Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

قَالَ مَا مَکَّنِّیۡ فِیۡہِ رَبِّیۡ خَیۡرٌ فَاَعِیۡنُوۡنِیۡ بِقُوَّۃٍ اَجۡعَلۡ بَیۡنَکُمۡ وَ بَیۡنَہُمۡ رَدۡمًا ﴿ۙ۹۵﴾

۹۵۔ ذوالقرنین نے کہا : جو طاقت میرے رب نے مجھے عنایت فرمائی ہے وہ بہتر ہے، لہٰذا تم محنت کے ذریعے میری مدد کرو میں تمہارے اور ان کے درمیان بند باندھ دوں گا۔

95۔ یعنی تم مجھے افرادی قوت فراہم کرو۔


اٰتُوۡنِیۡ زُبَرَ الۡحَدِیۡدِ ؕ حَتّٰۤی اِذَا سَاوٰی بَیۡنَ الصَّدَفَیۡنِ قَالَ انۡفُخُوۡا ؕ حَتّٰۤی اِذَا جَعَلَہٗ نَارًا ۙ قَالَ اٰتُوۡنِیۡۤ اُفۡرِغۡ عَلَیۡہِ قِطۡرًا ﴿ؕ۹۶﴾

۹۶۔ تم مجھے لوہے کی چادریں لا کر دو، یہاں تک کہ جب اس نے دونوں پہاڑوں کی درمیانی فضا کو برابر کر دیا تو اس نے لوگوں سے کہا: آگ پھونکو یہاں تک کہ جب اسے بالکل آگ بنا دیا تو اس نے کہا: اب میرے پاس تانبا لے آؤ تاکہ میں اس (دیوار) پر انڈیلوں۔

96۔ بَیۡنَ الصَّدَفَیۡنِ یعنی دونوں پہاڑوں کے سروں کے درمیانی حصہ کو لوہے کے ٹکڑوں سے پر کر کے پہاڑوں کے برابر کر دیا۔ پھر اس دیوار پر پگھلا ہوا لوہا یا سیسہ ڈالنے سے وہ درہ ایسا بند ہو گیا کہ یاجوج و ماجوج اسے توڑ کر دوسری آبادیوں کی طرف نہیں آ سکے۔


فَمَا اسۡطَاعُوۡۤا اَنۡ یَّظۡہَرُوۡہُ وَ مَا اسۡتَطَاعُوۡا لَہٗ نَقۡبًا﴿۹۷﴾

۹۷۔ اس کے بعد وہ نہ اس پر چڑھ سکیں اور نہ ہی اس میں نقب لگا سکیں۔


قَالَ ہٰذَا رَحۡمَۃٌ مِّنۡ رَّبِّیۡ ۚ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ رَبِّیۡ جَعَلَہٗ دَکَّآءَ ۚ وَ کَانَ وَعۡدُ رَبِّیۡ حَقًّا ﴿ؕ۹۸﴾

۹۸۔ ذوالقرنین نے کہا : یہ میرے رب کی طرف سے رحمت ہے لہٰذا جب میرے رب کے وعدے کا وقت آئے گا تو وہ اسے زمین بوس کر دے گا اور میرے رب کا وعدہ برحق ہے ۔

98۔ اس وعدے سے مراد قیامت کے قریب یاجوج و ماجوج کا خروج ہو سکتا ہے۔ چنانچہ یہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی علامتوں میں سے ایک ہے۔ یعنی دیوار اگرچہ مضبوط ہے لیکن میرے رب کا وعدہ آنے پر یہ مضبوط دیوار بھی ریزہ ریزہ ہو جائے گی۔


وَ تَرَکۡنَا بَعۡضَہُمۡ یَوۡمَئِذٍ یَّمُوۡجُ فِیۡ بَعۡضٍ وَّ نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ فَجَمَعۡنٰہُمۡ جَمۡعًا ﴿ۙ۹۹﴾

۹۹۔ اور اس دن ہم انہیں ایسے حال میں چھوڑ دیں گے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ گتھم گتھا ہو جائیں گے اور صور میں پھونک ماری جائے گی پھر ہم سب کو ایک ساتھ جمع کریں گے۔


وَّ عَرَضۡنَا جَہَنَّمَ یَوۡمَئِذٍ لِّلۡکٰفِرِیۡنَ عَرۡضَاۨ﴿۱۰۰﴾ۙ

۱۰۰۔ اور اس دن ہم جہنم کو کافروں کے سامنے پیش کریں گے۔


الَّذِیۡنَ کَانَتۡ اَعۡیُنُہُمۡ فِیۡ غِطَـآءٍ عَنۡ ذِکۡرِیۡ وَ کَانُوۡا لَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ سَمۡعًا﴿۱۰۱﴾٪

۱۰۱۔ جن کی نگاہیں ہماری یاد سے پردے میں پڑی ہوئی تھیں اور وہ کچھ سن بھی نہیں سکتے تھے۔

101۔ جن کا عقل و شعور غفلت و جہالت کے پردے میں ہے، وہ حرف حق کو سننے کی صلاحیت نہیں رکھتے کیونکہ وہ حق سے کراہت اور نفرت کرتے ہیں اور ان کا باطل سے مانوس ذہن حق کو دیکھ کر وحشت زدہ ہو جاتا ہے۔


اَفَحَسِبَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنۡ یَّتَّخِذُوۡا عِبَادِیۡ مِنۡ دُوۡنِیۡۤ اَوۡلِیَآءَ ؕ اِنَّـاۤ اَعۡتَدۡنَا جَہَنَّمَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ نُزُلًا﴿۱۰۲﴾

۱۰۲۔ کیا کافر یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو سرپرست بنائیں گے؟ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے مہمان سرا بنا کر تیار رکھا ہے۔

102۔ اللہ کی جگہ مِنۡ دُوۡنِیۡۤ بندوں کو سرپرست بنا لینا شرک ہے۔ یعنی جہاں اللہ تعالیٰ کی بندگی اور عبادت ہونی چاہیے، وہاں بندوں کی پرستش ہو جائے تو یہ شرک ہے۔ عِبَادِیۡ (میرے بندوں) سے مراد فرشتے، جن اور نیک انسان ہو سکتے ہیں، جن کی یہ مشرکین پوجا کرتے ہیں۔


قُلۡ ہَلۡ نُنَبِّئُکُمۡ بِالۡاَخۡسَرِیۡنَ اَعۡمَالًا﴿۱۰۳﴾ؕ

۱۰۳۔ کہدیجئے: کیا ہم تمہیں بتا دیں کہ اعمال کے اعتبار سے سب سے نامراد کون لوگ ہیں؟

103۔ 104 سب سے زیادہ ناقابل تلافی خسارے میں وہ لوگ ہیں جو مرکب ضلالت میں ہیں۔ مرکب ضلالت کا مطلب یہ ہے کہ ایک تو وہ خود ضلالت میں ہیں، دوسرا یہ کہ وہ اپنی اس ضلالت کو درست کام سمجھتے ہیں۔ اس قسم کی گمراہی زیادہ خطرناک اور ہدایت سے دور ہوتی ہے۔ یہ بالکل جہل مرکب کی طرح ہے کہ ایک شخص ایک مطلب کو نہیں جانتا اور اپنے اس نہ جاننے کو بھی نہیں جانتا۔ ایسا شخص جاننے کی کوشش کبھی نہیں کرے گا۔ اس لیے اس گمراہی کو سب سے زیادہ نامراد قرار دیا ہے۔ چاہے وہ خوارج کی طرح عبادات بجا لائیں، نواصب کی طرح کلام اللہ کی تلاوت کریں، اہل شرک کی طرح بے جان چیزوں کی پوجا کریں، یہ سب اعمال جن کو وہ کار خیر سمجھ کر بجا لا رہے ہیں، عبث ثابت ہوں گے اور ثواب و نجات کے لیے ان کی تمام کوششیں رائیگاں جائیں گی۔


اَلَّذِیۡنَ ضَلَّ سَعۡیُہُمۡ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ ہُمۡ یَحۡسَبُوۡنَ اَنَّہُمۡ یُحۡسِنُوۡنَ صُنۡعًا﴿۱۰۴﴾

۱۰۴۔ جن کی سعی دنیاوی زندگی میں لاحاصل رہی جب کہ وہ یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ وہ درست کام کر رہے ہیں۔