Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

اِنۡ تُعَذِّبۡہُمۡ فَاِنَّہُمۡ عِبَادُکَ ۚ وَ اِنۡ تَغۡفِرۡ لَہُمۡ فَاِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ﴿۱۱۸﴾

۱۱۸۔ اگر تو انہیں عذاب دے تو یہ تیرے ہی بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو تو ہی غالب آنے والا حکمت والا ہے۔

118۔ فَاِنَّہُمۡ عِبَادُکَ اگر تو انہیں عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں۔ اس تعبیر میں ایک قسم کی رحم طلبی ہے اور ساتھ آداب بندگی کا اظہار بھی ہے کہ یہ تیرے ہی بندے ہیں۔ ان پر صرف تیرا حکم نافذ ہے۔


قَالَ اللّٰہُ ہٰذَا یَوۡمُ یَنۡفَعُ الصّٰدِقِیۡنَ صِدۡقُہُمۡ ؕ لَہُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ ؕ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ﴿۱۱۹﴾

۱۱۹۔ اللہ نے فرمایا: یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کو ان کی سچائی فائدہ دے گی، ان کے لیے ایسی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں جن میں وہ ابد تک ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں، یہی بڑی کامیابی ہے۔

119۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جواب سچائی کا ایک اعلی نمونہ ہے کہ بروز قیامت اللہ کی بارگاہ میں جو بیان دیا وہ سب حق پر مبنی تھا اور وہ اپنی ساری باتوں میں صادق القول نکلے۔ آخرت میں اللہ کے سامنے صادق القول وہ ہو سکتے ہیں جنہوں نے دنیا میں کوئی نافرمانی نہ کی ہو۔

اس کے بعد ایسے صادق القول افراد کے بارے میں جنت کی بشارت کے بعد فرمایا: رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ ان سے اللہ راضی ہو گا۔ حقیقی بندوں کے لیے اللہ کی رضایت کے مقابلہ میں جنت کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔


لِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا فِیۡہِنَّ ؕ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ﴿۱۲۰﴾٪

۱۲۰۔ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان موجود ہے سب پر اللہ کی سلطنت ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔


بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

بنام خدائے رحمن رحیم


اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوۡرَ ۬ؕ ثُمَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِرَبِّہِمۡ یَعۡدِلُوۡنَ ﴿۱﴾

۱۔ ثنائے کامل اللہ کے لیے ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تاریکیوں اور روشنی کو بنایا، پھر بھی یہ کافر (دوسرے دیوتاؤں کو) اپنے رب کے برابر لاتے ہیں۔


ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ طِیۡنٍ ثُمَّ قَضٰۤی اَجَلًا ؕ وَ اَجَلٌ مُّسَمًّی عِنۡدَہٗ ثُمَّ اَنۡتُمۡ تَمۡتَرُوۡنَ﴿۲﴾

۲۔ اسی نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر ایک مدت کا فیصلہ کیا اور ایک مقررہ مدت اس کے پاس ہے، پھر بھی تم تردد میں مبتلا ہو۔

2۔ انسانی جسم کی تخلیق میں زمینی عناصر استعمال ہوئے ہیں اور اس میں کوئی عنصر ایسا نہیں ہے جو ارضی نہ ہو۔آیت کے دوسرے جملے میں دو مدتوں کا ذکر ہے۔ ایک غیر معین مدت اور ایک معین مدت۔ چنانچہ انسانی زندگی میں دو قسم کے عوامل سامنے آتے ہیں، ایک طبیعی اور دوسرا غیر طبیعی۔ انسان بھی ایک مشین ہے جو قدرتی طور پر ایک معین مدت تک کے لیے بنائی گئی ہے۔ جس طرح مشین کی زندگی کا دار و مدار مشین بنانے والے پر ہے جس کی روسے بنانے والا گارنٹی دے سکتا ہے، لیکن کسی حادثے کی صورت میں اس مشین کی زندگی مختصر ہو سکتی ہے، جس کا دار و مدار حالات پر ہے۔ بالکل اسی طرح انسان کو اللہ نے طبیعی لحاظ سے ایک مدت کے لیے بنایا ہے۔ اس مدت کے بعد انسان کو حتمی طور پر مرنا ہے، جسے ”اجل محتوم“ کہتے ہیں۔ لیکن غیر طبیعی علل و اسباب کی وجہ سے انسان کی عمر مختصر ہو سکتی ہے، یہ مدت غیر معین ہے۔ چونکہ اس کا دار و مدار حالات پر ہے، لہٰذا اسے ”اجل غیر حتمی“ کہتے ہیں۔ ”اجل محتوم“ ناقابل تغییر ہے، جبکہ ”غیر حتمی اجل“ قابل تغیر ہے۔


وَ ہُوَ اللّٰہُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ یَعۡلَمُ سِرَّکُمۡ وَ جَہۡرَکُمۡ وَ یَعۡلَمُ مَا تَکۡسِبُوۡنَ﴿۳﴾

۳۔ اور آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی وہی ایک اللہ ہے، وہ تمہاری پوشیدہ اور ظاہری باتوں کو جانتا ہے اور تمہارے اعمال کو بھی جانتا ہے۔

3۔ تمام مشرک قوموں کے مشرکانہ عقائد کی رد میں فرمایا: زمین کا دیوتا الگ اور آسمان کا دیوتا الگ نہیں ہوتا بلکہ آسمانوں اور زمین پر ایک ہی اللہ کی حکمرانی ہے۔


وَ مَا تَاۡتِیۡہِمۡ مِّنۡ اٰیَۃٍ مِّنۡ اٰیٰتِ رَبِّہِمۡ اِلَّا کَانُوۡا عَنۡہَا مُعۡرِضِیۡنَ﴿۴﴾

۴۔ اور ان کے رب کی نشانیوں میں سے جو بھی نشانی ان کے پاس آتی ہے یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔


فَقَدۡ کَذَّبُوۡا بِالۡحَقِّ لَمَّا جَآءَہُمۡ ؕ فَسَوۡفَ یَاۡتِیۡہِمۡ اَنۡۢبٰٓؤُا مَا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ﴿۵﴾

۵۔ چنانچہ جب حق ان کے پاس آیا تو انہوں نے اسے بھی جھٹلا دیا، پس جس چیز کا یہ لوگ مذاق اڑاتے ہیں اس کی خبر عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گی۔

4۔5۔ مشرکین اور مفاد پرستوں کا ہمیشہ یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ الہی پیغام کی تکذیب کرتے ہیں اور جب بھی حق کا پیغام ان کے پاس آیا اس کا مذاق اڑایا۔جدید جاہلیت بھی آیات الہی، تعلیمات قرآن اور اسلام کے نظام حیات کا مطالعہ کیے بغیر دین اور دین والوں کا مذاق اڑاتی ہے۔

ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ خبردار فرماتا ہے کہ جس حق بات کا یہ لوگ مذاق اڑا رہے ہیں اس کا انہیں عنقریب علم ہو جائے گا۔ دنیا میں حق کی فتح و نصرت کی خبر سنیں گے اور آخرت میں عذاب الہی کے ذریعے اس مذاق کا مزہ چکھنا ہو گا۔


اَلَمۡ یَرَوۡا کَمۡ اَہۡلَکۡنَا مِنۡ قَبۡلِہِمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ مَّکَّنّٰہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ مَا لَمۡ نُمَکِّنۡ لَّکُمۡ وَ اَرۡسَلۡنَا السَّمَآءَ عَلَیۡہِمۡ مِّدۡرَارًا ۪ وَّ جَعَلۡنَا الۡاَنۡہٰرَ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہِمۡ فَاَہۡلَکۡنٰہُمۡ بِذُنُوۡبِہِمۡ وَ اَنۡشَاۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِیۡنَ﴿۶﴾

۶۔ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی ایسی قوموں کو نابود کر دیا جنہیں ہم نے زمین میں وہ اقتدار دیا تھا جو ہم نے تمہیں نہیں دیا؟ اور ہم نے ان پر آسمان سے موسلادھار بارشیں برسائیں اور ان کے نیچے نہریں جاری کر دیں پھر ہم نے ان کے گناہوں کے سبب انہیں ہلاک کر دیا اور ان کے بعد ہم نے اور قومیں پیدا کیں۔