Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ یَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہٰذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ﴿۲۵﴾

۲۵۔ اور وہ کہتے ہیں: اگر تم سچے ہو تو بتاؤ یہ وعدہ کب پورا ہو گا؟

25۔ یعنی وہ اس بات کو ناممکن اور نامعقول سمجھتے تھے کہ قیامت کا کوئی دن آنے والا ہے۔


قُلۡ اِنَّمَا الۡعِلۡمُ عِنۡدَ اللّٰہِ ۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ﴿۲۶﴾

۲۶۔ کہدیجئے: علم تو صرف اللہ کے پاس ہے جب کہ میں تو صرف واضح تنبیہ کرنے والا ہوں۔


فَلَمَّا رَاَوۡہُ زُلۡفَۃً سِیۡٓـَٔتۡ وُجُوۡہُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ قِیۡلَ ہٰذَا الَّذِیۡ کُنۡتُمۡ بِہٖ تَدَّعُوۡنَ﴿۲۷﴾

۲۷۔ پھر جب وہ اس وعدے کو قریب پائیں گے تو کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے اور کہا جائے گا: یہی وہ چیز ہے جسے تم طلب کرتے تھے۔


قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ اَہۡلَکَنِیَ اللّٰہُ وَ مَنۡ مَّعِیَ اَوۡ رَحِمَنَا ۙ فَمَنۡ یُّجِیۡرُ الۡکٰفِرِیۡنَ مِنۡ عَذَابٍ اَلِیۡمٍ﴿۲۸﴾

۲۸۔ کہدیجئے: مجھے بتلاؤ کہ اگر اللہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے یا ہم پر رحم کرے تو کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچائے گا ؟

28۔ تم اس چند روزہ زندگی اور موت کے بارے میں سوچتے ہو جبکہ تمہیں اس دائمی عذاب کے بارے میں سوچنا چاہیے جس سے نجات دلانے والا خدائے رحمٰن کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔


قُلۡ ہُوَ الرَّحۡمٰنُ اٰمَنَّا بِہٖ وَ عَلَیۡہِ تَوَکَّلۡنَا ۚ فَسَتَعۡلَمُوۡنَ مَنۡ ہُوَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ﴿۲۹﴾

۲۹۔ کہدیجئے: وہی رحمن ہے جس پر ہم ایمان لا چکے ہیں اور اسی پر ہم نے بھروسہ کیا ہے، عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کون صریح گمراہی میں ہے۔


قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ اَصۡبَحَ مَآؤُکُمۡ غَوۡرًا فَمَنۡ یَّاۡتِیۡکُمۡ بِمَآءٍ مَّعِیۡنٍ﴿٪۳۰﴾

۳۰۔ کہدیجئے: مجھے بتاؤ کہ اگر تمہارا یہ پانی زمین میں جذب ہو جائے تو کون ہے جو تمہارے لیے آب رواں لے آئے؟

30۔ اگر زیر زمین موجود سطح آب گرنی شروع ہو جائے اور نیچے چلی جائے تو اسے اوپر لانے کے لیے تمہارے پاس کوئی ذریعہ ہے یا یہ کام صرف اللہ کر سکتا ہے ؟ غور کرو۔ پھر تم اس کی بندگی کیوں نہیں کرتے؟

مَّعِیۡنٍ بقولے فعیل بمعنی فاعل ہے۔ یعنی سہولت کے ساتھ جاری ہونے والے پانی کو کہتے ہیں مَعَنَ الۡمَآءِ پانی آسانی سے جاری ہوا۔


بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

بنام خدائے رحمن رحیم


نٓ وَ الۡقَلَمِ وَ مَا یَسۡطُرُوۡنَ ۙ﴿۱﴾

۱۔ نون، قسم ہے قلم کی اور اس کی جسے (لکھنے والے) لکھتے ہیں۔

1۔ معانی کو ایک دوسرے کے ذہن میں منتقل کرنے کی ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ خود معنی کو مخاطب کے سامنے پیش کیا جائے، لیکن یہ تو کبھی مشکل اور کبھی ناممکن ہوتا ہے۔ اس لیے انسان نے معانی کو الفاظ کے ذریعہ پھر الفاظ کو لکیروں (کتابت) کے ذریعے حاضر کرنے کا طریقہ ایجاد کیا۔ اس ایجاد کی عظمت کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے قلم و کتاب کے ساتھ قسم کھائی کہ قلم ہی کے ذریعے انسان نے تاریخ و تمدن میں قدم رکھا اور قلم ہی کے ذریعہ علوم و افکار محفوظ ہو گئے۔ ممکن ہے اس سے مراد قرآن مجید ہو، جو کاتبان وحی کے ذریعے مکی زندگی میں ضبط تحریر میں لایا جا رہا تھا۔ اس انسان ساز کتاب کو تحریر میں لانے والا مجنون نہیں ہے۔ اس سے خود ان لوگوں کے معیار عقل کا راز کھل جاتا ہے جو ایسے انسان کو مجنون کہتے ہیں۔


مَاۤ اَنۡتَ بِنِعۡمَۃِ رَبِّکَ بِمَجۡنُوۡنٍ ۚ﴿۲﴾

۲۔ آپ اپنے رب کے فضل سے دیوانے نہیں ہیں۔


وَ اِنَّ لَکَ لَاَجۡرًا غَیۡرَ مَمۡنُوۡنٍ ۚ﴿۳﴾

۳۔ اور یقینا آپ کے لیے بے انتہا اجر ہے۔