Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

لَقَدۡ اَحۡصٰہُمۡ وَ عَدَّہُمۡ عَدًّا ﴿ؕ۹۴﴾

۹۴۔ بتحقیق اس نے ان سب کا احاطہ کر رکھا ہے اور انہیں شمار کر رکھا ہے۔

94۔ اَحۡصٰہُمۡ یعنی کائنات کی تمام موجودات اللہ کی بندگی میں ہونے کے اعتبار سے اللہ کی مملوک اور مالک کے قبضے میں ہیں، جس سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہے اور گھیرے اور احاطے میں رکھنے کا مطلب یہی ہے کہ وہ اللہ کی بندگی کے گھیرے سے نہیں نکل سکتیں۔

وَ عَدَّہُمۡ اور یہ امکان بھی نہیں ہے کہ کوئی اللہ کی نظر سے اوجھل ہو جائے۔ ہر موجود اللہ کی کتاب تکوین میں شمار شدہ اور ثبت شدہ ہے۔


وَ کُلُّہُمۡ اٰتِیۡہِ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فَرۡدًا﴿۹۵﴾

۹۵۔ اور قیامت کے دن ہر ایک کو اس کے سامنے تنہا حاضر ہونا ہے۔


اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجۡعَلُ لَہُمُ الرَّحۡمٰنُ وُدًّا﴿۹۶﴾

۹۶۔ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال بجا لائے ہیں ان کے لیے رحمن عنقریب دلوں میں محبت پیدا کرے گا۔

96۔ کائنات میں کوئی فرد اللہ کی بندگی سے بالاتر نہیں، البتہ اس بندگی میں مراتب ضرور ہیں۔ جب بندہ ایمان و عمل صالح کے ایک خاص مقام پر فائز ہو جاتا ہے تو اللہ کے نزدیک قرب و منزلت کے علاوہ اس کے لیے اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں ایک مقام پیدا فرما دیتا ہے۔

ابن مردویہ اور دیلمی نے حضرت براء سے اور طبرانی اور ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ یہ آیت حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی (الدر المنثور 4: 512)


فَاِنَّمَا یَسَّرۡنٰہُ بِلِسَانِکَ لِتُبَشِّرَ بِہِ الۡمُتَّقِیۡنَ وَ تُنۡذِرَ بِہٖ قَوۡمًا لُّدًّا﴿۹۷﴾

۹۷۔ (اے محمد) پس ہم نے یہ قرآن آپ کی زبان میں یقینا آسان کیا ہے تاکہ آپ اس سے صاحبان تقویٰ کو بشارت دیں اور جھگڑا لو قوم کی تنبیہ کریں۔


وَ کَمۡ اَہۡلَکۡنَا قَبۡلَہُمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ ؕ ہَلۡ تُحِسُّ مِنۡہُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ اَوۡ تَسۡمَعُ لَہُمۡ رِکۡزًا﴿٪۹۸﴾

۹۸۔ اور ہم نے ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کیا ہے۔ کیا آج آپ کہیں بھی ان میں سے کسی ایک کا نشان پاتے ہیں یا ان کی کوئی آہٹ سنتے ہیں؟


بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

بنام خدائے رحمن رحیم


طٰہٰ ۚ﴿۱﴾

۱۔ طا، ہا۔

1۔ امام محمد باقراور امام جعفر صادق علیہما السلام سے روایت ہے کہ طٰہٰ اور يٰس رسول کریم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اسمائے مبارکہ ہیں۔


مَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکَ الۡقُرۡاٰنَ لِتَشۡقٰۤی ۙ﴿۲﴾

۲۔ ہم نے یہ قرآن آپ پر اس لیے نازل نہیں کیا ہے کہ آپ مشقت میں پڑ جائیں۔


اِلَّا تَذۡکِرَۃً لِّمَنۡ یَّخۡشٰی ۙ﴿۳﴾

۳۔ بلکہ یہ تو خوف رکھنے والوں کے لیے صرف ایک یاد دہانی ہے۔

2۔3 آپ پر قرآن نازل کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ لوگوں کو ایمان پر آمادہ کرنے کے لیے ناقابل برداشت مشقت اٹھائیں۔ یہ تو ان لوگوں کے لیے یاددہانی ہے جن کے دلوں میں خوف خدا ہے۔


تَنۡزِیۡلًا مِّمَّنۡ خَلَقَ الۡاَرۡضَ وَ السَّمٰوٰتِ الۡعُلٰی ؕ﴿۴﴾

۴۔ یہ اس کی طرف سے نازل ہوا ہے جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو بنایا ہے۔