Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

اَلَمۡ یَکُ نُطۡفَۃً مِّنۡ مَّنِیٍّ یُّمۡنٰی ﴿ۙ۳۷﴾

۳۷۔ کیا وہ (رحم میں) ٹپکایا جانے والا منی کا ایک نطفہ نہ تھا؟


ثُمَّ کَانَ عَلَقَۃً فَخَلَقَ فَسَوّٰی ﴿ۙ۳۸﴾

۳۸۔ پھر لوتھڑا بنا پھر (اللہ نے ) اسے خلق کیا پھر اسے معتدل بنایا۔


فَجَعَلَ مِنۡہُ الزَّوۡجَیۡنِ الذَّکَرَ وَ الۡاُنۡثٰی ﴿ؕ۳۹﴾

۳۹۔ پھر اس سے مرد اور عورت کا جوڑا بنایا۔


اَلَیۡسَ ذٰلِکَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤی اَنۡ یُّحۡیِۦَ الۡمَوۡتٰی﴿٪۴۰﴾

۴۰۔ کیا اس ذات کو یہ قدرت حاصل نہیں کہ مرنے والوں کو زندہ کرے؟

40۔ جب ایک بوند سے انسان بنا سکتا ہے تو وہ بوسیدہ ہڈیوں سے کیوں نہیں بنا سکتا۔ جب کہ ہڈیوں اور اس مردہ انسان کی تمام خاصیتیں اس کے D.N.A میں ہوتی ہیں۔ اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ مستقبل میں اعادﮤ حیات کا راز انسانوں پر منکشف ہو جائے گا۔


بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

بنام خدائے رحمن رحیم

سورہ دھر

یہ سورہ جمہور کے نزدیک مدنی ہے۔ حضرت ابن عباس کی ایک روایت میں ہے کہ یہ مکی ہے، حالانکہ خود حضرت ابن عباس کی ایک اور روایت ابن ضریس، ابن مردویہ اور بیہقی نے نقل کی ہے، جس میں صریحاً مذکور ہے کہ یہ سورہ مدنی ہے۔


ہَلۡ اَتٰی عَلَی الۡاِنۡسَانِ حِیۡنٌ مِّنَ الدَّہۡرِ لَمۡ یَکُنۡ شَیۡئًا مَّذۡکُوۡرًا﴿۱﴾

۱۔ کیا زمانے میں انسان پر ایسا وقت آیا ہے جب وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا؟

1۔ ایک حالت تو وہ تھی جس میں زمانہ بھی موجود نہ تھا۔ حدیث میں آیا ہے: کان اللہ ولم یکن معہ شیٔ (بحار الانوار54: 233) اللہ اس حال میں بھی تھا جب کہ کچھ بھی نہ تھا۔ بعد میں زمانہ وجود میں آیا، لیکن اس طویل زمانے میں انسان موجود نہ تھا۔ اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ انسان کو عدم کے بعد وجود میں لایا گیا ہے۔


اِنَّا خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ اَمۡشَاجٍ ٭ۖ نَّبۡتَلِیۡہِ فَجَعَلۡنٰہُ سَمِیۡعًۢا بَصِیۡرًا﴿۲﴾

۲۔ ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا کہ اسے آزمائیں، پس ہم نے اسے سننے والا، دیکھنے والا بنایا۔

2۔ انسان کو مخلوط نطفہ، یعنی جرثومۂ پدر اور تخم مادر کے اختلاط سے بننے والے ابتدائی خلیہ (Cell) سے وجود میں لایا اور امتحان و ارتقاء کی خاطر اسے سمیع و بصیر بنایا گیا۔


اِنَّا ہَدَیۡنٰہُ السَّبِیۡلَ اِمَّا شَاکِرًا وَّ اِمَّا کَفُوۡرًا﴿۳﴾

۳۔ ہم نے اسے راستے کی ہدایت کر دی خواہ شکر گزار بنے اور خواہ ناشکرا۔

3۔ راہ حق دکھانے کا کام اللہ نے اپنے ذمے لیا۔ اس پر چلنے کا کام انسان کے ذمے ڈال دیا گیا اور اس کو راہ حق پر چلنے پر مجبور نہیں کیا گیا، بلکہ اس کو خود مختاری دے دی گئی۔


اِنَّاۤ اَعۡتَدۡنَا لِلۡکٰفِرِیۡنَ سَلٰسِلَا۠ وَ اَغۡلٰلًا وَّ سَعِیۡرًا﴿۴﴾

۴۔ ہم نے کفار کے لیے زنجیریں اور طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔


اِنَّ الۡاَبۡرَارَ یَشۡرَبُوۡنَ مِنۡ کَاۡسٍ کَانَ مِزَاجُہَا کَافُوۡرًا ۚ﴿۵﴾

۵۔ نیکی کے مرتبے پر فائز لوگ ایسا مشروب پئیں گے جس میں کافور کی آمیزش ہو گی۔

5۔ 5 سے 22 تک کی آیات اہل بیت علیہ السلام رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شان میں نازل ہوئیں۔