Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ تَـرَی الۡمُجۡرِمِیۡنَ یَوۡمَئِذٍ مُّقَرَّنِیۡنَ فِی الۡاَصۡفَادِ ﴿ۚ۴۹﴾

۴۹۔ اس دن آپ مجرموں کو ایک ساتھ زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھیں گے۔


سَرَابِیۡلُہُمۡ مِّنۡ قَطِرَانٍ وَّ تَغۡشٰی وُجُوۡہَہُمُ النَّارُ ﴿ۙ۵۰﴾

۵۰۔ ان کے لباس گندھک کے ہوں گے اور آگ ان کے چہروں پر چھائی ہوئی ہو گی۔

48 تا50۔ یعنی قیامت کے دن اس زمین و آسمان کا موجودہ نظام دگرگوں ہو جائے گا اور موجودہ نظام عالم بدل جائے گا۔ چنانچہ ایک جرثومہ جس نظام زندگی کے تحت زندہ رہتا ہے، وہ جب بدل جاتا ہے اور عالم نطفہ میں داخل ہوتا ہے تو زندگی کے طور و طریقے اور لوازم و قوانین بدل جاتے ہیں۔ نطفہ جب جنین بنتا ہے نیز جب جنین شکم مادر سے اس دنیا میں قدم رکھتا ہے تو زندگی کے لوازم و قوانین بدل جاتے ہیں۔ عالم آخرت کا نظام اگرچہ طبیعی ہے، مگر وہ مختلف نظام طبیعت ہے۔ اس نظام میں یہ زمین کسی اور زمین میں بدل جائے گی۔ اس نظام طبیعت میں مجرم لوگ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہوں گے۔ ان کے جسم پر گندھک یا تارکول جیسا آتش گیر مادہ بطور لباس ہو گا اور ان کے جسم پر آگ چھائی ہوئی ہو گی۔ اس کے باوجود وہ زندہ رہیں گے۔


لِیَجۡزِیَ اللّٰہُ کُلَّ نَفۡسٍ مَّا کَسَبَتۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ﴿۵۱﴾

۵۱۔ تاکہ اللہ ہر نفس کو اس کے عمل کی جزا دے، اللہ یقینا بہت جلد حساب کرنے والا ہے۔


ہٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَ لِیُنۡذَرُوۡا بِہٖ وَ لِیَعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا ہُوَ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ وَّ لِیَذَّکَّرَ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ﴿٪۵۲﴾

۵۲۔ یہ (قرآن) لوگوں کے لیے ایک پیغام ہے تاکہ اس کے ذریعے لوگوں کی تنبیہ کی جائے اور وہ جان لیں کہ معبود تو بس وہ ایک ہی ہے نیز عقل والے نصیحت حاصل کریں۔

52۔ یہ قرآن پوری انسانیت کے لیے ایک پیغام رکھتا ہے۔ یہ پیغام تین چیزوں پر مشتمل ہے: ٭لوگوں کی تنبیہ۔ خطرات میں گھرے ہوئے اس انسان کے لیے سب سے زیادہ ضرورت تنبیہ کی ہے۔ ٭ توحید یعنی ایک خدا کی پرستش کرنا، ایک خدا کی حاکمیت قبول کرنا اور ایک ہی قانون ساز کو تسلیم کرنا۔ ٭عقل سلیم کو سوچنے اور حقائق کا کھوج لگانے کی دعوت۔


بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

بنام خدائے رحمن رحیم

سورہ حجر

اس سورہ میں قوم ثمود، قوم حجر کا ذکر آیا ہے، اس لیے سورہ کا نام حجر ہے۔ بعض آیات کے مضمون سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سورہ اوائل بعثت میں نازل ہوا ہے۔


الٓرٰ ۟ تِلۡکَ اٰیٰتُ الۡکِتٰبِ وَ قُرۡاٰنٍ مُّبِیۡنٍ﴿۱﴾

۱۔ الف لام را، یہ کتاب اور قرآن مبین کی آیات ہیں۔

1۔ اس سورہ مبارکہ کے تعارفی جملے ہیں کہ یہ سورہ کتاب الٰہی اور صریح البیان قرآن کی آیات پر مشتمل ہے۔ بعض کے نزدیک کتاب سے مراد لوح محفوظ ہے۔


رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوۡ کَانُوۡا مُسۡلِمِیۡنَ ﴿۲﴾

۲۔ ایک وقت ایسا ہو گا کہ کافر لوگ آرزو کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے۔

2۔ اس آیت میں کفر پر قائم رہنے والوں کے لیے تہدید اور ایمان لانے کی تشویق بھی ہے اور اس استہزاء کا بھی اشارہ ہے جس کا کافر سامنا کریں گے۔


ذَرۡہُمۡ یَاۡکُلُوۡا وَ یَتَمَتَّعُوۡا وَ یُلۡہِہِمُ الۡاَمَلُ فَسَوۡفَ یَعۡلَمُوۡنَ﴿۳﴾

۳۔ انہیں چھوڑ دیجئے کہ وہ کھائیں اور مزے کریں اور ( طویل )آرزوئیں انہیں غافل بنا دیں کہ عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا۔

3۔ ان کافروں پر حجت پوری ہو گئی اور یہ قابل ہدایت نہیں ہیں، انہیں اپنی حالت پر چھوڑ دیجئے۔ ان کی زندگی کا مقصد خورد و نوش ہے اور وہ آرزوؤں میں مگن ہیں۔ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: أَلَا اِنَّ اَخْوَفَ مَا یُخَافُ عَلَیْکُمْ خَصْلَتَانِ اتَّبَاعُ الْھَوَی وَ طُولُ الْاَمَلِ اَمَّا اتَّبَاعُ الْھَوَی فَیَصُدُّ عَنِ الْحَقِّ وَ طُولُ الْاَمَلِ یُنْسِی الْآخِرَۃِ ۔ (وسائل الشیعۃ2: 438) مجھے تمہارے بارے میں دو چیزوں کا خوف ہے: خواہشات کی پیروی اور لمبی آرزوئیں۔ خواہشات کی پیروی حق سے باز رکھتی ہے اور لمبی آرزو آخرت کو بھلا دیتی ہے۔


وَ مَاۤ اَہۡلَکۡنَا مِنۡ قَرۡیَۃٍ اِلَّا وَ لَہَا کِتَابٌ مَّعۡلُوۡمٌ﴿۴﴾

۴۔ اور ہم نے کسی بستی کو ہلاکت میں نہیں ڈالا مگر یہ کہ اس کے لیے ایک معینہ مدت لکھی ہوئی تھی۔


مَا تَسۡبِقُ مِنۡ اُمَّۃٍ اَجَلَہَا وَ مَا یَسۡتَاۡخِرُوۡنَ﴿۵﴾

۵۔ کوئی قوم اپنی معینہ مدت سے نہ آگے نکل سکتی ہے اور نہ پیچھے رہ سکتی ہے۔

5۔ ہر قوم کا ایک صحیفہ عمل ہوتا ہے جس میں اس قوم کی مدتِ حیات درج ہوتی ہے۔ مہلت برائے عمل اور عمل کے مطابق اجل کی بنیاد پر۔