Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ عَلٰمٰتٍ ؕ وَ بِالنَّجۡمِ ہُمۡ یَہۡتَدُوۡنَ﴿۱۶﴾

۱۶۔ اور علامتیں بھی (بنائیں) اور ستاروں سے بھی لوگ راستہ معلوم کر لیتے ہیں۔


اَفَمَنۡ یَّخۡلُقُ کَمَنۡ لَّا یَخۡلُقُ ؕ اَفَلَا تَذَکَّرُوۡنَ﴿۱۷﴾

۱۷۔ کیا وہ جو پیدا کرتا ہے اس جیسا ہے جو پیدا نہیں کرتا؟ کیا تم غور نہیں کرتے؟

17۔ ایک واضح حقیقت اور ایک نہایت سادہ سی بات، جسے ہر کوئی سمجھ سکتا ہے، یہ ہے کہ جو خلق کرتا ہے، وہ اس کی طرح تو نہیں ہو سکتا جو خلق نہیں کرتا۔ خطاب مشرکوں سے ہے کہ تم ایسی واضح باتیں بھی نہیں سمجھ سکتے، اللہ اور بتوں کے ایک جیسے اختیارات کے قائل ہو۔


وَ اِنۡ تَعُدُّوۡا نِعۡمَۃَ اللّٰہِ لَا تُحۡصُوۡہَا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ﴿۱۸﴾

۱۸۔ اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنے لگو تو انہیں شمار نہ کر سکو گے، اللہ یقینا بڑا درگزر کرنے والا، مہربان ہے۔

18۔ اللہ کی بے پایاں نعمتوں کا احاطہ یہ انسان نہیں کر سکتا۔ یہ غافل انسان تو ان نعمتوں میں سے موٹی موٹی نعمتوں کی طرف صرف اس وقت متوجہ ہوتا ہے جب اس سے یہ نعمت چھن جاتی ہے۔ اس کے باوجود اللہ غفور و رحیم ہے، اللہ کا غفران اور درگز دیکھیے کہ انسان ان بے شمار نعمتوں میں مالا مال رہنے کے باوجود اللہ کے حق میں اس قدر گستاخ اور نافرمان ہوتا ہے کہ کبھی تو اللہ کے وجود ہی کا منکر ہو جاتا ہے، پھر بھی اللہ درگز فرماتا ہے اور رحم کا یہ عالم ہے کہ ایسے ناشکرے انسان کو بھی برابر نعمتوں کی ارزانی فرماتا رہتا ہے۔


وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ مَا تُسِرُّوۡنَ وَ مَا تُعۡلِنُوۡنَ﴿۱۹﴾

۱۹۔ اور اللہ سب سے باخبر ہے جو تم پوشیدہ رکھتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو۔

19۔ اللہ ان مشرکین کے حال سے بے خبر ہونے کی بنیاد پر تو نعمتیں فراہم نہیں کرتا، بلکہ وہ ان کے دلوں کی بات سے بھی واقف ہے نیز ربوبیت کے لائق تو صرف وہ ذات ہے جو خالق ہے، منعم ہے اور انسان کے اندرونی حالات پر علم و آگہی رکھتی ہے۔ جبکہ جن بتوں کی یہ لوگ پرستش کرتے ہیں نہ تو وہ خالق ہیں، بلکہ وہ خود مخلوق ہیں۔ نہ منعم ہیں نہ ان کو انسان کے حالات پر آگہی ہے۔


وَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ لَا یَخۡلُقُوۡنَ شَیۡئًا وَّ ہُمۡ یُخۡلَقُوۡنَ ﴿ؕ۲۰﴾

۲۰۔ اور اللہ کو چھوڑ کر جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کسی چیز کو خلق نہیں کر سکتے بلکہ خود مخلوق ہیں۔


اَمۡوَاتٌ غَیۡرُ اَحۡیَآءٍ ۚ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ ۙ اَیَّانَ یُبۡعَثُوۡنَ﴿٪۲۱﴾

۲۱۔ وہ زندہ نہیں مردہ ہیں اور انہیں اتنا بھی معلوم نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے۔


اِلٰـہُکُمۡ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ۚ فَالَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ قُلُوۡبُہُمۡ مُّنۡکِرَۃٌ وَّ ہُمۡ مُّسۡتَکۡبِرُوۡنَ﴿۲۲﴾

۲۲۔ تمہارا معبود بس ایک ہی معبود ہے لیکن جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کے دل (قبول حق کے لیے) منکر ہیں اور وہ تکبر کر رہے ہیں۔

22۔ اللہ کی وحدانیت پر ایمان اور آخرت پر ایمان باہم مربوط معلوم ہوتے ہیں۔ یعنی جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا اور جزا و سزا کے نظام کا قائل نہیں ہے اس کے لیے اللہ کا وجود اور اس کائنات کی تخلیق ناقابل فہم ہو جاتے ہیں۔


لَاجَرَمَ اَنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَا یُسِرُّوۡنَ وَ مَا یُعۡلِنُوۡنَ ؕ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الۡمُسۡتَکۡبِرِیۡنَ﴿۲۳﴾

۲۳۔ یہ حقیقت ہے کہ وہ جو کچھ پوشیدہ رکھتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں اللہ اسے جانتا ہے، وہ تکبر کرنے والوں کو یقینا پسند نہیں کرتا ۔


وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ مَّا ذَاۤ اَنۡزَلَ رَبُّکُمۡ ۙ قَالُوۡۤا اَسَاطِیۡرُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿ۙ۲۴﴾

۲۴۔ جب ان سے کہا جاتا ہے: تمہارے رب نے کیا نازل کیا ہے؟ تو کہتے ہیں: داستانہائے پارینہ۔


لِیَحۡمِلُوۡۤا اَوۡزَارَہُمۡ کَامِلَۃً یَّوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ۙ وَ مِنۡ اَوۡزَارِ الَّذِیۡنَ یُضِلُّوۡنَہُمۡ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوۡنَ﴿٪۲۵﴾

۲۵۔ (گویا) یہ لوگ قیامت کے دن اپنا سارا بوجھ اور کچھ ان کا بوجھ بھی اٹھانا چاہتے ہیں جنہیں وہ نادانی میں گمراہ کرتے ہیں دیکھو! کتنا برا بوجھ ہے جو یہ اٹھا رہے ہیں۔

25۔ خود گمراہ ہونے کے ساتھ یہ لوگ دوسروں کی گمراہی کے لیے سبب بن جاتے ہیں۔ اس طرح یہ لوگ اپنے گناہوں کے بوجھ کے علاوہ دوسروں کے گناہوں کا بھی بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے: من سن سنۃ سیئۃ کان علیہ وزرھا و وزر من عمل بھا ۔ (بحار الانوار 71: 204) جو ایک برے کام کو رواج دیتا ہے، اس پر اس برائی کا بوجھ ہے اور اس پر عمل کرنے والوں کا بوجھ بھی اسی پر ہو گا۔