Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

ثُمَّ بَدَا لَہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا رَاَوُا الۡاٰیٰتِ لَیَسۡجُنُنَّہٗ حَتّٰی حِیۡنٍ﴿٪۳۵﴾

۳۵۔ پھر (یوسف کی پاکدامنی کی) علامات دیکھ چکنے کے باوجود انہوں نے مناسب سمجھا کہ کچھ مدت کے لیے یوسف کو ضرور قید کر دیں ۔

35۔ عزیز مصر اپنے گھر کی حالت بگڑتے دیکھ کر مزید رسوائی سے بچنے کے لیے حضرت یوسف علیہ السلام کو زندان میں ڈال دیتا ہے۔ یہ درحقیقت مصری سرداروں کی شکست اور یوسف علیہ السلام کی فتح تھی، کیونکہ اس نے حضرت یوسف علیہ السلام کو کسی جرم میں نہیں بلکہ اپنی عورتوں کو قابو کرنے کے لیے زندان بھیجا۔


وَ دَخَلَ مَعَہُ السِّجۡنَ فَتَیٰنِ ؕ قَالَ اَحَدُہُمَاۤ اِنِّیۡۤ اَرٰىنِیۡۤ اَعۡصِرُ خَمۡرًا ۚ وَ قَالَ الۡاٰخَرُ اِنِّیۡۤ اَرٰىنِیۡۤ اَحۡمِلُ فَوۡقَ رَاۡسِیۡ خُبۡزًا تَاۡکُلُ الطَّیۡرُ مِنۡہُ ؕ نَبِّئۡنَا بِتَاۡوِیۡلِہٖ ۚ اِنَّا نَرٰىکَ مِنَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ﴿۳۶﴾

۳۶۔اور قید خانے میں یوسف کے ساتھ دو جوان بھی داخل ہوئے، ان میں سے ایک نے کہا: میں نے خواب میں دیکھا کہ شراب کشید کر رہا ہوں اور دوسرے نے کہا: میں نے دیکھا کہ میں اپنے سر پر روٹی اٹھائے ہوئے ہوں، پرندے اس میں سے کھا رہے ہیں، ہمیں اس کی تاویل بتا دیجئے، یقینا ہمیں آپ نیک انسان نظر آتے ہیں۔

36۔ ان دو جوانوں کو حضرت یوسف علیہ السلام کی شخصیت اور ان کے کردار کی عظمت کا علم ہو جاتا ہے اور یہ بھی علم ہو جاتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کسی جرم میں نہیں بلکہ جرم نہ کرنے کے جرم میں زندان میں ہیں۔ اس اعتماد کے بعد وہ آپ علیہ السلام سے خواب کی تعبیر پوچھتے ہیں، کیونکہ روح کی صفائی اور فکر کی طہارت کی وجہ سے حقائق پر سے پردے اٹھ جاتے ہیں۔ جس قدر روح شفاف ہو جاتی ہے پردے بھی شفاف ہو جاتے ہیں۔


قَالَ لَا یَاۡتِیۡکُمَا طَعَامٌ تُرۡزَقٰنِہٖۤ اِلَّا نَبَّاۡتُکُمَا بِتَاۡوِیۡلِہٖ قَبۡلَ اَنۡ یَّاۡتِیَکُمَا ؕ ذٰلِکُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیۡ رَبِّیۡ ؕ اِنِّیۡ تَرَکۡتُ مِلَّۃَ قَوۡمٍ لَّا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ ہُمۡ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ کٰفِرُوۡنَ﴿۳۷﴾

۳۷۔ یوسف نے کہا: جو کھانا تم دونوں کو دیا جاتا ہے وہ ابھی آیا بھی نہ ہو گا کہ میں اس کی تعبیر تمہیں بتا دوں گا قبل اس کے کہ وہ کھانا تمہارے پاس آئے، یہ ان (تعلیمات) میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے سکھائی ہیں، میں نے اس قوم کا مذہب ترک کر دیا ہے جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور آخرت کا انکار کرتے ہیں۔

37۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے دیکھا کہ ان دو قیدیوں میں ایک قسم کا حسن ظن پیدا ہو گیا ہے، لہٰذا مزید اعتماد بڑھانے کے لیے اپنا علمی مقام و ماخذ بیان فرماتے ہیں تاکہ ایسی سازگار فضا وجود میں آ جائے جس میں وہ اپنا اصل مدعا (تبلیغ توحید) بیان کر سکیں۔ اس کے بعد کفار سے بیزاری کا اعلان فرماتے ہیں۔


وَ اتَّبَعۡتُ مِلَّۃَ اٰبَآءِیۡۤ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ اِسۡحٰقَ وَ یَعۡقُوۡبَ ؕ مَا کَانَ لَنَاۤ اَنۡ نُّشۡرِکَ بِاللّٰہِ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ ذٰلِکَ مِنۡ فَضۡلِ اللّٰہِ عَلَیۡنَا وَ عَلَی النَّاسِ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَشۡکُرُوۡنَ﴿۳۸﴾

۳۸۔اور میں نے تو اپنے اجداد ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے مذہب کو اپنایا ہے، ہمیں کسی چیز کو اللہ کا شریک بنانے کا حق حاصل نہیں ہے، ہم پر اور دیگر لوگوں پر یہ اللہ کا فضل ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے ۔

38۔ حضرت یوسف علیہ السلام اپنی زندگی کے کسی نازک اور مشکل مرحلے میں اپنے حسب و نسب کا سہارا نہیں لیتے اور اس کا ذکر نہیں کرتے، صرف دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں اپنا مذہب و نسب بیان فرماتے ہیں۔ مخاطب کو یہ باور کرانے کے لیے کہ ان کا تعلق توحید کے عظیم داعی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل سے ہے اور اللہ نے ہدایت الی التوحید کے فضل و کرم سے خاندان ابراہیم علیہ السلام کو نوازا ہے اور ان لوگوں کو بھی جو ان کی پیروی کرتے ہیں۔ یہ ہدایت فطرت سلیمہ اور رسالت انبیاء کے ذریعے اللہ نے اپنے بندوں تک پہنچائی ہے۔


یٰصَاحِبَیِ السِّجۡنِ ءَاَرۡبَابٌ مُّتَفَرِّقُوۡنَ خَیۡرٌ اَمِ اللّٰہُ الۡوَاحِدُ الۡقَہَّارُ ﴿ؕ۳۹﴾

۳۹۔ اے میرے زندان کے ساتھیو ! کیا متفرق ارباب بہتر ہیں یا وہ اللہ جو یکتا ہے جو سب پر غالب ہے ۔

39۔ 40 یہ سوال ضمیر اور فطرت سے ہے کہ اس جہاں میں ایک ہی رب قہار ہو سکتا ہے، کیونکہ تعدد کی صورت میں محدودیت آ جاتی ہے اور محدود مغلوب ہوتا ہے، نہ کہ غالب۔ کیونکہ متعدد ہونے کی صورت میں ہر رب دوسرے رب کی حدود میں مقہور و مغلوب ہوتا ہے، لہٰذا قہاریت کے لیے غیر محدود ہونا ضروری ہے۔ جو غیر محدود ہو وہ متعدد نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح جو متعدد ہو وہ لا محدود نہیں ہو سکتا جیسا کہ متعدد غیر محدود نہیں ہو سکتا۔

اس کے بعد بت پرستوں کے نظریات کے بے حقیقت ہونے کی طرف اشارہ فرمایا کہ خدا کے علاوہ جن کو تم پوجتے ہو وہ بے مفہوم الفاظ، بے معنی عبارات اور اسم بے مسمی ہیں۔ یہ صرف تمہارے باپ دادا کی ذہنی اختراع ہیں کہ کسی کو آسمانوں کا رب، کسی کو زمین کا مالک، کسی کو صحت و مرض کا رب اور کسی کو نعمتوں کا پروردگار بنا دیا۔ حقائق وہ ہیں جن کی سند اللہ کی طرف سے آئے اور ایک خدا کی پرستش ہی مستحکم دین ہے۔


مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اِلَّاۤ اَسۡمَآءً سَمَّیۡتُمُوۡہَاۤ اَنۡتُمۡ وَ اٰبَآؤُکُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ بِہَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ ؕ اِنِ الۡحُکۡمُ اِلَّا لِلّٰہِ ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ ؕ ذٰلِکَ الدِّیۡنُ الۡقَیِّمُ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ﴿۴۰﴾

۴۰۔ تم لوگ اللہ کے سوا جن چیزوں کی بندگی کرتے ہو وہ صرف تم اور تمہارے باپ دادا کے خودساختہ نام ہیں، اللہ نے تو ان پر کوئی دلیل نازل نہیں کی، اقتدار تو صرف اللہ ہی کا ہے، اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو، یہی مستحکم دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔


یٰصَاحِبَیِ السِّجۡنِ اَمَّاۤ اَحَدُ کُمَا فَیَسۡقِیۡ رَبَّہٗ خَمۡرًا ۚ وَ اَمَّا الۡاٰخَرُ فَیُصۡلَبُ فَتَاۡکُلُ الطَّیۡرُ مِنۡ رَّاۡسِہٖ ؕ قُضِیَ الۡاَمۡرُ الَّذِیۡ فِیۡہِ تَسۡتَفۡتِیٰنِ ﴿ؕ۴۱﴾

۴۱۔ اے میرے زندان کے ساتھیو! تم دونوں میں سے ایک تو اپنے رب کو شراب پلائے گا اور دوسرا سولی چڑھایا جائے گا پھر پرندے اس کا سر نوچ کھائیں گے، جو بات تم دونوں مجھ سے دریافت کر رہے تھے اس کا فیصلہ ہو چکا ہے ۔

41۔ توحید کا درس سنانے کے بعد اب خواب کی تعبیر بیان فرماتے ہیں اور جس وثوق و یقین کے ساتھ آپ علیہ السلام نے اس تعبیر کو بیان فرمایا اور اپنی تعبیر کو فیصلہ کن قرار دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی تعبیر کا مآخذ یقینی بنیادوں پر تھا اور وہ مآخذ وحی ہی ہو سکتی ہے۔ جس کے بارے میں فرمایا کہ وہ اپنے آقا کو شراب پلائے گا، روایات کے مطابق وہ پہلے بھی اس منصب پر فائز تھا۔ جس کے بارے میں فرمایا کہ وہ مصلوب ہو گا روایات کے مطابق یہ شخص بادشاہ کا نان بائی تھا۔


وَ قَالَ لِلَّذِیۡ ظَنَّ اَنَّہٗ نَاجٍ مِّنۡہُمَا اذۡکُرۡنِیۡ عِنۡدَ رَبِّکَ ۫ فَاَنۡسٰہُ الشَّیۡطٰنُ ذِکۡرَ رَبِّہٖ فَلَبِثَ فِی السِّجۡنِ بِضۡعَ سِنِیۡنَ ﴿ؕ٪۴۲﴾

۴۲۔اور ان دونوں میں سے جس کی رہائی کا خیال کیا تھا (یوسف نے) اس سے کہا: اپنے مالک (شاہ مصر) سے میرا ذکر کرنا مگر شیطان نے اسے بھلا دیا کہ وہ اپنے مالک سے یوسف کا ذکر کرے، یوں یوسف کئی سال زندان میں پڑے رہے۔

42۔اس آیت میں ظَنَّ کا استعمال بہ معنی یقین ہے، جیسا کہ دیگر بعض آیات میں بھی یہ لفظ یقین کے معنی میں آیا ہے۔ رَب کے معانی میں سے ایک معنی مالک ہے۔ چنانچہ جوہری نے الصحاح میں کہا ہے رب کل شیء مالکہ ۔ ہر شئی کا رب وہی ہے جو اس کا مالک ہے۔ لہٰذا یہ لفظ جہاں حقیقی مالک اللّٰہ کے لیے استعمال ہوتا ہے وہاں اس کے دیگر معنوں میں استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جیسا کہ لفظ اولیاء طاغوت کے لیے استعمال ہوا ہے: وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَوْلِيٰۗــــُٔــھُمُ الطَّاغُوْتُ اور اللہ کے لیے بھی اَللہُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۔(بقرۃ :257) لہٰذا یہ اعتراض درست نہیں کہ ایک پیغمبر نے بادشاہ کو رَب کیسے کہ دیا۔

علل و اسباب کے ساتھ متوسل ہونا اخلاص و توکل کے منافی نہیں۔ لہٰذا حضرت یوسف علیہ السلام کا قید سے رہائی کے لیے وسائل و ذرائع تلاش کرنا اخلاص و توکل کے منافی نہیں ہے۔


وَ قَالَ الۡمَلِکُ اِنِّیۡۤ اَرٰی سَبۡعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاۡکُلُہُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٌ وَّ سَبۡعَ سُنۡۢبُلٰتٍ خُضۡرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ ؕ یٰۤاَیُّہَا الۡمَلَاُ اَفۡتُوۡنِیۡ فِیۡ رُءۡیَایَ اِنۡ کُنۡتُمۡ لِلرُّءۡیَا تَعۡبُرُوۡنَ﴿۴۳﴾

۴۳۔ اور (ایک روز) بادشاہ نے کہا: میں نے خواب میں سات موٹی گائیں دیکھی ہیں جنہیں سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات سبز خوشے ہیں اور سات خشک (خوشے)، اے دربار والو! اگر تم خوابوں کی تعبیر کر سکتے ہو تو میرے اس خواب کی تعبیر سے مجھے آگاہ کرو۔

43۔ قرآن حضرت یوسف علیہ السلام کے معاصر مصری بادشاہ کو الۡمَلِکُ کہتا ہے اور بائبل اسے فرعون کہتی ہے جبکہ حضرت یوسف علیہ السلام کے معاصر بادشاہ عربی النسل تھے اور لفظ فرعون مصریوں کی مذہبی اصطلاح ہے۔ لہٰذا عربی النسل بادشاہان کو فرعون کہنا سراسر حقیقت کے خلاف ہے۔ اس سے قرآن کی حقانیت اور بائبل کے مؤلفین کی جہالت اور ان کی طرف سے تحریف ثابت ہو جاتی ہے۔

چنانچہ توریت میں آیا ہے: اور فرعون جاگا اور دیکھا کہ وہ خواب تھا اور یوں ہوا کہ صبح اس کا جی گھبرایا۔ تب اس نے مصر کے سارے جادوگروں اور اس کے سب دانشمندوں کو بلا بھیجا اور فرعون نے اپنا خواب ان سے کہا، پر ان میں کوئی فرعون کے خواب کی تعبیر نہ کر سکا۔ (پیدائش 41: 8)


قَالُوۡۤا اَضۡغَاثُ اَحۡلَامٍ ۚ وَ مَا نَحۡنُ بِتَاۡوِیۡلِ الۡاَحۡلَامِ بِعٰلِمِیۡنَ﴿۴۴﴾

۴۴۔ انہوں نے کہا: یہ تو پریشان خوابوں میں سے ہے اور ہم اس قسم کے خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے۔

44۔ حضرت یوسف علیہ السلام صرف تعبیر پر اکتفا نہیں فرماتے، بلکہ ساتھ آنے والے حالات کے لیے منصوبہ بندی بھی فرماتے ہیں۔ ورنہ خواب کی تعبیر تو یہ بنتی ہے کہ موٹی گائیں نعمت کی فراوانی اور سبز خوشے اچھی کھیتی باڑی کی علامت ہیں۔ دبلی گائیں اور خشک خوشے قحط کی علامت ہیں۔ سات موٹی گائیوں کا سات دبلی گائیوں کو کھانا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قحط کے سات سالوں میں وہی غلہ کھانا ہے جو گزشتہ سات سالوں میں جمع کر رکھا ہو اور خشک خوشے اس بات کی بھی علامت ہیں کہ فصلوں کو خوشوں کے اندر محفوظ رکھا جائے تاکہ اتنی لمبی مدت میں خراب نہ ہوں۔ ان باتوں کے علاوہ دو دیگر باتوں کا حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنی فراست یا وحی کے ذریعے ذکر فرمایا: ایک یہ کہ قحط کے سالوں میں کچھ دانے بیج کے لیے محفوظ رکھنا ہوں گے ورنہ خشک سالی ختم ہونے پر بھی زراعت نہ ہو سکے گی۔ دوسری بات یہ ہے کہ سات سالوں کے بعد شادابی شروع ہو گی۔

داستان یوسف میں تین خواب قابل توجہ ہیں :I یوسف کا خواب II۔ قیدی کا خواب III۔ بادشاہ کا خواب اور تین کرتے قابل توجہ ہیں :I خون آلود کرتہ II۔ وہ کرتا جس کا دامن چاک تھا۔ III۔ وہ کرتا جس سے یعقوب علیہ السلام کو بینائی ملی۔