Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ تَبٰرَکَ الَّذِیۡ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا ۚ وَ عِنۡدَہٗ عِلۡمُ السَّاعَۃِ ۚ وَ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ﴿۸۵﴾

۸۵۔ اور بابرکت ہے وہ جس کے لیے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے سب کی بادشاہی ہے اور اسی کے پاس قیامت کا علم ہے اور تم سب اسی کی طرف پلٹائے جاؤ گے۔


وَ لَا یَمۡلِکُ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہِ الشَّفَاعَۃَ اِلَّا مَنۡ شَہِدَ بِالۡحَقِّ وَ ہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ﴿۸۶﴾

۸۶۔ اور اللہ کے سوا جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں وہ شفاعت کا کچھ اختیار نہیں رکھتے سوائے ان کے جو علم رکھتے ہوئے حق کی گواہی دیں۔


وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ خَلَقَہُمۡ لَیَقُوۡلُنَّ اللّٰہُ فَاَنّٰی یُؤۡفَکُوۡنَ ﴿ۙ۸۷﴾

۸۷۔ اور اگر آپ ان سے پوچھیں: انہیں کس نے خلق کیا ہے؟تو یہ ضرور کہیں گے: اللہ نے، پھر کہاں الٹے جا رہے ہیں۔


وَ قِیۡلِہٖ یٰرَبِّ اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ لَّا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿ۘ۸۸﴾

۸۸۔ اور (اللہ جانتا ہے) رسول کے اس قول کو: اے رب!یہ ایسے لوگ ہیں جو ایمان نہیں لاتے۔


فَاصۡفَحۡ عَنۡہُمۡ وَ قُلۡ سَلٰمٌ ؕ فَسَوۡفَ یَعۡلَمُوۡنَ﴿٪۸۹﴾

۸۹۔ پس ان سے درگزر کیجیے اور سلام کہدیجئے کہ عنقریب یہ جان لیں گے۔

89۔یعنی کفار کی طرف سے سخت مزاحمت اور گستاخی کے مقابلے میں حق کے داعی کا لہجہ سلام کا ہو۔ ساتھ ہی برے انجام کی طرف اتمام حجت کے طور پر ایک اشارہ بھی ہے: فَسَوۡفَ یَعۡلَمُوۡنَ ۔ انہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا۔

سلام کے مفہوم میں مفسرین میں اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک یہ امن و آشتی کا سلام ہے جو حکم قتال سے پہلے جائز و رائج تھا اور بعض کے نزدیک باہمی لا تعلقی کا سلام ہے۔


بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

بنام خدائے رحمن رحیم


حٰمٓ ﴿ۚۛ۱﴾

۱۔حا، میم ۔


وَ الۡکِتٰبِ الۡمُبِیۡنِ ۙ﴿ۛ۲﴾

۲۔ اس روشن کتاب کی قسم ۔


اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ اِنَّا کُنَّا مُنۡذِرِیۡنَ﴿۳﴾

۳۔ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں نازل کیا ہے، یقینا ہم ہی تنبیہ کرنے والے ہیں۔

3۔ مبارک رات سے مراد ماہ رمضان المبارک کی وہ رات ہے جو قدر کی رات سے موسوم ہے، جیسا کہ سورۃ القدر میں فرمایا: ہم نے اس قرآن کو قدر کی رات میں اتارا۔ سورہ بقرہ میں فرمایا: رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔ شب قدر میں قرآن نازل ہونے سے مراد کیا ہے؟ کہ اس رات قرآن کا نزول شروع ہوا؟ یا اس رات پورا قرآن حاملین وحی کے حوالے کیا گیا یا اس رات کو قرآن بیت المعمور میں نازل ہوا؟ یا اس رات کو پورا قرآن قلب رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ایک ساتھ نازل ہوا، پھر 23 سالوں تک تدریجاً بھی نازل ہوتا رہا؟ اس بارے میں نظریات مختلف ہیں۔ و العلم عند اللہ۔


فِیۡہَا یُفۡرَقُ کُلُّ اَمۡرٍ حَکِیۡمٍ ۙ﴿۴﴾

۴۔ اس رات میں ہر حکیمانہ امر کی تفصیل وضع کی جاتی ہے۔

4۔ اس آیت سے اور سورۃ القدر کی آیت: تَنَزَّلُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ وَ الرُّوۡحُ فِیۡہَا بِاِذۡنِ رَبِّہِمۡ ۚ مِنۡ کُلِّ اَمۡرٍ ۔ اس رات ملائکہ اور روح الامین اپنے رب کے اذن سے ہر بات کا حکم لے کر نازل ہوتے ہیں، سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے ملکوتی نظام میں ایک رات ایسی ہے، جس میں وہ تمام امور کے فیصلے صادر کرتا ہے۔