Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

فِیۡ کِتٰبٍ مَّکۡنُوۡنٍ ﴿ۙ۷۸﴾

۷۸۔ جو ایک محفوظ کتاب میں ہے،

78۔ وہ لوح محفوظ ہے، جس میں قرآن ہر قسم کے تغیر و تبدل سے محفوظ ہے۔ یعنی نزول قرآن سے پہلے وہاں ثبت اور محفوظ ہے۔


لَّا یَمَسُّہٗۤ اِلَّا الۡمُطَہَّرُوۡنَ ﴿ؕ۷۹﴾

۷۹۔ جسے صرف پاکیزہ لوگ ہی چھو سکتے ہیں۔

79۔ قرآن کی حقیقتوں تک رسائی پاکیزہ ہستیوں کے لیے ہی ممکن ہے۔ یعنی ایک تو وہ فرشتے جو اسے نازل کرتے ہیں، دیگر وہ ہستیاں جن کے گھروں میں قرآن نازل ہوا ہے اور جن کو اللہ نے پاکیزہ کیا ہے۔ تاہم لفظی اطلاق کے تحت غسل اور وضو کے ذریعے ظاہری طہارت حاصل کرنے والوں کے لیے ”مس“ کی اجازت ہے۔ فقہ جعفری کے مطابق وضو کے بغیر اور جنابت کی حالت میں نیز حیض کے دنوں میں قرآن کی تحریر کو ہاتھ لگانا جائز نہیں ہے۔


تَنۡزِیۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ﴿۸۰﴾

۸۰۔ یہ عالمین کے رب کی طرف سے نازل کردہ ہے۔


اَفَبِہٰذَا الۡحَدِیۡثِ اَنۡتُمۡ مُّدۡہِنُوۡنَ ﴿ۙ۸۱﴾

۸۱۔ کیا تم اس کلام کے ساتھ بے اعتنائی برتتے ہو؟


وَ تَجۡعَلُوۡنَ رِزۡقَکُمۡ اَنَّکُمۡ تُکَذِّبُوۡنَ﴿۸۲﴾

۸۲۔ اور تم تکذیب کرنے کو ہی اپنا حصہ قرار دیتے ہو؟

82۔ رِزۡقَکُمۡ : تم تکذیب کو اپنی روزی کا حصہ قرار دیتے ہو۔ دوسرا ترجمہ یہ ہو سکتا ہے: تم تکذیب کو اپنی غذا بنا لیتے ہو۔ تیسرا ترجمہ حذف مضاف کے تحت اس طرح ہو سکتا ہے: تم رزق کے شکر کی جگہ تکذیب کو رکھتے ہو۔ ای۔۔ تجعلون شکر رزقکم ۔ (بحار الانوار 55: 312)


فَلَوۡ لَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الۡحُلۡقُوۡمَ ﴿ۙ۸۳﴾

۸۳۔ پس جب روح حلق تک پہنچ چکی ہوتی ہے،


وَ اَنۡتُمۡ حِیۡنَئِذٍ تَنۡظُرُوۡنَ ﴿ۙ۸۴﴾

۸۴۔ اور تم اس وقت دیکھ رہے ہوتے ہو،


وَ نَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَیۡہِ مِنۡکُمۡ وَ لٰکِنۡ لَّا تُبۡصِرُوۡنَ﴿۸۵﴾

۸۵۔ اور (اس وقت) تمہاری نسبت ہم اس شخص (مرنے والے) کے زیادہ قریب ہوتے ہیں لیکن تم نہیں دیکھ سکتے۔


فَلَوۡ لَاۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ غَیۡرَ مَدِیۡنِیۡنَ ﴿ۙ۸۶﴾

۸۶۔ پس اگر تم کسی کے زیر اثر نہیں ہو،

86۔ اگر تم کسی کے زیر اثر نہیں ہو تو حلق تک پہنچی ہوئی روح کو واپس کیوں نہیں کرتے۔


تَرۡجِعُوۡنَہَاۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ﴿۸۷﴾

۸۷۔ اور تم اپنی اس بات میں سچے ہو تو (اس نکلی ہوئی روح کو) واپس کیوں نہیں لے آتے؟