Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

خُلِقَ مِنۡ مَّآءٍ دَافِقٍ ۙ﴿۶﴾

۶۔ وہ اچھلنے والے پانی سے خلق کیا گیا ہے،


یَّخۡرُجُ مِنۡۢ بَیۡنِ الصُّلۡبِ وَ التَّرَآئِبِ ؕ﴿۷﴾

۷۔ جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں سے نکلتا ہے۔

7۔ آیت کا اشارہ ممکن ہے اس بات کی طرف ہو کہ مرد کے مادہ تولید کو مرد کے صلب (ریڑھ کی ہڈیوں) سے اور عورت کے تخم دان کو تَّرَآئِبِ (سینے کی ہڈیوں) سے بنیادی مواد فراہم ہوتے ہیں۔ بعض اہل تحقیق کا نظریہ ہے کہ صُّلۡبِ اور تَّرَآئِبِ دونوں کا تعلق مرد سے ہے، چونکہ اچھلنے والا پانی مرد کی طرف سے ہوتا ہے۔ عورت کا تخم تو مقاربت سے پہلے تخم دان سے جدا ہو چکا ہوتا ہے۔ پانچ دن تک انتظار میں رہتا ہے۔ اس اثنا میں مقاربت ہوئی تو حمل ٹھہر سکتا ہے۔ لہٰذا صُّلۡبِ اور تَّرَآئِبِ دونوں کو مرد میں تلاش کرنا چاہیے۔ کہتے ہیں تَّرَآئِبِ ان ہڈیوں کو کہتے ہیں، جن سے نطفہ گزر کر پیشاب کی نالی میں وارد ہوتا ہے۔ والعلم عند اللہ ۔ بہرحال یہ قرآن کا اعلان ہے، جس کی حقیقت کا انکشاف آنے والی نسلیں کریں گی۔


اِنَّہٗ عَلٰی رَجۡعِہٖ لَقَادِرٌ ؕ﴿۸﴾

۸۔ بے شک اللہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔

8۔ جو ذات ریڑھ اور سینے کی ہڈیوں سے نطفہ بنا سکتی ہے، وہ اس انسان کو مٹی کے ذرات سے بھی دوبارہ بنا سکتی ہے۔


یَوۡمَ تُبۡلَی السَّرَآئِرُ ۙ﴿۹﴾

۹۔ اس روز تمام راز فاش ہو جائیں گے۔

9۔ دنیا میں تو اللہ ستار العیوب ہے، کیونکہ یہ دارالامتحان ہے، لیکن دار الجزاء میں تو بہت سے لوگوں کے راز فاش ہو جائیں گے۔ دنیا میں نیک اور صالح بن کر لوگوں کو دھوکہ دینے والے قیامت کے روز رسوا ہو جائیں گے۔


فَمَا لَہٗ مِنۡ قُوَّۃٍ وَّ لَا نَاصِرٍ ﴿ؕ۱۰﴾

۱۰۔ لہٰذا انسان کے پاس نہ کوئی قوت ہو گی اور نہ کوئی مددگار ہو گا۔


وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجۡعِ ﴿ۙ۱۱﴾

۱۱۔ قسم ہے بارش برسانے والے آسمان کی،

11۔ الرَّجۡعِ رجوع سے ہے۔ بارش کو رجع اس لیے کہتے ہیں کہ زمین سے اٹھنے والا بخار واپس زمین کی طرف بارش بن کر آتا ہے۔


وَ الۡاَرۡضِ ذَاتِ الصَّدۡعِ ﴿ۙ۱۲﴾

۱۲۔ اور (دانہ اگانے کے لیے) شق ہونے والی زمین کی،


اِنَّہٗ لَقَوۡلٌ فَصۡلٌ ﴿ۙ۱۳﴾

۱۳۔ یہ (قرآن) یقینا فیصلہ کن کلام ہے،


وَّ مَا ہُوَ بِالۡہَزۡلِ ﴿ؕ۱۴﴾

۱۴۔ اور یہ ہنسی مذاق نہیں ہے۔


اِنَّہُمۡ یَکِیۡدُوۡنَ کَیۡدًا ﴿ۙ۱۵﴾

۱۵۔ بے شک یہ لوگ اپنی چال چل رہے ہیں