Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ کَمۡ اَہۡلَکۡنَا قَبۡلَہُمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ ہُمۡ اَحۡسَنُ اَثَاثًا وَّ رِءۡیًا﴿۷۴﴾

۷۴۔ اور ہم ان سے پہلے کتنی ایسی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں جو سامان زندگی اور نمود میں اس سے کہیں بہتر تھیں۔

74۔ جو چند روزہ اللہ نے تمہیں ڈھیل دی ہے اسے اپنے حق میں اللہ کی طرف سے رعایت سمجھتے ہو، ان چند دنوں کے بعد تمہاری ہلاکت کا وقت آئے گا تو تم تاریخ کا حصہ بن جاؤ گے اور تمہارے نام سے نفرت و مذلت کا تعفن پھیلے گا جب کہ عمار و بلال تابناک تاریخ کی جبین پر فخر و مباہات کی علامت بن جائیں گے۔


قُلۡ مَنۡ کَانَ فِی الضَّلٰلَۃِ فَلۡیَمۡدُدۡ لَہُ الرَّحۡمٰنُ مَدًّا ۬ۚ حَتّٰۤی اِذَا رَاَوۡا مَا یُوۡعَدُوۡنَ اِمَّا الۡعَذَابَ وَ اِمَّا السَّاعَۃَ ؕ فَسَیَعۡلَمُوۡنَ مَنۡ ہُوَ شَرٌّ مَّکَانًا وَّ اَضۡعَفُ جُنۡدًا﴿۷۵﴾

۷۵۔ کہدیجئے: جو شخص گمراہی میں ہے اسے خدائے رحمن لمبی مہلت دیتا ہے لیکن جب وہ اس کا مشاہدہ کریں گے جس کا وعدہ ہوا تھا، خواہ وہ عذاب ہو یا قیامت تو اس وقت انہیں معلوم ہو گا کہ کس کا مقام زیادہ برا ہے اور کس کا لاؤ لشکر زیادہ کمزور ہے۔

75۔ وہ جس ڈھیل کو اپنے حق میں اللہ کا اکرام سمجھتے ہیں، درحقیقت سرکشوں کے خلاف سب سے بڑی سزا یہی ڈھیل ہے۔ چنانچہ سورہ آل عمران کی آیت 178 میں فرمایا: وَ لَا یَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنَّمَا نُمۡلِیۡ لَہُمۡ خَیۡرٌ لِّاَنۡفُسِہِمۡ ؕ اِنَّمَا نُمۡلِیۡ لَہُمۡ لِیَزۡدَادُوۡۤا اِثۡمًا ۚ جب وعدہ الہی کا وقت آئے گا تو معلوم ہو گا کس کا مقام برا ہے۔

وعدہ الہی کے دو مرحلوں کا ذکر آیا ہے: اِمَّا الۡعَذَابَ وَ اِمَّا السَّاعَۃَ ؕ پہلا مرحلہ عذاب کا ہے۔ یعنی قیامت سے پہلے جب ان پر عذاب الٰہی ہو گا۔ گویا کہ وہ اس دنیا میں بھی ذلت و خواری سے دو چار ہوں گے اور مسلمانوں سے شکست کھا رہے ہوں گے، اس وقت انہیں معلوم ہو گا کہ کس کا مقام برا ہے۔ چشم جہاں نے ان کی ذلت و خواری کا مشاہدہ میدان بدر سے کرنا شروع کیا۔ دوسرا مرحلہ قیامت کا ہے، جب قیامت کے دن ابدی ذلت و رسوائی کے ساتھ عذاب جہنم کا مشاہدہ کریں گے تو معلوم ہو گا کہ کس کا مقام برا ہے۔


وَ یَزِیۡدُ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اہۡتَدَوۡا ہُدًی ؕ وَ الۡبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیۡرٌ عِنۡدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَّ خَیۡرٌ مَّرَدًّا﴿۷۶﴾

۷۶۔ اور جو لوگ ہدایت یافتہ ہیں اللہ ان کی ہدایت میں اضافہ فرماتا ہے اور آپ کے رب کے نزدیک باقی رہنے والی نیکیاں ثواب کے لحاظ سے بہتر ہیں اور انجام کے لحاظ سے بھی بہتر ہیں۔

76۔روایت ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے باقیات الصالحات کے بارے میں سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ھی الصلوۃ فحافظوا علیھا ۔ یہ نماز ہے، اس کی حفاظت کرو۔ (مستدرک الوسائل 3: 19) دوسری روایت میں آیا ہے کہ باقیات الصالحات مومن کا یہ کہنا ہے: سبحان اللّٰہ و الحمد للّٰہ و لا الہ الا اللّٰہ و اللّٰہ اکبر ۔(حوالہ سابق 5:327) واضح رہے کہ یہ احادیث باقیات الصالحات کے اہم مصادیق کی نشاندہی کرتی ہیں۔


اَفَرَءَیۡتَ الَّذِیۡ کَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَ قَالَ لَاُوۡتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًا ﴿ؕ۷۷﴾

۷۷۔ مجھے بتلاؤ جو ہماری آیات کا انکار کرتا ہے اور کہتا ہے: مجھے مال اور اولاد کی عطا ضرور بالضرور جاری رہے گی؟


اَطَّلَعَ الۡغَیۡبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنۡدَ الرَّحۡمٰنِ عَہۡدًا ﴿ۙ۷۸﴾

۷۸۔ کیا اس نے غیب کی اطلاع حاصل کی ہے یا خدائے رحمن سے کوئی عہد لے رکھا ہے ؟


کَلَّا ؕ سَنَکۡتُبُ مَا یَقُوۡلُ وَ نَمُدُّ لَہٗ مِنَ الۡعَذَابِ مَدًّا ﴿ۙ۷۹﴾

۷۹۔ ہرگز نہیں، جو کچھ یہ کہتا ہے ہم اسے لکھ لیں گے اور ہم اس کے عذاب میں مزید اضافہ کر دیں گے۔

79۔ سَنَکۡتُبُ مَا یَقُوۡلُ : اللہ کی طرف سے ضبط تحریر میں لانے کا مطلب یہ ہے کہ مجرم کا جرم علم خدا میں ثبت ہو جاتا ہے اور جو علم خدا میں ثبت ہو جائے اس میں بھول چوک ممکن نہیں ہے۔ جیسا کہ کسی مطلب کو ضبط تحریر میں لانے سے بھول چوک اور اشتباہ کا امکان کم ہو جاتا ہے۔


وَّ نَرِثُہٗ مَا یَقُوۡلُ وَ یَاۡتِیۡنَا فَرۡدًا﴿۸۰﴾

۸۰۔ اور جو کچھ وہ کہتا ہے اس کے ہم مالک بن جائیں گے اور وہ ہمارے پاس اکیلا حاضر ہو گا۔

80۔ نَرِثُہٗ : یعنی کافروں کا یہ تمسخر اور ان کے کفر کی باتیں ان کے مرنے کے بعد ان کے لیے وبال جان بن کر باقی رہیں گی اور ہمارے پاس وہ اکیلا پہنچ جائے گا۔جن کو اس نے خدا کے ساتھ شریک مانا تھا، ان میں سے کوئی بھی اس کے ساتھ نہ ہو گا۔


وَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اٰلِہَۃً لِّیَکُوۡنُوۡا لَہُمۡ عِزًّا ﴿ۙ۸۱﴾

۸۱۔ اور انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود بنا لیے ہیں تاکہ ان کے لیے باعث تقویت بنیں ۔

81۔ مشرکین جن چیزوں کی پوجا کرتے تھے اور ان سے جو مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے، وہ تقویت ہے۔ وہ ان معبودوں سے اپنی دنیاوی زندگی کے لیے تقویت چاہتے تھے۔ مشرکین آخرت پر ایمان نہیں رکھتے تھے، لہٰذا وہ ان معبودوں کو اپنی دنیاوی مفادات کے حصول کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ جواب میں فرمایا: جس یوم آخرت کے تم منکر ہو، وہ دن ضرور آئے گا اور اس دن تمہارے یہ معبود نہ صرف تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکیں گے، بلکہ تمہارے خلاف ہوں گے۔


کَلَّا ؕ سَیَکۡفُرُوۡنَ بِعِبَادَتِہِمۡ وَ یَکُوۡنُوۡنَ عَلَیۡہِمۡ ضِدًّا﴿٪۸۲﴾

۸۲۔ ہرگز نہیں، (کل) یہ سب ان کی عبادت ہی سے انکار کریں گے اور ان کے سخت مخالف ہوں گے۔


اَلَمۡ تَرَ اَنَّـاۤ اَرۡسَلۡنَا الشَّیٰطِیۡنَ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ تَؤُزُّہُمۡ اَزًّا ﴿ۙ۸۳﴾

۸۳۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ ہم نے شیاطین کو کفار پر مسلط کر رکھا ہے جو انہیں اکساتے رہتے ہیں؟

83۔ اَرۡسَلۡنَا یعنی ہم نے چھوڑ رکھا ہے کہ شیاطین کافروں کو جرائم کے ارتکاب پر اکساتے رہیں۔ ورنہ اللہ اپنے بندوں کو شیطان کے شر سے بچاتا ہے۔