیں: یہ قرآن دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا؟

31۔ یعنی مکہ اور طائف کے کسی رئیس قبیلہ کو اس عہدے کے لیے منتخب کرتا۔ اللہ کو اپنا نمائندہ بنانے کے لیے عبد اللہ کا یتیم ملا، جس کے پاس نہ دولت تھی، نہ کسی قبیلے کی سرداری۔


اَہُمۡ یَقۡسِمُوۡنَ رَحۡمَتَ رَبِّکَ ؕ نَحۡنُ قَسَمۡنَا بَیۡنَہُمۡ مَّعِیۡشَتَہُمۡ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ رَفَعۡنَا بَعۡضَہُمۡ فَوۡقَ بَعۡضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعۡضُہُمۡ بَعۡضًا سُخۡرِیًّا ؕ وَ رَحۡمَتُ رَبِّکَ خَیۡرٌ مِّمَّا یَجۡمَعُوۡنَ﴿۳۲﴾

۳۲۔ کیا آپ کے رب کی رحمت یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں؟ جب کہ دنیاوی زندگی کی معیشت کو ان کے درمیان ہم نے تقسیم کیا ہے اور ہم ہی نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر درجات میں فوقیت دی ہے تاکہ ایک دوسرے سے کام لے اور آپ کے رب کی رحمت اس چیز سے بہتر ہے جسے یہ لوگ جمع کرتے ہیں۔

32۔ جواب میں فرمایا: تیرے رب کی رحمت کی تقسیم کا اختیار ان کو کس نے دیا؟ ہم نے اس سے کمتر چیز، یعنی ان کا ذریعہ حیات، روزی بھی کسی کے اختیار میں نہیں دی۔ نہ ہی بندوں کے درمیان جو تفاوت درجات رکھتے ہیں، کوئی مخدوم اور کوئی خادم ہے، وہ بھی ہم نے کسی کے ہاتھ میں نہیں دیا تو نبوت جیسے الٰہی منصب کو ان کے قائم کردہ معیار کے مطابق کیسے تقسیم کر سکتے ہیں۔


وَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ یَّکُوۡنَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً لَّجَعَلۡنَا لِمَنۡ یَّکۡفُرُ بِالرَّحۡمٰنِ لِبُیُوۡتِہِمۡ سُقُفًا مِّنۡ فِضَّۃٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیۡہَا یَظۡہَرُوۡنَ ﴿ۙ۳۳﴾

۳۳۔ اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ (کافر) لوگ سب ایک ہی جماعت (میں مجتمع) ہو جائیں گے تو ہم خدائے رحمن کے منکروں کے گھروں کی چھتوں اور سیڑھیوں کو جن پر وہ چڑھتے ہیں چاندی سے،


وَ لِبُیُوۡتِہِمۡ اَبۡوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیۡہَا یَتَّکِـُٔوۡنَ ﴿ۙ۳۴﴾

۳۴۔ اور ان کے گھروں کے دروازوں اور ان تختوں کو جن پر وہ تکیہ لگاتے ہیں،

34۔ جس مال و دولت کی فراوانی کو نادان لوگ باعث خوشحالی سمجھتے ہیں، وہ حقیقت میں ایک بدحالی ہے۔ دنیا میں اس سے امن و سکون چھن جاتا ہے اور وسائل کی فراوانی کی وجہ سے اس کی حیوانی خواہشات بیدار ہو جاتی ہیں۔ وہ خواہشات کا بندہ ہو جاتا ہے۔ پھر وہ نہ خواہشات کو سیر کر سکتا ہے، نہ روک سکتا ہے۔اس طرح زندگی اندر سے دوزخ بن جاتی ہے۔ اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ اگر ان مالداروں کی ظاہری شان و شوکت دیکھ کر سب لوگوں کے کفر اختیار کرنے کا خطرہ نہ ہوتا تو ہم کفار کو اس دوزخ میں مزید دھکیل دیتے اور ان کو سونے چاندی کے گھر عطا کرتے۔