Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

بِاَیۡدِیۡ سَفَرَۃٍ ﴿ۙ۱۵﴾

۱۵۔ یہ ایسے (فرشتوں کے) ہاتھوں میں ہیں

15۔ یہ تدوین ایسے فرشتوں کے ہاتھوں انجام پائی ہے جو عزت والے اور نیک ہیں۔


کِرَامٍۭ بَرَرَۃٍ ﴿ؕ۱۶﴾

۱۶۔ جو عزت والے، نیک ہیں۔


قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَکۡفَرَہٗ ﴿ؕ۱۷﴾

۱۷۔ ہلاکت میں پڑ جائے یہ انسان، یہ کس قدر ناشکرا ہے۔


مِنۡ اَیِّ شَیۡءٍ خَلَقَہٗ ﴿ؕ۱۸﴾

۱۸۔ (یہ نہیں سوچتا کہ) اسے اللہ نے کس چیز سے بنایا ہے؟


مِنۡ نُّطۡفَۃٍ ؕ خَلَقَہٗ فَقَدَّرَہٗ ﴿ۙ۱۹﴾

۱۹۔ نطفے سے بنایا ہے پھر اس کی تقدیر بنائی،

19۔ خلقت کے بعد تقدیر یعنی ایک نظام میں پابند کر دینے کا عمل انجام پایا۔ اس نظام کے تحت انسان کی رہنمائی بھی اسی فطرت و جبلت میں ودیعت ہوئی جسے اگلی آیت میں بیان فرمایا: ثُمَّ السَّبِیۡلَ یَسَّرَہٗ یہ فطرت کا راستہ ہے جو ہر ایک کے لیے میسر ہے۔


ثُمَّ السَّبِیۡلَ یَسَّرَہٗ ﴿ۙ۲۰﴾

۲۰۔ پھر اس کے لیے راستہ آسان بنا دیا۔


ثُمَّ اَمَاتَہٗ فَاَقۡبَرَہٗ ﴿ۙ۲۱﴾

۲۱۔ پھر اسے موت سے دوچار کیا پھر اسے قبر میں پہنچا دیا۔


ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَہٗ ﴿ؕ۲۲﴾

۲۲۔ پھر جب اللہ چاہے گا اسے اٹھالے گا۔

17 تا 22۔ یہ لفظ اظہار نفرت کے لیے استعمال ہوا ہے جیسے ہم مردہ باد کہتے ہیں۔ اس کے بعد کلمہ تعجب استعمال ہوا ہے کہ انسان کس قدر منکر حق ہے! ایک حقیر بوند سے پیدا ہونے والی یہ مخلوق اپنی تقدیر کی مالک نہیں ہے۔ یعنی بہت سی باتوں میں یہ بے بس ہے۔ اپنے اوصاف و خصلت، موت و حیات اور آفت و مرض وغیرہ میں مقید اور محدود ہونے کے باوجود انکار کی یہ حالت؟ جبکہ اللہ تعالیٰ نے راہ ہدایت کا حصول آسان بنا دیا۔ پھر چند روز روئے زمین پر چلنے پھرنے کے بعد اس قدر بے بس کہ زمین میں دفن ہو جاتا ہے، پھر جواب طلبی کے لیے اٹھایا جاتا ہے۔ اس قدر بے بس انسان اس قدر منکر؟


کَلَّا لَمَّا یَقۡضِ مَاۤ اَمَرَہٗ ﴿ؕ۲۳﴾

۲۳۔ ہرگز نہیں! اللہ نے جو حکم اسے دیا تھا اس نے اسے پورا نہیں کیا۔


فَلۡیَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰی طَعَامِہٖۤ ﴿ۙ۲۴﴾

۲۴۔ پس انسان کو اپنے طعام کی طرف نظر کرنی چاہیے،

24۔ خاک کا سینہ شق کر کے اللہ کس طرح انسان کے لیے طعام کا انتظام فرماتا ہے۔ پہلے اس پر پانی کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے جس سے زمین کی روئیدگی بیدار ہو جاتی ہے اور دانہ شق ہو کر پھلتا پھولتا ہے۔ پھر مختلف دانے اور میوے فراہم ہوتے ہیں۔