Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ ثِیَابَکَ فَطَہِّرۡ ۪﴿ۙ۴﴾

۴۔ اور اپنے لباس کو پاک رکھیے


وَ الرُّجۡزَ فَاہۡجُرۡ ۪﴿ۙ۵﴾

۵۔ اور ناپاکی سے دور رہیے


وَ لَا تَمۡنُنۡ تَسۡتَکۡثِرُ ۪﴿ۙ۶﴾

۶۔ اور احسان نہ جتلا کہ (اپنے عمل کو) بہت سمجھنے لگ جائیں


وَ لِرَبِّکَ فَاصۡبِرۡ ؕ﴿۷﴾

۷۔ اور اپنے رب کی خاطر صبر کیجیے،

1 تا 7۔ ان دونوں سورتوں میں حالت تزمل اور حالت تدثر کے بعد قیام کا حکم آتا ہے۔ یعنی عزلت اور خلوت و راحت کا وقت ختم ہوا اور اب قیام کا وقت آ گیا ہے۔ قیام کو جن عناصر و ارکان پر مشتمل ہونا چاہیے، ان کا بھی ذکر آیا۔ وہ ہیں: i۔ انذار و تنبیہ: سب سے پہلے شرک و کفر سے لاحق ہونے والے خطرات سے تنبیہ۔ ii۔ تکبیر: اللہ کی کبریائی کا ذکر ہے کہ وہ اکبر من ان یوصف یعنی وصف و بیان کی حد سے بڑا ہے۔ iii۔تطہیر: لباس کی تطہیر۔ یعنی تمام مظاہر کی تطہیر۔ iv۔ ہجر: تمام ناپاکیوں سے دوری۔ v۔ عدم امتنان: لوگوں کو نجات کی راہ دکھانے پر احسان جتلا کر اپنے عمل کو کثیر تصور کرنا بندگی کے شایان شان نہیں ہے بلکہ یہ خود پسندی ہے۔ امامیہ مصادر میں حدیث ہے: المن یھدم الصَّنیعۃ ۔ (الکافی4: 22 باب المن) احسان جتلانے سے نیکی برباد ہو جاتی ہے۔ vi۔صبر: صبر و حوصلہ کے ساتھ رب کو خاطر میں رکھو تو مشکل آسان ہو جائے گی۔


فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوۡرِ ۙ﴿۸﴾

۸۔ اور جب صور میں پھونک ماری جائے گی،


فَذٰلِکَ یَوۡمَئِذٍ یَّوۡمٌ عَسِیۡرٌ ۙ﴿۹﴾

۹۔ تو وہ دن ایک مشکل دن ہو گا۔


عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ غَیۡرُ یَسِیۡرٍ﴿۱۰﴾

۱۰۔ وہ کفار پر آسان نہ ہو گا۔


ذَرۡنِیۡ وَ مَنۡ خَلَقۡتُ وَحِیۡدًا ﴿ۙ۱۱﴾

۱۱۔ مجھے اور اس شخص کو (نبٹنے کے لیے) چھوڑ دو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا،

11 تا 30۔ یہ تعبیر عام ہے ہر کافر کے لیے۔ ساتھ اشارہ ہے مکہ کے ایک شخص ولید بن مغیرہ کی طرف جو دولت مند اور کثیر الاولاد تھا۔ ان میں خالد بن ولید زیادہ مشہور ہے۔ اسی نے مشورہ دیا تھا کہ حج کے لیے آنے والوں میں مشہور کرو کہ محمد صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جادوگر ہیں (نعوذ باللّٰہ)۔ اس سلسلے میں ولید کو حضور صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خلاف مؤقف تراشنے میں جس کشمکش کا سامنا کرنا پڑا، قرآن نے نہایت وضاحت کے ساتھ اس کی تصویر کشی کی ہے کہ ولید نے کہا تھا: ہم اس شخص کو کاہن، شاعر اور ساحر نہیں کہ سکتے۔ ابوجہل کے کہنے پر اس نے سوچ کر کہا: اس کو جادوگر کہنا ہی سب سے زیادہ مناسب ہے۔ (نعوذ باللّٰہ)


وَّ جَعَلۡتُ لَہٗ مَالًا مَّمۡدُوۡدًا ﴿ۙ۱۲﴾

۱۲۔ اور میں نے اس کے لیے بہت سا مال دیا،


وَّ بَنِیۡنَ شُہُوۡدًا ﴿ۙ۱۳﴾

۱۳۔ اور حاضر رہنے والے بیٹے بھی،